Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
10382

بیوی کے ہوتے ہوۓ لونڈی سے جماع کا حکم

کیا بیوی کے ساتھ تعلقات کے ہوتے ہوۓ لونڈی کے ساتھ جماع کرنا مسموح ہے ؟
آیا یہ صحیح ہے کہ بیوی کے ہوتے ہوۓ مرد کولونڈیوں سے جماع کا حق حاصل ہے ؟
میں نے پڑھا ہے کہ علی رضي اللہ تعالی عنہ کے پاس اٹھارہ 18 اورعمر رضي اللہ تعالی عنہ کے پاس بھی بہت سی لونڈیاں تھیں ، اورکیا بیوی کواس معاملہ میں کسی راۓ کا حق ہے ؟

الحمد للہ
دین اسلام نے مرد کےلیے چاہے وہ شادی شدہ ہو یا کنواراپنی لونڈی سے جماع کرنا مباح کیا ہے ۔

جماع کے لیے مخصوص لونڈي کوسريہ کہتے ہيں اوریہ السر سے ماخوذ ہے جس کا معنی نکاح ہے ۔

اس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں ، اورانبیاء علیھم السلام نے بھی اس کام کوسرانجام دیا ہے ، ابراھیم علیہ السلام نے ھاجر سے نکاح کیا جس سے اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوۓ ۔

اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ فعل ثابت ہے اوراسی طرح صحابہ کرام رضي اللہ عنھم اورعلماء و صالحون سب سےیہ فعل ثابت ہے ، اس پر سب علماء کرام کا اجماع ہے ، اور کسی ایک کے لیے بھی یہ حلال نہيں کہ وہ اس فعل کوحرام کرتا پھرے یا پھر اس سے منع کرے ۔

بلکہ جوبھی اس فعل کوحرام کہے گا وہ گنہگار اوراجماع کا مخالف ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہیں کرسکو گے تواور عورتوں میں سے جوبھی تمہیں اچھی لگيں تم ان سے نکاح کرلو ، دو دو ، تین تین ، چار چار سے ، لیکن اگر تمہیں برابری اورعدل قائم نہ کرسکنے کا ڈر ہوتوایک ہی کافی ہے ، یا پھر تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے کہ ( ایسا کرنے سے ناانصافی اور ) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ } النساء ( 3 ) ۔

اس آیت میں { ملکت ایمانکم } کا معنی ہے کہ جوتم لونڈیاں اپنی ملکیت میں لے لو ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

{ اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے آپ کے لیے آپکی وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں آپ ان کے مہر دے چکے ہيں ، اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالی نے غنیمت میں تجھے دی ہيں ، اورآپکے چچا کی بیٹیاں اورپھوپھو کی بیٹیاں اورآپ کے ماموں کی بیٹیاں اورتیری خالاؤں بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ھجرت کی ہے ، اور وہ باایمان عورت جواپنا نفس بنی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کوھبہ کردے یہ اس صورت میں کہ نبی خود بھی اس سے نکاح کرنا چاہے ، یہ خاص طور پر آپ کے لیے ہی ہے اورمومنوں کے لیے نہیں ، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارہ میں ( احکام ) مقرر کر رکھے ہيں ، یہ اس لیے کہ تجھ پر کوئي حرج واقع نہ ہو ، اوراللہ تعالی بہت بخشنے والا اور بڑے رحم والا ہے } الاحزاب ( 50 ) ۔

اورایک مقام پراللہ تعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہيں ، ہاں ان کی بیویوں اورلونڈیوں میں جن کے وہ مالک ہیں انہیں کوئي ملامت نہیں ، اب جوکوئي اس کے علاوہ کوئي اورراہ ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گزرنے والے ہوں گے } المعارج ( 29 – 31 ) ۔

امام طبری رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

اللہ جل ذکرہ کا فرمان ہے :

{ اوروہ لوگ جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہيں } یعنی وہ اللہ تعالی نے جوچيزان پرحرام کی ہے وہاں وہ اسے استعمال نہيں کرتے ، لیکن اگروہ اپنی بیویوں اورلونڈیوں پر استعمال کریں تو انہیں کوئي ملامت نہيں ۔

دیکھیں تفسیر الطبری ( 29 / 84 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

ابراھیم علیہ السلام کی شریعت میں بیوی کے ہوتے ہوۓ لونڈی سے جماع کرنا مباح تھا اورابراھیم علیہ السلام نے بھی جب سارہ رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوۓ ھاجر کے ساتھ یہ فعل کیا ۔ دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 1 / 383 ) ۔

اورایک دوسری جگہ پر ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کچھ اس طر رقمطراز ہیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اوروہ لونڈیاں بھی جواللہ تعالی نے آپ کوغنیمت میں دی ہیں } الاحزاب ( 50 ) ۔

یعنی آپ نے جوغنیمت سے لونڈیاں لی ہیں وہ بھی آپ کے لیے مباح ہیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں صفیہ ، جویریۃ ، رضی اللہ تعالی عنہن بھی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا تھا ، اور اسی طرح ریحانۃ بنت شمعون النضریۃ ، اورماریۃ قبطیۃ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراھیم رضي اللہ تعالی عنھم کی والدہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت اورمیں تھیں ۔ دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 3 / 500 ) ۔

اوراس پر علماء کرام کا بھی اس کی اباحت پر اجماع ہے ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

لونڈیوں کے ساتھ وطئی کرنے میں کسی قسم کا بھی اختلاف نہيں پایا جاتا اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہيں ، ہاں ان کی بیویوں اورلونڈیوں کے بارہ میں جن کے وہ مالک ہیں انہیں کوئي ملامت نہیں } ۔

ماریۃ قبطیۃ رضي اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراھیم رضي اللہ تعالی عنہ کی والدہ ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد تھیں جن کے بارہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ( اسے اس کے بیٹے نے آزاد کردیا ہے ) ۔

اوراسماعیل علیہ السلام کی والدہ ھاجر رضي اللہ تعالی عنہا بھی ابراھیم خلیل علیہ السلام کی سریۃ تھیں ، اورعمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ کی کئي ایک ام ولد تھیں جن کے بارہ میں انہوں نے ہرایک کے لیے چار‎سو کی وصیت فرمائي تھی ، اور اسی طرح علی رضی اللہ تعالی عنہ اوربہت سارے دوسرے صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم کے پاس بھی ام والد موجود تھیں ۔

علی بن حسین اورقاسم بن محمد اورسالم بن عبداللہ یہ سب ام ولد میں سے پیدا شدہ تھے ، یعنی علی ، قاسم ، اورسالم یہ تینوں لونڈیوں کی اولاد جسے ام ولد کہا جاتا ہے سے پیدا ہوۓ تھے ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامۃ ( 10 / 411 )

ام ولد اس لونڈی کو کہتے ہیں جس کے بطن سے اس کے مالک کی اولاد پیدا ہو۔

امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

فرمان باری تعالی ہے :

{ اوروہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں } الآیۃ الخ ۔

کتاب اللہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے شرمگاہوں کودومیں ایک وجہ کے ساتھ مباح قرار دیا ہے یا تو نکاح کے ساتھ اوریاپھر ملک یمین سے ۔ دیکھیں کتاب : الام للشافعی ( 5 / 43 ) ۔

اوررہا مسئلہ کہ آیا اس میں بیوی کا کوئی دخل اور راۓ ہے کہ نہيں تواس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ بیوی کی لونڈیوں کے ساتھ جماع کرنےمیں کوئي راۓ نہیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments