Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
101549

مردوں كے ليے سونا حرام ہونے كى حكمت

ميرے ايك ہندو ملازم ساتھى كا سوال ہے كہ مسلمان مردوں كے ليے سونا پہننا كيوں جائز نہيں، اور اس ميں كيا حكمت ہے ؟

الحمد للہ:

اللہ تعالى كى شريعت ايسے احكام لائى ہے جو بندے كى دنياوى اور دينى مصلحتوں كے مطابق ہيں، كيونكہ يہ شريعت اس خالق كى جانب سے نازل كردہ ہے جس نے اسے پيدا كيا ہے، خالق كو علم ہے كہ كيا چيز اس كے ليے نقصان دہ ہے، اور كيا چيز اس كے ليے فائدہ مند ہے، اور كيا اسے خراب كرےگى، اور كس ميں اس كى مصلحت پنہا ہے.

ليكن اس شرعى احكام كے پيچھے كيا حكمت ركھى ہے، اور يہ حكمت بعض اوقات ہر ايك كے سامنے ظاہر ہو سكتى ہے، اور بعض اوقات ظاہر نہيں ہوتى، بلكہ مومن شخص تو اللہ كے حكم كے سامنے سرخم تسليم كرتے ہوئے احكام پر عمل كرنے كا مامور ہے، كيونكہ اللہ تعالى پر اس كے پروردگار اور الہ ہونے كے ايمان كا تقاضا بھى يہى ہے، اس وجہ سے كافر كو چاہيے كہ پہلے وہ اس ايمان كو تسليم اور قبول كرے، اور اس كے بعد پھر شرعى احكام اور اصولوں ميں حكمت كے متعلق غور خوض كرے.

خصوصا اس سوال كے جواب ميں ہم يہ كہينگے كہ:

يقينا اللہ جل شانہ نے انسان كو پيدا كيا اور ا سكا جوڑا بناتے ہوئے اسے مرد اور عورت بنايا، اور ہر ايك كے ليے كچھ خصائص ركھے جو اس كے كام كے مناسب ہيں، جو زندگى ميں اس كے سپرد كيے گئے ہيں، تو مرد كے كچھ ايسے كام اور اعمال ہيں جن كى عورت استطاعت نہيں ركھتى، اور اسى طرح عورت كے ساتھ بھى كچھ ايسے كام كاج خاص ہيں جن كى مرد استطاعت نہيں ركھتا.

اور جب معاملہ ايسا ہى ہے تو پھر كامل حكمت يہى ہے كہ مرد و عورت ميں ہر ايك ان وضائف كے ليے وہى كچھ تيار كرے جس كا وہ تقاضا اور مطالبہ كرے.

اور يہ تو معلوم ہى ہے كہ سونا ايك چيز ہے جس سے انسان زينت اختيار كرتا ہے، تو اس طرح يہ زينت اور زيور ہوا، اور مرد سے يہ چيز مقصود و مطلوب نہيں، يعنى مرد ايسا انسان نہيں كہ وہ اس كے بغير كامل نہ ہوتا ہو، بلكہ مرد اس كے بغير بھى كامل نفس ہے، كيونكہ اس ميں مردانگى پائى جاتى ہے، اس ليے اسے اس كى ضرورت نہيں كہ وہ كسى دوسرے شخص كے ليے زينت اور بناؤ سنگھار كرے تا كہ وہ اس كو چاہے اور ا سكا اس سے تعلق قائم ہو.

ليكن اس كے برخلاف عورت بناؤ سنگھار كى محتاج ہے، تا كہ خاوند اور بيوى كے مابين معاشرت كى دعوت قائم ہو، جس سے خاوند كے ليے بيوى كى چاہت پيدا ہو، اس ليے عورت كے ليے سونے وغيرہ سے بناؤ سنگھار كرنا مباح كيا گيا ہے، تا كہ مرد كى رغبت اس عورت كے ساتھ معلق ہو اور وہ بيوى كى چاہت كرے، تو اس طرح نكاح كا مقصد حاصل ہوتا ہے، اور نكاح كا مقصد جنس بشرى كى حفاظت ہے، چنانچہ زينت و زيبائش اور بناؤ سنگھار عورت كے شايان شان اور اسى كے لائق ہے.

ليكن مرد كے حق ميں يہ چيز قابل مذمت اور عيب شمار ہوتى ہے، اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ كيا جو زيورات ميں پليں اور پرورش كريں، اور جھگڑے ميں ( اپنى بات ) واضح نہ كر سكيں ﴾الزخرف ( 18 ).

اہل علم نے اس سوال كا جو جواب ديا ہے ا سكا خلاصہ يہى ہے جو اوپر كى سطور ميں بيان ہوا ہے، جيسا كہ علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوى ابن عثيمين ( 11 / 60 ) ميں ذكر كيا ہے.

اور جب سونا، اور زيب و زينت ايك ايسا معاملہ ہے جو عورت كى طبيعت اور اس كے كام كے مناسب ہے، جس پر اللہ تعالى نے اسے پيدا فرمايا ہے، تو ظاہرى حكمت يہى تھى كہ مرد كو اس سونے كے استعمال سے منع كر ديا جائے، كہ وہ اسے استعمال كرنے ميں عورت سے مشابہت اختيار نہ كرے.

علامہ ابن قيم رحمہ اللہ تعالى " اعلام الموقعين " ميں رقمطراز ہيں:

" اور اسى طرح مردوں پر سونے اور ريشم كى حرمت ہے، يہ اس ليے حرام كيا گيا ہے كہ عورتوں سے مشابہت كا دروازہ بند كيا جائے" انتہى.

ديكھيں: اعلام الموقعين ( 2 / 109 ).

اس وقت عجوبہ تو يہ ہے كہ آپ بہت سارے نوجوان لڑكوں كو ديكھينگے كہ وہ سونے كى زنجير، اور چين وغيرہ پہن كر زينت اختيار كرتے پھرتے ہيں، بلكہ بعض كو آپ ديكھينگے كہ وہ اپنے چہرے پر ميك اپ كرواتے ہيں، اور يہ فطرت كے بالكل برعكس ہے، اور مردانگى و رجوليت اور ہوشيارى و بلندى كے منافى ہے، جن كا مرد ميں پايا جانا ضرورى ہے.

اسى ليے آپ كسى عقل مند جو اچھے قسم كے اعمال كرنے والے ہيں كو ايسا كرتے ہوئے نہيں پائينگے، بلكہ ايسا كام يا تو وہ كرتے ہيں جو ہم جنس پرست ہوں، يا پھر جن كے نفس ميں كمى پائى جاتى ہو، اور ان كے پاس فارغ وقت ہو، تو وہ اپنے نفس اور وقت كى فراغت كو اس سے پر كرنے كى كوشش كرتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments