Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
10672

بے وضوء شخص كا قرآن مجيد چھونا، اور حديث " مومن نجس نہيں ہوتا " كى تشريح

كيا بغير وضوء قرآن مجيد ( جس ميں ترجمہ يا آيات كى تشريح نہ ہو ) اٹھانا جائز ہے ؟
كيونكہ ميں نے سنا ہے كہ ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" مؤمن ہميشہ پاك ہوتا ہے، اگر چہ جنبى بھى ہو "

الحمد للہ:

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے اسى طرح كا سوال كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" جمہور اہل علم كے ہاں مسلمان شخص كے ليے بغير وضوء قرآن مجيد چھونا جائز نہيں، آئمہ اربعہ كا مسلك يہى ہے، اور صحابہ كرام بھى يہى فتوى ديا كرتے تھے.

اس سلسلے ميں صحيح حديث وارد ہے جس ميں كوئى حرج نہيں عمرو بن حزم رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اہل يمن كو خط لكھا جس ميں فرمايا:

" طاہر شخص كے علاوہ قرآن مجيد كو كوئى شخص نہ چھوئے "

يہ حديث جيد ہے، اور اس كے كئى طرق ہيں جو ايك دوسرے سے مل كر اسے قوى كرتے ہيں.

اس سے يہ علم ہوا كہ حدث اصغر اور حدث اكبر سے طہارت كيے بغير قرآن مجيد چھونا جائز نہيں، اور اسى طرح بغير وضوء ايك جگہ سے دوسرى جگہ منتقل كرنا بھى جائز نہيں ہے.

ليكن اگر بالواسطہ يعنى كسى چيز كے ساتھ پكڑے مثلا كسى لفافے يا غلاف وغيرہ ميں تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن جيسا كہ بيان ہو چكا ہے جمہور اہل علم كے صحيح قول كے مطابق بغير وضوء براہ راست قرآن مجيد چھونا جائز نہيں ہے.

ليكن حفظ كردہ قرآن مجيد بغير وضوء زبانى پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں اور اس كى غلطى نكالنے والے شخص كے ليے قرآن مجيد پكڑنے كوئى حرج نہيں ہے.

ليكن حدث اكبر يعنى جنابت والا شخص قرآن مجيد زبانى بھى نہيں پڑھ سكتا، اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ جنابت كے علاوہ ہر حالت ميں قرآن مجيد كى تلاوت كيا كرتے تھے.

على رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيت الخلاء سے نكلے اور قرآن مجيد كچھ تلاوت فرمائى"

وہ كہتے ہيں يہ تو غير جنبى شخص كے ليے ہے، ليكن جنبى شخص ايك آيت بھى تلاوت نہيں كر سكتا.

اس حديث كو امام احمد نے جيد سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

مقصد يہ كہ جنبى شخص غسل كرنے سے قبل نہ تو قرآن مجيد سے ديكھ كر تلاوت كر سكتا ہے، اور نہ ہى زبانى اپنے حافظہ سے، ليكن حدث اصغر والا شخص جو جنبى نہ ہو وہ بغير وضوء كيے زبانى قرآن مجيد تلاوت كر سكتا ہے ليكن قرآن مجيد كو چھو نہيں سكتا.

ديكھيں: فتاوى ابن باز رحمہ اللہ ( 10 / 150 ).

اور آپ كى ذكر كردہ حديث " مومن پاك ہے " يہ حديث ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ملے تو ميں جنابت كى حالت ميں تھا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميرا ہاتھ پكڑا تو ميں ان كے ساتھ ساتھ چلنے لگا حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك جگہ بيٹھ گئے، اور ميں چپكے سے وہاں سے كھسك گيا، اور گھر آكر غسل كيا اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس واپس آيا تو وہ بيٹھے ہوئے تھے، فرمانے لگے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كہاں تھے ؟

ميں نے ان سے عرض كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: سبحان اللہ، اے ابو ہريرہ مومن نجس نہيں ہوتا "

صحيح بخارى كتاب الغسل حديث نمبر ( 276 ) صحيح مسلم كتاب الحيض حديث نمبر ( 556 ).

صحيح مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" يہ حديث مسلمان شخص كے زندہ اور مردہ پاك صاف ہونے كى عظيم دليل ہے، وہ كہتے ہيں: جب مسلمان شخص كى طہارت ثابت ہو گئى تو اس كا پسينہ، اس كا لعاب، اس كا خون سب كچھ پاك اور طاہر ہيں، چاہے مسلمان شخص بے وضوء ہو يا جنبى ہو، يا حائضہ عورت ہو يا نفاس والى.

اور جب يہ علم ہو گيا تو اس كے طاہر اور پاك ہونے كا معنى بھى معلوم ہو گيا، چنانچہ اس ميں كوئى مانع نہيں كہ مسلمان شخص كا جسم طاہر ہو اور وہ اس وقت وضوء بھى ہو، كيونكہ حدث كا وصف بدن كے ساتھ قائم ہے جو نماز ادا كرنے ميں مانع ہے، اور اسى طرح دوسرى اشياء ميں بھى مانع ہے جس كے ليے طہارت كى شرط لگائى جاتى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments