Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
10387

نماز حاجت

ميرا سوال نماز حاجت كے متعلق ہے:
يہ كتنى بار ادا كرنى چاہيے، اور اس كى ادائيگى كب ممكن ہے؟
كيا نماز حاجت اس وقت ادا كى جائے جس ميں دعاء كى قبولت متوقع ہو ؟

الحمد للہ :

مسلمان كے ليے مشروع يہ ہے كہ وہ اللہ تعالى كى عبادت اس طرح كرے جو اللہ تعالى نے كتاب اللہ ميں مشروع كى ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے حديث ميں ثابت ہے، اور اس ليے بھى كہ عبادت توفيقى ہوتى ہے، جس ميں كوئى كمى و بيشى نہيں ہو سكتى، اس ليے كسى بھى عبادت كے متعلق نہيں كہا جا سكتا كہ يہ عبادت مشروع ہے، ليكن جب صحيح دليل ہو تو مشروع كہا جا سكتا ہے.

جسے نماز حاجت كے سے موسوم كيا جاتا ہے، ـ ہمارے علم كے مطابق ـ يہ ضعيف اور منكر قسم كى احاديث ميں وارد ہے، جن احاديث سے كوئى حجت اور دليل نہيں لى جا سكتى، اور نہ ہى عمل كرنے كے ليے ان احاديث كو دليل بنايا جا سكتا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 162 ).

نماز حاجت كے متعلق وارد شدہ حديث يہ ہے:

عبد اللہ بن ابى اوفى اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ہمارے پاس رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم آئے اور فرمانے لگے:

جس كسى كو اللہ تعالى يا كسى مخلوق كے سامنے ضرورت اور حاجت ہو تو وہ شخص وضوء كر كے دو ركعت ادا كرے اور پھر يہ كہے:

" لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ أَسْأَلُكَ أَلا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلا غَفَرْتَهُ وَلا هَمًّا إِلا فَرَّجْتَهُ وَلا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلا قَضَيْتَهَا لِي "

اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، وہ حليم و كريم ہے، اللہ تعالى پاك ہے، جو عرش عظيم كا رب ہے، سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہيں، اے اللہ ميں تيرى رحمت كے واجب ہونے والى اشياء كا طالب ہوں اور تيرى مغفرت كا، اور ہر نيكى كى غنيمت چاہتا ہو، اور ہر گناہ سے سلامتى اے اللہ ميں تجھ سے سوال كرتا ہوں كہ ميرے سارے گناہ معاف كر دے، اور سارے غم اور پريشانياں دور كر دے، اور جس حاجت ميں تيرى رضا ہے وہ ميرے ليے پورى كر دے.

پھر دنياوى اور آخرت كے معاملات سے جو چاہے سوال كرے اسے ديا جائيگا"

سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ ( 138 ).

امام ترمذى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: يہ حديث غريب ہے، اس كى سند ميں مقال ہے: فائد بن عبد الرحمن حديث ميں ضعيف بيان كيا جاتا ہے، اور علامہ البانى رحمہ ا للہ تعالى كہتے ہيں: بلكہ يہ بہت ضعيف ہے، امام حاكم كہتے ہيں: ابو اوفى سے موضوع احاديث روايت كى ہيں.

ديكھيں: مشكاۃ المصابيح ( 1 / 417 ).

صاحب سنن و المبتدعات نے فائد بن عبد الرحمن كے متعلق امام ترمذى رحمہ اللہ تعالى كى كلام نقل كرنے كے بعد كہا ہے:

اور امام احمد كا كہنا ہے كہ: يہ متروك ہے..... اور ابن العربى نے اسے ضعيف كہا ہے.

اور ان كا كہنا ہے:

آپ كو اس حديث ميں جو مقال ہے اس كا علم ہو چكا ہے، اس ليے آپ كے ليے افضل اور بہتر اور سليم يہى ہے كہ آپ رات كے آخرى پہر اور اذان اور اقامت كے درميان اور نمازوں ميں سلام سے قبل اور جمعہ كے روز دعاء كريں كيونكہ يہ دعاء كى قبوليت كے اوقات ہيں، اور اسى طرح روزہ افطار كرنے كے وقت.

اور پھر آپ كے پروردگار جل شانہ كا فرمان ہے:

﴿تم مجھ سے دعا كرو ميں تمہارى دعاء قبول كرونگا﴾.

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿اور جب م0يرے بندے تجھ سے ميرے بارہ ميں سوال كريں تو انہيں كہہ ديں يقينا ميں قريب ہوں، دعا كرنے والے كى دعا كو قبول كرتا ہوں جب وہ مجھے پكارتا ہے﴾.

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿اور اللہ كے ليے اچھے اچھے نام ہيں، تم اسے ان ناموں سے پكارو﴾.

ديكھيں: كتاب السنن والمبتدعات للشقيرى ( 124 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments