Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
101310

لڑكى كا والد اور بھائى نماز ادا نہ كريں تو چھوٹا بھائى اس كى شادى كر دے ؟

ميں فرانس كى ايك لڑكى سے شادى كرنا چاہتا ہوں ليكن ميں خود كينڈا ميں رہتا ہوں، مشكل يہ درپيش ہے كہ اس كے ولى يعنى باپ اور بھائى بالكل نماز ادا نہيں كرتے، اس ليے اسے تنگى اور مشكل سے بچانے كے ليے كيا كيا جائے، اس كا صرف ايك بھائى نماز تو ادا كرتا ہے ليكن وہ اس سے چھوٹا بھى ہے اور بروقت نماز ادا نہيں كرتا، مجھے كيا كرنا چاہيے برائے مہربانى معلومات فراہم كريں، ميرے خيال ميں لڑكى تو اپنے دين پر بہت عمل پيدا ہے اور نيك و صالح بھى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

نكاح صحيح ہونے كے ليے شرط ہے كہ عورت كا ولى يا اس كى جانب سے مقرر كردہ وكيل عقد نكاح كے امور سرانجام دے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

ابو موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ولى كے بغير نكاح نہيں ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2085 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1101 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1881 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں سے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس عورت نے بھى اپنے والى كى اجازت كے بغير نكاح اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے اور اگر جھگڑا كريں تو جس كا ولى نہ ہو اس كا حاكم ولى ہے "

مسند احمد حديث نمبر ( 24417 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2083 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1102 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2709 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

دوم:

اگر عورت مسلمان ہو تو علماء كا اجماع ہے كہ اس كے ولى كا مسلمان ہونا شرط ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كافر شخص كو مسلمان عورت پر كسى بھى حالت ميں ولايت حاصل نہيں، اس پر علماء كا اجماع ہے جن ميں امام مالك اور امام شافعى اور ابو عبيد اور اصحاب الرائے شامل ہيں.

اور ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ہم نے جس سے بھى علم حاصل كيا ہے ان سب كا اس پر اجماع ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 9 / 377 ).

سوم:

اگر تو نماز كا انكار كرتے ہوئے نماز چھوڑے تو بالاجماع كافر ہے، اور اگر سستى و كاہلى كى بنا پر ترك كرتا ہے تو اس كے كافر ہونے ميں علماء كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور راجح يہى ہے جس پر كتاب و سنت اور صحابہ كرام كے اقول دلالت كرتے ہيں كہ وہ كافر ہے.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 5208 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر جو بےنماز ہے اس كا كسى مسلمان عورت كا نكاح ميں ولى بننا جائز نہيں.

اس ليے يہ ولايت اس سے منتقل ہو كر اس كے بعد والے ولى يعنى دادا كو مل جائيگى اور اگر دادا نہ ہو يا پھر وہ بھى ولايت كے ليے صحيح نہ ہو تو عورت كے سگے بھائي ولى ہونگے اور اگر ان ميں سے چھوٹا نمازى ہو اور وہ بالغ ہو تو وہ ولى بنے گا، وگرنہ ولايت اس كے بعد والے ولى ميں منتقل ہو جائيگى يعنى بھائى كے بيٹوں اور پھر چچا اور پھر ان كے بيٹوں اور پھر شرعى قاضى اگر ہو "

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 48992 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اس مسئلہ ميں حرج ختم كرنے كے ليے ممكن ہے كہ اس كا بھائى اس كا نكاح ميں ولى بنے يا پھر وہ جس كا ولى بننا صحيح ہے ـ جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے ـ اور يہ نكاح دو عادل گواہوں كى موجودگى ميں ہو، تو يہ نكاح صحيح ہو گا.

ليكن اس عورت كے والد كا نكاح ميں ولى بن كر نكاح كرنا صحيح نہ ہوگا، اور اس ميں كوئى حرج نہيں كہ وہ اس كے ساتھ ہى كرے تا كہ مشكل ختم ہو، اور اس كے ساتھ ساتھ اسے نماز كى پابندى كرنے كى دعوت ديں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو توفيق نصيب كرے اور صحيح راہ كى راہنمائى كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments