106536: غير مطمئن كردہ اسباب كے والد صاحب اعتكاف نہيں كرنے ديتے


اگر كسى كے والد صاحب غير مطئمن اسباب كے اسے اعتكاف نہ كرنے ديں تو كيا حكم ہوگا ؟

الحمد للہ:

" اعتكاف كرنا سنت ہے، اور والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنا واجب اور فرض، اور سنت كے ساتھ واجب ساقط نہيں ہوتا، اور نہ ہى اصل ميں واجب سے تعارض ہے.

كيونكہ واجب سننت پر مقدم ہوتا ہے، اور پھر حديث قدسى ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" مجھے سب سے پسند وہ بندہ ہے جو فرائض كى ادائيگى سے ميرا قرب حاصل كرتا ہے "

اس ليے اگر آپ كے والد صاحب آپ كو اعتكاف نہ كرنے كا كہتے ہيں اور ايسى اشياء بيان كرتے ہيں جو اعتكاف نہ كرنے كا تقاضا كرتى ہوں تو آپ اعتكاف نہ كريں، كيونكہ ہو سكتا ہے وہ اس ميں آپ كے محتاج ہوں.

كيونكہ اس كا معيار اور ميزان ان كے پاس ہے، آپ كے پاس نہيں، اس ليے كہ ہو سكتا ہے آپ كے پاس ميزان صحيح نہ ہو اور عادلانہ نہ ہو، كيونكہ آپ ميں اعتكاف كى خواہش ہے، اس ليے آپ ان اسباب كو اسباب نہ سمجھتے ہوں، ليكن آپ كے والد صاحب اسے اعتكاف نہ كرنے كے ليے اسباب سمجھتے ہوں.

ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اعتكاف نہ كريں جى ہاں، اگر آپ كے والد صاحب كہيں كہ آپ اعتكاف نہ كريں اور اس كے ليے كوئى اسباب بھى بيان نہ كريں تو اس حالت ميں آپ كے ليے والد كى اطاعت كرنا لازم نہيں ہوگى.

كيونكہ آپ كے ليے ايسے امر ميں والد كى اطاعت كرنا لازم نہيں جس كى مخالفت ميں والد صاحب كے ليے ضرر اور نقصان نہيں، اور نہ ہى اس ميں ان كى كوئى منفعت ختم ہوتى ہے " انتہى

فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ.

رسالۃ احكام الصيام و فتاوى الاعتكاف ( 31 ).
Create Comments