Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
10358

جودس ھجری میں زندہ تھا وہ سوسال سے زيادہ زندہ نہيں رہا

کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت کردیں ؟
عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں عشاء کی نماز پڑھائ اور فرمانے لگے :
کیا تم اس رات کوجانتے ہو ؟ جوبھی اس وقت زمین پرموجود ہے وہ آج رات سے سوسال بعد تک باقی نہیں رہے گا ۔ صحیح بخاری

الحمد للہ
حدیث کا معنی واضح اورظاہر ہے ، اور وقوعات بھی اس کی تائيد کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ خبر دی ہے کہ اس دورمیں موجود لوگ سوبرس سے زيادہ زندہ نہیں رہیں گے ، اوربالفعل اس کا حصول بھی ہوا اورآخری صحابی ابوطفیل بن واثلہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات 110ھجری میں ہوتی ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی ایک صدی بعد ہے ۔

الشیخ سعد بن حمید ۔

سوال میں بیان کی گئ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے صحیح بخاری میں کچھ اس طرح بیان کی ہے :

عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری ایام میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائ جب سلام پھیراتو فرمانے لگے :

آج کی رات میں تمہیں یہ خبر دے رہا ہوں کہ صدی کی آخر میں اس وقت زمین میں پاۓ جانے والوں میں سے کوئ‏ بھی زندہ نہیں رہے گا ۔ صحیح بخاری ۔

ذیل میں ہم اس حدیث کی شرح پیش کرتے ہيں :

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے کا کہنا ہے :

( صلی بنا ) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کروائ ( زندگی کے آخری ایام میں ) اسے جابررضي اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مقید کیا گيا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ یہ واقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوموت سے ایک مہینہ قبل کا ہے ۔

( ارائیتکم ) یعنی کیا تم نے اس رات کوجان اورپہچان لیا ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( جوبھی زمین پر موجود ہے ) یعنی اس وقت جوبھی موجود ہے وہ اس وقت نہیں ہو گا ۔

ابن بطال کہتے ہیں کہ :

اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ مدت اس موجودہ نسل کو ختم کردے گی ، توانہیں اس بات کی نصیحت فرمائ‏ کہ تمہاری عمریں تھوڑی ہیں ، ان کے علم میں یہ لاۓ کہ ان کی عمریں اس طرح نہیں جس طرح پہلی امتوں کی تھی اس لیے وہ عبادت کرنے کی تگ دو کریں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس سے مراد یہ ہے کہ ہروہ ‎شخص جو اس رات زمین پرزندہ تھا وہ اس رات سے لیکر سوبرس سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا چاہے اس کی عمر اس سے قبل کم یا نہ ، اس میں اس رات کے بعد پیدا ہونے والے کی سوبرس زندگي کی نفی نہيں ہے ، واللہ تعالی اعلم ۔ انتھی ۔

اوریہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیوں میں سے جس میں انہوں نے مستقبل میں پیش آنے والے واقع کی خبر دی ہے اورفی الواقع ایسا ہی ہوا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ۔

اس حدیث سے علماء کرام نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اس میں ان صوفیوں کا بھی رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خضر علیہ السلام ابھی تک بقید حیات ہیں ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments