104054: منگيتر پردہ نہيں كرنے ديتا


ميں تونس سے تعلق ركھتى ہوں مجھے ايك يہ مشكل درپيش ہے كہ ميرا منگيتر مجھے پردہ نہيں كرنے ديتا( چاہے وہ اس وقت رائج پردہ ہى ہو ) ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميں اس سے تعلق ركھوں يا كہ اس رشتہ سے انكار كر دوں، يہ علم ميں رہے كہ اكثر تونسى شہرى ايسے ہى ہيں ؟

الحمد للہ:

ہمارى عزيز بہن: ہمارى آپ كو وہى وصيت ہے جو اللہ سبحانہ و تعالى نے اول اور آخر سب لوگوں كو فرمائى ہے، اسى ميں دنيا و آخرت كى خير و بھلائى پائى جاتى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ يقينا ہم نے تم سے قبل اہل كتاب كو بھى اور تمہيں يہى وصيت كى ہے كہ اللہ كا تقوى اختيار كرو }النساء ( 131 ).

اگر اللہ سبحانہ و تعالى كى ناراضگى ہو تو اس ميں دنيا كى كونسى خير و بھلائى ہے، اور اگر اللہ سبحانہ و تعالى كى خوشنودى و رضا كى راہ نہ اختيار كى جائے تو كونسى سعادت ہوگى، اور كيا كوئى مومن شخص اس پر راضى ہو سكتا ہے كہ وہ اپنى دنيا آباد كر كے آخرت كو تباہ كر لے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اللہ تعالى كى تقوى اختيار كرتے ہوئے اللہ سے ڈر جاؤ، اور ہر كوئى نفس ديكھے كہ اس نے كل قيامت كے ليے آگے كيا بھيجا ہے، اور اللہ كا تقوى اختيار كرو، يقينا اللہ تعالى جو كچھ تم عمل كرتے ہو اس كى خبر ركھنے والا ہے، اور تم ان لوگوں كى طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے اللہ تعالى كو بھلا ديا تو اس نے انہيں ان كے نفسوں كو ہى بھلا ديا اور يہى لوگ فاسق ہيں، جہنم والے اور جنت والے دونوں برابر نہيں ہو سكتے، جنت والے ہى كامياب ہيں }الحشر ( 18 - 20 ).

جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مرد كو حكم ديا كہ وہ اپنے ليے دين و اخلاق كى مالك عورت بطور بيوى اختيار كرے، اور اسى طرح عورت كے اولياء كو بھى حكم ديا كہ وہ بھى دين والا آدمى اختيار كريں.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تمہارے پاس كسى ايسے شخص كا رشتہ آئے جس كے دين اور اخلاق كو تم پسند كرتے ہو تو تم اس سے شادى كر دو، اگر ايسا نہيں كرو گے تو پھر زمين ميں وسيع و عريض فساد بپا كھڑا ہو جائيگا " سنن ترمذى حديث نمبر ( 1084 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 1022 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور جو شخص عورت كو پردہ كرنے سے منع كرتا ہے نہ تو وہ صاحب اخلاق ہے اور نہ ہى صاحب دين جو اس كا مستحق ٹھرے كہ اس سے شادى كى جائے، بلكہ ظن غالب يہى ہے كہ جو شخص اپنى بيوى كو پردہ كرنے سے منع كرتا ہے تو وہ اس كے علاوہ دوسرے كبيرہ گناہوں ميں بھى تساہل سے كام ليتا ہو گا، اور حرام خور ہوگا، اور اللہ سبحانہ و تعالى كے احكام كى تعظيم نہيں كرتا.

اس طرح كا شخص اپنى بيوى اور اپنے گھر كى حفاظت كس طرح كر سكتا ہے، يا پھر وہ اپنى اولاد كى اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى پر كس طرح تربيت كر سكےگا حالانكہ وہ خود اللہ كى نافرمانى اور معصيت كر رہا ہے ؟

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" عورت كے ولى كے ليے اپنى ولايت ميں عورت كا نكاح صرف متقى اور نيك و صالح شخص سے ہى كرنا چاہيے " انتہى

ديكھيں: الوسوعۃ الفقھيۃ ( 24 / 62 ).

شيخ صالح الفوزان كا كہنا ہے:

" شادى كے وقت ايسے نيك و صالح خاوند اختيار كيے جائيں جو اپنے دين كا تمسك كرنے والے ہوں،اور شادى كى حرمت كا خيال كرنے والے اور حسن معاشرت ركھتے ہوں، اس معاملہ ميں سستى اور تساہل برتنا جائز نہيں.

ہمارے اس دور ميں اس سلسلہ ميں بہت زيادہ تساہل برتا جا رہا ہے جو كہ ايك خطرناك معاملہ ہے، اس طرح لوگ اب اپنى بيٹيوں كى شادى ايسے اشخاص كے ساتھ كرنے لگے ہيں جو نہ تو اللہ كا خوف ركھتے ہيں اور نہ ہى آخرت كے دن سے ڈرتے ہيں.

اور عورتيں اس طرح كے خاوندوں كى شكايات كرنے لگى ہيں، اور وہ ان خاوندوں كے معاملہ ميں پريشان ہيں، اگر ان كے اولياء شادى سے قبل ان كے ليے نيك و صالح افراد اختيار كرتے تو اللہ سبحانہ و تعالى آسانى فرماتا، ليكن اكثر اور غالب طور پر ايسا سستى اور تساہل كى بنا پر ہوا ہے، اور وہ نيك و صالح خاوند تلاش كرنے كى پرواہ ہى نہيں كرتے.

اس كے ليے براء شخص كبھى بھى صحيح نہيں، اور نہ ہى اس سلسلہ ميں سستى اور تساہل سے كام لينا جائز ہے كيونكہ وہ اپنى بيوى كے ساتھ برا سلوك كريگا، اور ہو سكتا ہے وہ اسے اس كے دين سے ہى دور كر دے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس كى اولاد پر بھى اثرانداز ہو " انتہى

ديكھيں: المنتقى ( 4 سوال نمبر 198 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عورت كے ولى پر واجب اور ضرورى ہے كہ جب اس كے پاس كسى شخص كا رشتہ آئے تو وہ اس شخص كے دين اور اخلاق كے بارہ ميں باز پرس كرے، اور اگر اس كا دين اور اخلاق پسند ہو تو اس سے اپنى بيٹى كى شادى كر دے، ليكن اگر اس كا دين اور اخلاق پسند نہ ہو تو پھر اس سے شادى مت كرے.

كيونكہ اللہ تعالى عنقريب اس كى بيٹى كے ليے كوئى ايسا رشتہ لے آئےگا جس كا دين اور اخلاق بھى پسند ہوگا، ليكن شرط يہ ہے كہ اگر ولى كى نيت ٹھيك ہو اور اس نے وہ رشتہ صرف اس ليے نہيں كيا كہ دين اور اخلاق كا مالك شخص آئے تو اس سے رشتہ كريگا، تو اللہ سبحانہ و تعالى اس كے ليے ايسا شخص ضرور لائيگا " انتہى

ديكھيں: فتاوى نور على الدرب النكاح / اختيار الزوج سوال نمبر ( 16 ).

ہمارى رائے تو يہى ہے كہ آپ اس رشتہ كو قبول مت كريں، اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو اس كا نعم البدل عطا فرمائيگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments