Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
106479

بالغ ہونے كے باوجود روزے نہيں ركھ سكتى

ايك گيارہ برس كى لڑكى كو ماہوارى آنا شروع ہو چكى ہے ليكن اس كى صحت اتنى اچھى نہيں كہ وہ روزے ركھ سكے تو كيا اس پر بھى روزے ركھنے لازم ہيں، اور اگر نہ ركھ سكے تو كيا لازم آئيگا ؟

الحمد للہ:

اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا سوال ميں بيان كيا گيا ہے تو اس لڑكى پر روزے ركھنا فرض ہيں، كيونكہ حيض عورتوں كے ليے بالغ ہونے كى علامت ہے، اگر عورت كو نو برس يا اس سے زائد كى عمر ميں ماہوارى آنا شروع ہو جائے تو وہ بالغ كہلائيگى.

اس ليے اگر وہ روزہ ركھنے كى استطاعت ركھتى ہو تو اسے بروقت رمضان المبارك ميں ہى روزے ركھنا واجب ہونگے، اور اگر وہ ايسا كرنے سے عاجز ہو يا پھر اسے روزے ركھنے ميں شديد مشقت كا سامنا كرنا پڑتا ہو تو اس پر رمضان كے بعد قدرت ركھنے كے وقت ان ايام كى قضاء ميں روزے ركھنا واجب ہونگے جو اس نے رمضان ميں نہيں ركھے تھے " انتہى .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ و الافتاء ( 10 / 145 ).
Create Comments