106532: رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کی وجہ سے عورت پر بھی کفارہ عائد ہوگا؟


سوال: جس عورت کے ساتھ اسکے خاوند نے رمضان میں دن کے وقت جماع کیا ، تو کیا عورت پر بھی کفارہ لازم ہوگا؟

الحمد للہ:

رمضان میں دن کے وقت جماع کرنا بہت ہی سنگین جرم ہے، جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اسکا بیان پہلے سوال نمبر: (38023) کے جواب میں گذر چکا ہے۔

جس خاتون کیساتھ خاوند نے رمضان میں دن کے وقت جماع کیا ہے، وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہے:

پہلی حالت: کہ عورت بھول جائے، یا جبراً جماع کیا جائے، یا پھر اسے رمضان میں دن کے وقت جماع کے حرام ہونے کا علم نہ ہو تو اس بنا پر اسے معذور سمجھا جائے گا، اور ایسی حالت میں اسکا روزہ درست ہوگا، اسے قضا یا کفارہ نہیں دینا پڑے گا، یہ موقف ایک روایت کے مطابق امام احمد سے منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اسے ہی اپنایا ہے، موجودہ علمائے کرام میں سے ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

انہوں نے جن دلائل کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1- فرمان باری تعالی : (اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں ، یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمارا مؤاخذہ مت کرنا) البقرۃ/ 286

2- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے روزے کی حالت میں بھول کر کھا لیا تو وہ اپنا روزہ مکمل کرے، اسے اللہ تعالی نے ہی کھلایا پلایا ہے)متفق علیہ، ان علمائے کرام نے یہ کہا ہے کہ: جماع اور دیگر تمام روزہ افطار ی کا باعث بننی والی اشیاء کھانے پینے پر قیاس کی جائیں گی۔

3- ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے میری امت سے غلطی، بھول چوک، اور جبراًکروائے گئے [کام] معاف کردئیے ہیں) ابن ماجہ: (2045) البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے۔

ابن باز رحمہ اللہ سے ایسے خاوند کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کیساتھ زبردستی جماع کیا، تو انہوں نے جواب دیا:

"۔۔۔ اگر عورت کیساتھ زبردستی کی گئی توعورت پر کچھ نہیں ہوگا، اور اسکا روزہ بھی صحیح ہوگا"انتہی

"مجموع فتاوى ابن باز" (15/310)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ "الشرح الممتع" (6/404)میں رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کے بارے میں کہتے ہیں:

"اگر عورت لاعلمی، بھول چوک، یا جبر کی وجہ سے معذور ہو تو اس پر قضا نہیں ہوگی، اور نہ ہی کفارہ ہوگا"انتہی

دوسری حالت:

عورت کا کوئی قابل قبول عذر نہ ہو، بلکہ جماع کیلئے راضی ہو، تو ایسی حالت میں کفارہ لازم ہونے کے بارے میں علمائے کرام کے ہاں دو اقوال پائے جاتے ہیں:

پہلا قول:

اگر تو جماع پر راضی تھی تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں عائد ہونگے، یہی جمہور علمائے کرام کا موقف ہے، انہوں نے درج ذیل دلائل سے استدلال کیا ہے:

1- صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرنے والے شخص کو کفارے کا حکم دیا، اور اصول یہ ہے کہ مرد و خواتین احکامات میں ایک دوسرے کے مساوی ہوتے ہیں، الّا کہ شریعت کسی کو واضح لفظوں میں مستثنی قرار دے دے۔

2- اس خاتون نے بھی جماع کے ذریعے رمضان کی حرمت کو پامال کیا ہے، تو اس پر بھی مردوں کی طرح کفارہ لازم ہوگا۔

3- چونکہ کفارہ جماع سے متعلقہ سزا ہے، تو اس میں بھی زنا کی طرح مرد وخواتین کا ایک ہی حکم ہوگا۔

بہوتی رحمہ اللہ "شرح منتهى الإرادات" (1/486) میں کہتے ہیں:

"ایسی عورت جسے جماع کے حکم کا علم ہو، اسے بھول نہ لگی ہو، اور اسکے لئے راضی بھی ہو ، تو اس پر بھی مرد کی طرح قضا ، اور کفارہ لازم ہوگا، کیونکہ اس نے بھی رضا مندی کیساتھ رمضان کی حرمت کو جماع کے ذریعے پامال کیا ہے، اس لئے اسکا حکم بھی مرد جیسا ہی ہوگا"انتہی

دوسرا قول:

یہ ہے کہ کفارہ صرف خاوند کو ہی پڑے گا، وہ صرف اپنا کفارہ ادا کریگا، جبکہ عورت پر کچھ نہیں ہوگا، چاہے جماع کیلئے اس سے زبردستی کی گئی ہو، یا جماع کیلئے رضا مند ہو، یہی شافعی حضرات کا موقف ہے، اور امام احمد سے ایک روایت اسی کےمطابق بھی ملتی ہے۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو کفارے کا حکم دیا ، جبکہ عورت کے بارے میں کفارے کا ذکر بھی نہیں کیا، حالانکہ ضرورت کے وقت وضاحت میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔

اس دلیل کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ: عورت کیلئے کفارے کا ذکر اس لئے نہیں ہوا کہ مرد نے اپنے بارے میں فتوی پوچھا تھا، عورت نے نہیں پوچھا تھا، [اور یہ بھی ممکن ہے کہ] عورت اس قصہ میں لاعلمی یا جبر کی وجہ سے معذور ہو۔

چنانچہ راجح یہی ہے کہ عورت پر کفارہ واجب ہے، جیسے کہ مرد پر واجب ہے، اس قول کو شیخ عبد العزیز بن باز اور ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اختیار کیا ہے۔

دیکھیں: "مجموع فتاوى ابن باز" (15/307) ، "الشرح الممتع" (6/402)

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments