10045: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کا حکم


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار مثال کے طور پر مسجد نبوی کے در و دیوار وغیرہ سے تبرک حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟

الحمد للہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کیا جاتا تھا، مثال کے طور پر آپکے وضو کا پانی، آپ کے کپڑے، کھانے پینے کی اشیاء، الغرض آپکی ہر چیز سے، پھر عباسی خلفاء اور انکے بعد عثمانی خلفاء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کو تبرک کے طور پر محفوظ کیا ہوا تھا، خاص طور پر اس سے جنگوں میں تبرک حاصل کرتے۔

اسی طرح جس چیز سے آپکا جسد مبارک لگا ہو، جیسے وضوکا پانی ، پسینہ، بال وغیرہ سے تبرک حاصل کرنا بھی صحابہ کرام اور صحابہ کرام کے شاگردوں کے ہاں خیر و برکت کی وجہ سے ایک جائز اور معروف کام تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انکے اس عمل کو برقرار رکھا۔

جبکہ مسجد الحرام یا مسجد نبوی کے در و دیوار اور کھڑکیوں وغیرہ کو تبرکاً ہاتھ لگانا بدعت ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس لئے یہ کام چھوڑ دینا ضروری ہے، کیونکہ عبادات توقیفی ہوتی ہیں، چنانچہ وہی عبادت کی جاسکتی ہے جسے شریعت جائز قرار دے،اسکی دلیل فرمانِ رسالت: (ہمارے دین میں ایسی نئی بات ایجاد کی گئی جو دین میں نہیں تھی وہ مردود ہوگی)اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے، اور مسلم کی ایک روایت میں ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں معلق بالفاظِ جزم بیان کیا ہے: (جو کوئی ایسا عمل کرے جس کے کرنے کا حکم ہماری طرف سے نہیں تھا، تو وہ مردود ہوگا)

صحیح مسلم ہی میں اور جابر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں کہا کرتے تھے: (حمد وصلاۃ کے بعد: بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین راہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی ہے اور سارے کاموں میں بدترین کام بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے) اس بارے میں بہت زیادہ احادیث ہیں، چنانچہ مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر پابند رہیں، مثلاً: حجر اسود کا استلام اور بوسہ دینا، اور رکن یمانی کا صرف استلام کرنا۔

اسی لئے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے جب حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو فرمانے لگے: (میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نا نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان، اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا میں کبھی بھی تیرا بوسہ نہ لیتا)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کعبہ کے دیگر کونوں ، دیواروں، ستونوں کا استلام کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا، اور نہ ہی اسکے بارے میں راہنمائی فرمائی ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ شرک کے وسائل میں سے ہے۔

جبکہ حجرہ نبویہ کی دیواروں، کھڑکیوں، ستونوں اور دیواروں کو چھونا تو بالاولی ناجائز ہوگا کیونکہ آپ نے اسکی اجازت نہیں دی، اور نہ ہی اس کام کیلئے راہنمائی فرمائی ہے، پھر آپکے صحابہ نے بھی یہ کام نہیں کیا.

ماخوذ از كتاب: "مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لسماحة الشيخ العلامة عبد العزيز بن عبد الله بن باز رحمہ اللہ : ( 9/106)
Create Comments