Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
102885

عاشورا كے موقع پر تيار كردہ كھانا تناول كرنا

كيا يوم عاشوراء كے موقع پر شيعہ كا پكايا ہوا كھانا تناول كرنا جائز ہے، ان كا كہنا ہے كہ يہ كھانا وہ اللہ كے ليے تقسيم كر رہے ہيں اور اس كا ثواب حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو پہنچايا جاتا ہے، پھر اگر ميں يہ كھانا نہ لوں تو مجھے نقصان پہنچنے كا خطرہ ہے اس ليے كہ ميں عراق ميں رہائش پذير ہوں اور آپ جانتے ہيں كہ وہ اہل سنت كے ساتھ كيا سلوك كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

يوم عاشوراء ميں شيعہ حضرات جو كھانا پكاتے اور ماتم كرتے اور سر زخمى كرتے ہيں يہ سب بدعات ميں شامل ہے، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 4033 ) اور ( 9438 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے، اس ميں نہ تو شركت كرنا جائز ہے، اور نہ ہى ايسا كرنے والوں كى معاونت كرنا، كيونكہ يہ گناہ و برائى اور ظلم و زيادتى پر تعاون ہے.

اور اسى طرح انہوں نے اس بدعت و گمراہى كے ليے جو كھانا تيار كيا ہے تناول كرنا بھى جائز نہيں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہ بہت ہى شنيع اور قبيع برائى اور بدعت ہے، اسے ترك كرنا واجب ہے، اور اس ميں شركت كرنا جائز نہيں، اور اس بدعت ميں جو كھانا پيش كيا جاتا ہے تناول كرنا جائز نہيں "

اور ايك مقام پر كہتے ہيں:

" اس ميں شريك ہونا جائز نہيں، اور نہ ہى اس كے ليے ذبح كردہ گوشت اور كھانا تناول كرنا جائز ہے، اور اس ميں پيش كردہ مشروبات نوش كرنا بھى جائز نہيں، اور اگر ذبح كرنے والا غير اللہ يعنى اہل بيت كے ليے ذبح كرتا ہے تو يہ شرك اكبر ہو گا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ كہہ ديجئے ميرى نماز اور ميرى قربانى اور ميرا زندہ رہنا اور ميرا مرنا اللہ رب العالمين كے ليے ہے، اس كا كوئى شريك نہيں اور مجھے اسى كا حكم ديا گيا ہے، اور ميں سب ماننے والوں ميں سب سے پہلا ہوں }الانعام ( 162 - 163 ).

اور فرمان بارى تعالى ہے:

{ يقينا ہم نے آپ كو حوض كوثر عطا كيا ہے، آپ اپنے رب كے ليے نماز ادا كريں اور قربانى كريں }الكوثر ( 1 - 2 ) انتہى.

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد العزيز بن باز ( 8 / 320 ).

ليكن اگر يہ كھانا قبول نہ كرنے ميں آپ كے ليے خطرہ ہو تو ضرر اور نقصان دور كرنے كے ليے يہ كھانے قبول كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments