Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
106420

اگر خاوند اور بيوى ميں سے كوئى ايك لعنت كرے تو اس سے طلاق يا حرمت نہيں ہوتى

اگر كوئى شخص اپنى بيوى يا بيوى اپنے خاوند پر لعنت كرے تو كيا شادى كے اعتبار سے ايك دوسرے پر حرام ہو جاتے ہيں ؟

الحمد للہ:

لعنت كرنے پردونوں ہى ايك دوسرے پر حرام نہيں ہو جاتے، اور نہ ہى اس سے طلاق واقع ہوتى ہے، ليكن خاوند كا بيوى پر اور بيوى كا خاوند پر لعنت كرنا كبيرہ گناہ ہے اس سے دونوں كو توبہ كرنى واجب ہے، اور انہيں اس سے استغفار كرتے ہوئے ايك دوسرے سے معافى مانگنى چاہيے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 26 / 62 ).
Create Comments