102446: بيويوں كے مابين عدل اور ايك سے زائد بيويوں والے خاوند كے بعض سفرى احكام


كيا ايك سے زائد بيوياں ركھنے والے شخص كے ليے ہر بار سفر ميں دوسرى بيوى كو ساتھ لے جانا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس كى پہلى بيوى بچوں كى ديكھ بھال كى بنا پر سفر پر نہيں جا سكتى ؟
اور اگر اس بيوى كو محسوس ہو كہ خاوند اپنا وقت برابر تقسيم نہيں كرتا تو بيوى پر كيا لازم آتا ہے، اور كيا انٹرنيٹ پر كوئى ايسى ويب سائٹ ہے جس ميں ايك سے زائد شاديوں كے متعلق كلام كى گئى ہو ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ سبحانہ و تعالى نے ہر چيز ميں عدل و انصاف كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا ہے:

{ يقينا اللہ تعالى عدل و انصاف اور احسان كرنے كا حكم ديتا ہے}النحل ( 90 ).

ابن جرير طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اللہ سبحانہ و تعالى نے اس كتاب قرآن مجيد ميں اللہ نے اے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم آپ پر نازل فرمايا ہے ميں آپ كو عدل كا حكم ديا ہے اور يہ انصاف كرنے كو كہتے ہيں.

ديكھيں: تفسير الطبرى ( 17 / 279 ).

اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے بندوں پر ظلم حرام كيا ہے اور جو كوئى بھى ظلم كرے اس كو دنيا و آخرت ميں سزا كى وعيد سنائى ہے.

ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے رب تبارك و تعالى سے روايت كرتے ہوئے فرمايا اللہ كا فرمان ہے:

" اے ميرے بندو ميں نے اپنے اوپر ظلم كو حرام كيا ہے، اور تمہارے درميان بھى اسے حرام قرار ديا ہے لہذا تم ايك دوسرے پر ظلم مت كرو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2577 ).

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرنے كا حكم ديا ہے، اور كسى ايك پر ظلم كرنے والے كو شديد وعيد سنائى گئى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

 اور اگر تمہيں ڈر ہو كہ يتيم لڑكيوں سے نكاح كر كے تم انصاف نہ ركھ سكو گے تو اور عورتوں سے جو بھى تمہيں اچھى لگيں تم ان سے نكاح كر لو، دو دو، تين تين، چار چار سے، ليكن اگر تمہيں ڈر ہو كہ عدل نہ كر سكو گے تو ايك ہى كافى ہے يا پھر تمہارى ملكيت كى لونڈى يہ زيادہ قريب ہے كہ ايك طرف جھك جانے سے بچ جاؤ  النساء ( 3 ).

شيخ عبد الرحمن السعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

يعنى: جو دو بيوياں ركھنا پسند كرتا ہے وہ ركھے، اور جو تين پسند كرنا يا چار پسند كرتا ہے وہ ركھے ليكن چار سے زائد نہيں؛ كيونكہ آيت بطور امتننان لائى گئى ہے يعنى اللہ كے احسان كے سياق ميں لائى گئى ہے، اس ليے اللہ تعالى نے جو عدد بيان كيا ہے اس سے زائد ركھنا جائز نہيں اس پر اجماع ہے؛ اس ليے كہ ہو سكتا ہے مرد كى شہوت ايك بيوى سے پورى نہ ہو سكتى ہو، چنانچہ اس كے ليے ايك كے بعد دوسرى حتى كہ چار تك مباح كى گئى ہيں.

كيونكہ چار ميں ہر ايك كے ليے كفائت ہے ليكن نادرا كوئى ايسا ہو گا جسے چار كافى نہ ہوں، ليكن يہ چار بھى اس كے اس وقت مباح كى گئى ہيں جب اسے يہ خدشہ نہ ہو كہ وہ كسى پر ظلم كريگا بلكہ يقينى عدل و انصاف پايا جائے، اور ان كے حقوق كى ادائيگى كا وثوق ہو.

اور اگر اسے ان ميں سے كسى چيز كا خدشہ ہو تو اسے ايك پر ہى گزارا كرنا چاہيے، يا پھر لونڈى پر، كيونكہ لونڈى ميں تقسيم واجب نہيں ہے.

ذلك: يعنى ايك بيوى پر ہى اكتفا كرنا يا پھر لونڈى پر.

ادنى الا تعولوا: اس بات كے زيادہ قريب ہے كہ تم ظلم نہ كرو.

اس آيت كريمہ سے ظاہر ہوتا ہے كہ اگر بندے كو كوئى ايسا معاملہ پيش آ جائے جہاں اس سے ظلم و جور كے ارتكاب كا خدشہ ہو اور اسے اس بات كا خوف ہو كہ وہ اس معاملے كے حقوق پورے نہيں كر سكےگا خواہ يہ معاملہ مباحات كے زمرے ميں كيوں نہ آتا ہو تو اس كے ليے مناسب نہيں ہے كہ وہ اس معاملے ميں كوئى تعرض كرے، بلكہ اس سے بچاؤ اور عافيت كا التزام كرے، كيونكہ عافيت بہترين چيز ہے جو بندے كى عطا كى گئى ہے "

ديكھيں: تفسير السعدى ( 163 ).

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب كسى مرد كے پاس دو بيوياں ہوں اور وہ ان ميں عدل و انصاف نہ كرتا ہو تو روز قيامت اس حالت ميں آئيگا كہ ا سكا ايك حصہ ساقط ہو گا "

اور ايك روايت ميں ہے:

" اور اس كى ايك سائڈ مائل ہو گى "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1141 ) صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 1949 ).

شيخ مباركپورى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طيبى رحمہ اللہ اس كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

قولہ: و شقہ ساقط " يعنى اس كا آدھا حصہ مائل ہو گا، اور ايك قول يہ ہے كہ: وہ اس طرح كہ اسے ميدان ميں ديكھيں گے تا كہ يہ عذاب ميں زيادتى كا باعث ہو "

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى ( 4 / 248 ).

جو عورت بھى اپنے حساب پر خاوند كو كسى دوسرى بيوى كى طرف مائل ديكھے، يا اس كے حق پر ظلم كرتا ہوا ديكھے ت واسے خاوند كو اچھے اور بہتر طريقہ سے نصيحت كرنى چاہيے اور اسے اللہ كى جانب سے واجب كردہ حقوق كى عدل و انصاف كے ساتھ ادائيگى ياد دلائے، اور بتائے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ظلم كرنا حرام كيا ہے، اور اسى طرح اسے اپنى بہن سوكن كو بھى نصيحت كرنى چاہيے كہ وہ بھى ظلم كو قبول مت كرے، اور جو اس كا حق نہيں وہ مت لے، اميد ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى اسے عدل كرنے كى راہ دكھائے اور وہ ہر حقدار كو اس كا حق ادا كرنا شروع كر دے.

دوم:

بيويوں كے مابين عدل ميں يہ بات بھى شامل ہے كہ اگر خاوند سفر پر جانا چاہتا ہے تو وہ اپنے ساتھ لے جانے كے ليے بيويوں كے مابين قرعہ اندازى كرے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ يہى رہا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سفر پر جانا چاہتے تو اپنى بيويوں كے مابين قرعہ اندازى كرتے جس كا نام قرعہ اندازى ميں نكل آتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2454 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1770 ).

امام نووى رحمہ اللہ اس كى شرح ميں كہتے ہيں:

" اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جو كوئى بھى اپنى كسى ايك بيوى كو سفر ميں ساتھ لے جانا چاہے تو وہ ان كے مابين قرعہ اندازى كرے، ہمارے ہاں يہ قرعہ اندازى واجب ہے "

ديكھيں: شرح مسلم ( 15 / 210 ).

اور ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ قرعہ اندازى كيے بغير كسى ايك بيوى كو اپنے ساتھ سفر پر لے جانے كے ليے خاص كر لے "

ديكھيں: المحلى ( 9 / 212 ).

اور امام شوكانى رحمہ اللہ بھى يہى كہتے ہيں.

ديكھيں: السيل الجرار ( 2 / 304 ).

اور جب وہ سفر سے واپس لوٹے تو قرعہ اندازى سے ساتھ جانے والى عورت كا سفر والا وقت شمار نہيں ہو گا.

ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور جب خاوند سفر سے واپس پلٹے اور بيويوں ميں تقسيم دوبارہ شروع كرے تو اپنے ساتھ سفر پر جانے والى بيوى كے ساتھ سفر ميں رہنے والے ايام شمار نہيں كرےگا، اور اس بيوى كا سفر كى مشقت اور تكليف برداشت كرنا اور اس كے ساتھ رہنا اس كے حصے كے برابر ہوگا "

ديكھيں: المتھيد ( 19 / 266 ).

سوم:

اگر فرض كريں كہ كوئى بيوى اس كے ساتھ سفر پر جانے كى استطاعت نہيں ركھتى تو پھر اسے قرعہ اندازى ميں شامل كرنا بيكار ہے، كيونكہ وہ تو اس كے ساتھ سفر كى استطاعت ہى نہيں ركھتى، تو ـ اس حالت ميں ـ قرعہ اندازى ان بيويوں ميں ہو گى جو سفر كى قدرت ركھتى ہوں، لہذا جو سفر كى استطاعت نہيں ركھتى اور جو استطاعت ركھتى ہے ان ميں قرعہ اندازى نہيں كى جائيگى، يہ اس وقت ہے جب يہ چيز حقيقت پر مبنى ہو نہ كہ خيالى اور اس پر ظلم ہو؛ مثلا وہ بيمار ہو يا پھر اس كے پاس ايسے بچے ہوں جنہيں بغير ديكھ بھال كيے چھوڑنا مشكل ہو، يا پھر اس كے ليے سفر كرنا ممنوع ہو، يا اس طرح كا كوئى اور عذر پايا جائے، يہ نہيں كہ خاوند اس بيوى كے علاوہ دوسرى بيوى كے ساتھ سفر كرنا پسند كرتا ہو، كيونكہ اس طرح يہ ظلم كہلائےگا.

اس حالت ميں خاوند كو چاہيے كہ وہ دونوں بيويوں كو راضى كرے، چاہے جو بيوى اس كے ساتھ سفر پر نہيں گئى اسے سفر سے واپسى پر كچھ ايام سفر كے عوض ميں زيادہ دے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قرطبى رحمہ اللہ كا كہنا ہے: يہ عورتوں كى حالت مختلف ہونے كے اعتبار سے مختلف ہونا چاہيے، اور جب ان عورتوں كى حالت ايك جيسى ہو تو پھر ان كے ساتھ قرعہ اندازى كى مشروعيت مخصوص ہے؛ تا كہ وہ كسى ايك بيوى كو سفر پر نہ لے جائے اس طرح تو يہ ترجيح ہو گى جس كا كوئى سبب نہيں "

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 311 ).

اور ڈاكٹر احمد ريان كہتے ہيں:

" جب سب بيويوں كے ہر ناحيہ سے حالات ايك جيسے ہوں جس كى سفر اور حضر ميں حفاظت و رعايت ركھتا ہے تو پھر قرعہ اندازى متعين ہے، ليكن جب بيويوں كے حالات ميں كوئى فرق پايا جاتا ہو تو پھر كسى ايك كو اختيار كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن عدم ميلان اور عدم ضرر كى شرط ہے "

ديكھيں: تعدد الزوجات صفحہ نمبر ( 71 ).

اس كے علاوہ ہميں تو علم نہيں كہ انٹرنيٹ پر تعدد زوجات يعنى ايك سے زائد بيويوں كے متعلقہ مخصوص ويب سائٹ ہو، ليكن اتنا ہے كہ آپ ہمارى اسى ويب سائٹ پر موثوق فتاوى جات كا مطالعہ كر سكتے ہيں جس ميں ايك سے زائد بيوياں ركھنے كے احكام بيان كيے گئے ہيں.

ہم نے ايك سے زائد بيويوں كے متعلقہ مسائل كے متعلق اپنى اس ويب سائٹ پر مستقل قسم ركھى ہے اس كے ليے آپ درج ذيل لنك پر جا سكتے ہيں:

/ur/cat/355

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments