106668: عیسائیوں کو انکی عید کے موقع پر مبارکباد دینا


سوال: عیسائیوں کو انکی عید کے موقع پر "ہر سال تم سلامت رہو"کہہ کر مبارکباد دینا کیسا ہے، مقصد یہ ہے کہ تم اچھے بن کر رہو اور ہمیں ہمارے دین کے بارے میں تکلیف نہ دو، نا کہ یہ مقصد ہے کہ انہیں ان کے شرک پر مبارکباد دی جائے، جیسے کہ بعض مشایخ کے ہاں یہ بات پھیلا دی گئی ہے۔

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

عیسائیوں کو مبارکباد دینے میں ممنوع یہ ہے کہ ان کیلئے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جائے، انکے کام پر چشم پوشی سے اظہار موافقت کیا جائے، چاہے یہ سب کچھ ظاہری طور پرہو دلی طور پر نہ ہو۔

اس لئے کسی بھی طرح انکے کام پر خوشی کا اظہار کیا جائے وہ کام حرام ہی ہوگا، جیسے خود شریک ہوں، تحائف کا تبادلہ ہو، یا زبانی کلامی مبارکبادی دی جائے، کام سے چھٹی کردی جائے، انکے لئے کھانے تیار کئے جائیں، اور کھیل کود میں شرکت کیلئے تفریحی اور سیر وسیاحت کی جگہوں پر نکلیں، وغیرہ۔

الفاظ کے معنی اور مفہوم کے مخالف نیت کرنے سے حکم جواز سے تبدیل نہیں ہو جائے گا، کیونکہ ان کاموں کا ظاہر ہی حرام ہونے کیلئے کافی ہے۔

اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کے معاملات میں ڈھیل سے کام لیتے ہیں ، انکا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم بھی عیسائیوں کے شرک میں حصہ دار بنیں، بلکہ انہیں لحاظ رکھنے کی وجہ سے شرکت کرنی پڑتی ہے، اور کبھی کبھار شرم و حیاء کی وجہ سے شریک ہوتےہیں، حالانکہ باطل کاموں پر لحاظ رکھنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ واجب یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ "مجموع الفتاوى" (2/488)میں کہتے ہیں:

"مسلمانوں کیلئے جائز نہیں کہ کفار کی کسی بھی شکل میں مشابہت اختیار کریں، انکے تہواروں میں ، کھانے پینے ، لباس ، غسل، آگ جلانے، یا کام سے چھٹی وغیرہ کر کے، ان کے ساتھ مشابہت اختیار کریں، ایسے ہی ان دنوں میں دعوتیں کرنا، تحائف دینا، اور ان کے تہواروں کیلئے معاون اشیاء کو اسی قصد سے فروخت کرنا کہ انکے کام آئیں گی، بچوں کو انکے تہواروں کے خاص کھیل کھیلنے کی اجازت دینا ، اور اچھے کپڑے زیب تن کرنا ، یہ سب کچھ حرام ہے۔

مجموعی طور پر کوئی بھی مسلمان انکے شعائر کو انکے تہواروں میں نہیں اپنا سکتا، بلکہ انکے ایامِ تہوار مسلمانوں کے ہاں عام دن کی طرح گزریں گےاور کسی بھی کام کو ان دنوں میں خاص نہیں کرینگے، چنانچہ اگر کوئی مسلمان قصدًا انکے کام کرے تو اسے بہت سے سلف اور متاخرین علماء مکروہ جانا ہے۔

اور اگر مندرجہ بالا کام ان دنوں کے ساتھ خاص کرتا ہے تو اس کی تحریم کے بارے میں تمام علماء متفق ہیں، بلکہ کچھ علماء نے ان کاموں کو کرنے والے کی تکفیر بھی کی ہے، اس لئےکہ ایسے کام کرنے سے کفریہ شعائر کی تعظیم ہوتی ہے۔

علماء کی ایک جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ : جس نے انکے تہوار کے دن مرتے ہوئے جانور کوبھی اسی قصد سے ذبح کیا ، گویا کہ اس نے خنزیر ذبح کیا۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

"جس نے عجمیوں کے پیچھے چلتے ہوئے اور انکے تہوار نیروز اور مہرجان منائے، اور انہی کی مشابہت اختیار کی یہاں تک کہ اسے اِسی حالت میں موت آگئی ، تو قیامت کے دن اُنہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا"

جبکہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ ائمہ کرام نے بھی ان پر لازم کیا ہوا تھا کہ اپنے تہوار اعلانیہ طور پر نہیں منائیں گے بلکہ اپنے اپنے گھروں تک محدود رکھیں گے۔

بہت سے سلف نے فرمانِ باری تعالی:

( والذين لا يشهدون الزور )

ترجمہ: وہ لوگ بیہودہ محفلوں میں شریک نہیں ہوتے۔

اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ اسکا مطلب ہےکہ وہ کفار کے تہواروں میں شرکت نہیں کرتے، چنانچہ اگر صرف شرکت کا یہ حال ہے تو ان افعال کرنے کے بارے میں کیا ہوگا جو ان کے تہواروں کے ساتھ خاص ہیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسند اور سنن میں یہ روایت موجود ہے کہ (جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اُنہی میں سے ہے) ایک لفظ میں ہے: (وہ ہم میں سے نہیں جس نے کسی دوسرے کی مشابہت اختیار کی) یہ حدیث جید ہے، اگر صرف مشابہت میں یہ حکم ہے چاہے اسکا تعلق رہن سہن سے ہی کیوں نہ ہو، تو اس سے بڑے امور میں مشابہت کرنے کا کیا حکم ہوگا؟۔

جمہور ائمہ کرام نے -چاہے تحریمی ہو یا تنزیہی- انکے تہواروں میں ذبح کئے گئے جانوروں کا گوشت کھانا مکروہ جانا ہے ، اس لئے کہ یہ ان کے نزدیک غیر اللہ کے نام پر مشہور کیا گیا ہےاور کسی تھان پر ذبح شدہ جانور کے مساوی ہے۔

اسی طرح علماء نے انکی عید کے موقع پر تحائف دینا، یا خریدو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا: کسی بھی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ عیسائیوں کو انکے تہواروں میں انکی ضرورت کی اشیاء فروخت کریں، نہ گوشت، نہ خون، نہ کپڑا، نہ ہی اپنی سواری انہیں استعمال کیلئے دیں، اور نہ ہی انکے کسی بھی مذہبی کام پر اُنکی مدد کریں، کیونکہ یہ سب کام انکے شرکیہ کاموں کی تعظیم شمار ہونگے، جو کہ کفریہ کاموں میں انکی مدد ہے، اس لئے تمام مسلم حکمرانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان تمام کاموں سے روکیں، اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

( وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان )

ترجمہ:نیکی اور تقوی کے کاموں کی تعاون کرو، برائی اور زیادتی کے کاموں پر تعاون مت کرو۔

اسی طرح کسی بھی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں شراب نوشی میں مدد فراہم کرتے ہوئے ان کیلئے شراب تیار کرے، جب شراب تیار کرکے نہیں دے سکتا تو کفریہ کاموں پر مدد کیسے کر سکتا ہے؟! جب انکی مدد کرنا ہی حرام ہے تو کیا خود اس کے لئے کفریہ کام کرنا درست ہوگا؟!" انتہی

ہماری ویب سائٹ پر اسی طرح کے متعدد جوابات گزر چکے ہیں جس میں اسی موضوع کی وضاحت کی گئی ہے، جہاں منع اور تحریم کی وجوہات موجود ہیں، مندرجہ ذیل نمبروں پر آپ انکا بھی مطالعہ کر سکتے ہیں: (782) ، (90222 ) ، (50074)

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments