Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
101907

خاوند نے بيوى كو طلاق دى اور دعوى كرتا ہے كہ وہ نشہ كى حالت ميں تھا

ميرے خاوند نے مجھے موبائل پر ميسج ميں كہا تجھے طلاق، اور پھر مجھے كہنے لگا: يہ تو غصہ كى بنا پر تھا يہ پہلى طلاق تھى اس نے مجھ سے رجوع كر ليا، اور اس كے ايك ہفتہ بعد اس نے مجھے ميسج بھيجا " تجھے طلاق تجھے طلاق " دو بارہ طلاق كے الفاظ لكھے، اور بعد ميں ميرے سامنے قسم اٹھا كر اعتراف كيا كہ وہ دونوں بار نشہ كى حالت ميں تھا تو كيا يہ طلاق واقع ہو جائيگى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اس ليے كہ آپ ايسے ملك ميں بستے ہيں جہاں شرعى عدالتيں موجود ہيں، اس ليے آپ كو چاہيے كہ آپ شرعى عدالت سے رجوع كريں تا كہ وہ آپ كے معاملہ پر غور كرے اور آپ كے خاوند كى كلام سن سكے، اور نشئ شخص كى طلاق واقع ہونے يا نہ ہونے ميں بحث كرے، اور آپ كو كتنى طلاقيں ہوئى ہيں كا فيصلہ صادر كرے.

خاوند كو چاہيے كہ وہ توبہ و استغفار كرتے ہوئے نشہ آور اشياء سے اجتناب كرے، اور قاضى كے سامنے حقيقت حاصل كو واضح كرے، اور نشہ كے مسئلہ كو قاضى سے مت چھپائے تا كہ قاضى ان كے درميان ازدواجى تعلقات كے باقى رہنے يا ختم ہونے كا كوئى فيصلہ كر سكے.

اور آپ پر لازم ہوتا ہے كہ اس مسئلہ ميں قاضى كے فيصلہ كرنے تك اپنے آپ كو خاوند كے سپرد مت كريں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص شراب نوشى كا عادى ہے ايك بار شراب نوشى كى اور نشہ كى حالت ميں بيوى كو طلاق دے دى تو كيا يہ نشہ كى حالت ميں دى گئى طلاق واقع ہوگى يا نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" عورت كا يہ سوال كہ: اس كے خاوند نے اسے نشہ كى حالت ميں طلاق دى ہے اسم سئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے كہ آيا نشہ كى حالت ميں طلاق واقع ہوتى ہے يا نہيں ؟

حنابلہ كا مشہور مسلك تو يہى ہے كہ شراب نوشى كى سزا ميں يہ طلاق واقع ہو جائيگى، كيونكہ يہ شراب شخص اللہ كا نافرمان ہے، اس ليے اس كى اس نافرمانى كے مقابلہ ميں اس سے تخفيف نہيں كرنى چاہيے كہ اس كى طلاق واقع نہيں ہوئى.

ليكن بعض علماء كرام كہتے ہيں: نشئ شخص كى نشہ كى حالت ميں دى گئى طلاق واقع نہيں ہوتى، امير المومنين عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ سے يہى مروى ہے، اور قياس كے بھى زيادہ لائق ہے كيونكہ نشہ كى حالت ميں آدمى كو اپنى بات كا علم نہيں ہوتا كہ وہ كيا كہہ رہا ہے، اس ليے اس پر وہ چيز كيسى لازم كى جائے جسے وہ جانتا ہى نہيں ؟

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو جب تم نشہ كى حالت ميں مست ہو نماز كے قريب بھى نہ جاؤ، جب تك كہ اپنى بات كو سمجھنے نہ لگو }النساء ( 43 ).

يہ آيت اس پر دلالت كرتى ہے كہ نشہ كى حالت ميں نشئى شخص كو علم نہيں ہوتا كہ و ہ كيا كہہ رہا ہے، اس ليے جس چيز كو وہ جانتا نہيں اسے اس پر كيسے لازم كيا جا سكتا ہے ؟

رہا ان كا يہ قول كہ: شراب نوشى كرنے والے كى سزا ہے، يہ بات صحيح نہيں كيونكہ شراب نوشى كرنے والے كو سزا دينى چاہيے جو كہ اسے مارنے زدكوب كرنے كى ہے جيسا كہ سنت نبويہ ميں ثابت ہے، ليكن اگر ہم اسے اس سزا ميں طلاق كو جارى كر كے ديتے ہيں تو حقيقت ميں يہ سزا اور نقصان تو عورت كو ہے، اس ليے علحدگى ہو جائيگى، اور ہو سكتا ہے عورت كى اولاد بھى ہو جس سے خاندان كا شيرازہ بكھر جائے گا اور شرابى كے علاوہ دوسروں كو بھى اس كا ضرر پہنچےگا.

اس ليے صحيح يہى ہے كہ نشئ شخص كى نشہ كى حالت ميں دى گئى طلا واقع نہيں ہوتى اور نہ ہى اس كے قول كا اعتبار كيا جائيگا، ليكن اس كے ساتھ ساتھ چاہيے كہ اس سلسلہ ميں شرعى عدالت سے رجوع كيا جائے كيونكہ ہم بيوى كو ساتھ رہنے يا عليحدہ ہونے كا شرعى حكم كے بغير حكم نہيں لگا سكتے جو اختلاف كو ختم كر سكے "

اللہ ہى توفيق دينے والا ہے. انتہى

ماخوذ از: فتاوى نور على الدرب.

شيخ رحمہ اللہ سے يہ بھى دريافت كيا گيا كہ:

ايك شخص نے نشہ كى حالت ميں بيوى كو طلاق دے دى ليكن وہ شخص كہتا ہے وہ بہت شديد نشہ كى حالت ميں تھا اور اپنى بات كو سمجھ بھى رہا تھا اور علم تھا كہ وہ كيا كہہ رہا ہے تو كيا اس كى طلاق واقع ہو جائيگى ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

نشہ كى حالت ميں دى گئى طلاق كے متعلق علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، كچھ علماء كرام تو كہتے ہيں كہ يہ طلاق واقع نہيں ہوتى، اور كچھ علماء كرام كى رائے ہے كہ يہ طلاق واقع ہو جاتى ہے.

اس طرح كا مسئلہ مشكل ہے؛ كيونكہ آدمى نشہ كى حالت ميں بھى ہو اور وہ اپنى كلام كو سمجھتا اور جانتا بھى ہو تو اسے عدالت ميں شرعى قاضى كے سامنے لازمى پيش كيا جائے تا كہ قاضى فيصلہ كر سكے.

ليكن اگر يہ پہلى يا دوسرى طلاق ہو تو خاوند كو كہا جائيگا: تم اس سے رجوع كر لو تا كہ شبہ ختم ہو سكے " انتہى

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 10 / 24 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments