Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
10163

تین موضوع احادیث

مندرجہ ذیل احادیث لوگوں میں مشہورہیں انکی صحت کیسی ہے :
وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے ۔
اللہ تعالی شبہ سے چالیس پیداکرے گا ۔
جس نے غرق ہونے والی عورت کوبچایا وہ اس کی بہن ہے ۔ ؟

الحمد للہ
ہمارے دورمیں ضعیف اور موضوع احادیث اوراسی طرح باطل آثار اور مختلف قسم کی حکایت کی بھرمار ہوچکی ہے ، اور انہیں بلابحث وتحقیق اور صحت کا لحاظ رکھے بغیرنقل کرنے کی عادت بن چکی ہے جو کہ شرعا حرام اور عقلا قبیح ہے ۔

یہ تینوں احادیث موضوع ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ لگائ گئ ہیں ، لھذا انہیں روایت کرنا حرام ہے اور نہ ہی انہیں بیان کیا جاسکتا ہے لیکن لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کہ یہ احادیث موضوع ہیں بیان کی جاسکتی ہیں ۔

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں حدیث بیان کی ہے کہ:

عن علی بن عیاش حدثنا حریز قال قال حدثنی عبدالواحدبن عبداللہ النصری قال سمعت واثلۃ بن الاسقع :

واثلۃ بن الاسقع بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( سب سے بڑا افتراء یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے یا پھر وہ دکھاۓ جو آنکھوں نے دیکھا نہیں یا پھر نبی صلی علیہ وسلم ذمہ وہ بات لگاۓ جو انہوں نے نہیں فرما‏ئ) صحیح بخاری حدیث نمبر( 3509 )

اورامام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے صحیح بخاری میں اور مسلم رحمہ اللہ تعالی نے مقدمہ مسلم میں ابوحصین عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ راوایت بیان کی ہے :

ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جس نے میرے ذمہ جان بوجھ کرجھوٹ لگایا تو اس نے اپناٹھکانا جہنم میں بنا لیا ) صحیح بخاری ( 110 ) صحیح مسلم ( 3 ) ۔

اورجوبھی موضوع اورباطل احادیث وحکایات بیان کرتا ہے اور ان میں سے باطل اورموضوع اور صحیح اور حق بات کی تعیین نہیں کرتا وہ اس وعید اور گناہ میں شامل ہے ۔

سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب ( تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص ، صفحہ 167 ) یہ ذکرکیا ہے کہ :

جوشخص باطل احادیث بیان کرتا ہے وہ کوڑوں کامستحق ہے بلکہ اسے اس سےبھی زیادہ سزا ملنی چاہیے اوراس کا بائیکاٹ کیا جاۓ اور اسے سلام بھی نہ کیا جاۓ اوراللہ کے لیے اس کی غیبت کی جاۓ اور حاکم کے پاس شکایت کی جاۓ اوراس پرعدم روایت کا حکم لگایا جاۓ کہ وہ روایت بیان نہیں کرسکتا اور اس کے خلاف گواہی دی جاۓ ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا دفاع اور جھوٹی خبروں کی نفی اوران جھوٹے قصے کہانیوں سے افراد اور معاشرے کے بچا‎ؤ کے لیے یہ سب کچھ کرنا چاہیے ۔ ہم اللہ تعالی سے سلامتی وعافیت کے طلبگارہیں ۔ .

الشیخ سلیمان بن ناصر العلوان
Create Comments