Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
107482

روزے كے متعلق جواب پر سائل كى تعليق اور رؤيت ہلال كى گواہى ميں ايك گواہ والى ابن عباس رضى اللہ عنہما كى حديث

آپ نے سوال نمبر ( 26824 ) كے جواب ميں آپ نے ذكر كيا ہے كہ رؤيت ہلال ميں ثقہ شخص كى رائے قبول كرنا جائز ہے، ليكن يہ اس حديث كے ساتھ معارض ہے جس ميں ايك بدوى شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كو چاند ديكھنے كے متعلق خبر دى، تو اس وقت رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے دريافت كيا:
" كيا تم اللہ پر ايمان ركھتے ہو كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں ؟
تو اس نے جب اثبات ميں جواب ديا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے دريافت كيا كيا تم گواہى ديتے ہو كہ تم نے چاند ديكھا ہے ؟
تو يہ حديث كسى بھى مسلمان شخص كى رؤيت ہلال ميں گواہى قبول كرنے كى دليل پائى جاتى ہے.

الحمد للہ:

سائل نے جس حديث كى طرف اشارہ كيا ہے وہ درج ذيل ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

ايك اعرابى شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى:

" ميں نے چاند ديكھا ہے ـ حسن رحمہ اللہ نے كہا يعنى رمضان كا چاند ـ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے كہا:

" كيا تم گواہى ديتے ہو كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود حقيقى نہيں ؟

اس نے جواب ديا: جى ہاں.

آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كيا تم گواہى ديتے ہو كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں ؟

تو اس نے جواب ديا: جى ہاں.

نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلال لوگوں ميں اعلان كر دو كہ كل روزہ ركھيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 691 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2340 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 2112 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1652 ) يہ حديث ضعيف ہے، صحيح نہيں، اسے امام نسائى اور علامہ البانى رحمہما اللہ وغيرہ نے ضعيف كہا ہے.

اگرچہ حديث ضعيف ہے ليكن پھر بھى اس ميں اور ہم نے جو بيان كيا ہے اس ميں تعارض نہيں ہے كہ چاند ديكھنے والا شخص عادل اور ثقہ ہو.

فرض كر ليں كہ يہ حديث صحيح ہے تو اس حديث كا معنى كئى ايك وجوہ پر محمول ہے:

1 ـ چاند ديكھنے والى كى گواہى قبول كرنا اور اس كا ثقہ اور عادل ہونا يہ قاضى پر منحصر ہے، كہ اگر قاضى كو لوگوں ميں تجربہ ہونے كى وجہ سے اس كى گواہى موثوق لگتى ہو تو اس كو يہ گواہى قبول كرنے كا حق حاصل ہے، چاہے اسے كوئى نہيں جانتا اور اس كا تزكيہ كوئى نہيں كرتا.

شيخ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

لہذا : نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بلال كو اعلان كرنے كا حكم ديا، يعنى كہ وہ لوگوں ميں اعلان كر ديں كہ كل روزہ ركھيں، كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس شخص كو جانتے نہيں تھے تو آپ نے اپنے اطمنان كے ليے اسے كہا كہ وہ يہ گواہى دے كہ اللہ كے علاوہ كوئى حقيقى معبود نہيں اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں.

اس كا معنى يہ ہوا كہ: آپ كو علم ہو گيا كہ يہ شخص مسلمان ہے، ليكن آپ نے اس شخص كو آزمايا نہيں، اور نہ ہى اس كى ذہانت و فطانت كو جانا، جيسا كہ پہلى حديث كے متعلق ہے جس ميں گواہ عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہما تھے، ليكن اس كے باوجود آپ نےاس كى گواہى قبول كر لى، تو اس ميں وسيع آسانى و تيسير و سہولت ہے.

اس كا معنى يہ ہوا كہ قاضى گواہ كا تزكيہ كرنے والوں كو بلائے بغير ہى اس كے ظاہر پر مطمئن ہو جائے جيسا كہ قاضيوں كے عرف ميں قديم دور ميں ہوتا تھا، اتنا ہى كافى ہے كہ اس كے اسلام كا علم ہو جائے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس اعرابى كو پہلے نہيں جانتے تھے، لہذا آپ نے اپنے سامنے كلمہ شہادت كو ہى كافى سمجھا كہ وہ مسلمان ہے، اور اس كو بھى وہى حق ہے جو ہميں ہے، اور اس پر بھى وہى حق ہيں جو ہم پر ہيں، اس كے اسلام كى گواہى كى بنا پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

اے بلال لوگوں ميں اعلان كر دو كہ كل روزہ ركھيں :

علامہ البانى كى كيسٹ بلوغ المرام پر تعليق حديث نمبر پانچ كتاب الصيام كو سنيں.

2 ـ يہ حديث اس كى دليل ہے كہ مسلمان اصل ميں عادل ہوتا ہے، حتى كہ اس ميں اس عدالت كے خلاف كچھ واضح ہو جائے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث كے فوائد ميں الصنعانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اس ميں دليل ہے كہ مسلمانوں ميں اصل عدالت ہے يعنى وہ عادل ہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس اعرابى سے كلمہ شہادت ہى طلب كيا ہے اس كے علاوہ كچھ نہيں.

ديكھيں: سبل السلام ( 2 / 153 ).

3 ـ يہ كہ: يہ حكم صحابہ كے ساتھ خاص ہو، اور يہ ايسا ہى ہے؛ كيونكہ سب صحابہ عادل ہيں، اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ يہ اعرابى صحابہ كى لڑى ميں پرويا جاتا ہے، اور اس طرح وہ عادل ہوا، جن كى عدالت ميں كوئى شك نہيں.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

سب صحابہ ثقات اور عادل ہيں، ان ميں ہر ايك كى روايت قبول ہو گى چاہے وہ مجہول ہى ہو، اسى ليے علماء كا كہنا ہے كہ صحابى كى جہالت كوئى نقصان نہيں ديگى.

ہم نے صحابہ كے حال كے متعلق جو وصف بيان كيا ہے اس كى دليل يہ ہے كہ:

اللہ سبحانہ و تعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كى كئى ايك نصوص ميں تعريف و ثنا كى ہے، اور جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ان ميں سے كسى كے اسلام كا علم ہو جاتا تو آپ اس كے قول كو قبول كرتے اور اس كى حالت كے متعلق دريافت نہيں كرتے تھے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ايك اعرابى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور بتايا كہ ميں نے چاند ديكھا ہے يعنى رمضان كا ...... انتہى

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كى ويب سائٹ سے " مصطلح الحديث.

اور ايك چيز يہ بھى ہے جو اوپر بيان كردہ كو تقويت ديتى ہے كہ يہ گواہى وحى كے زمانے ميں تھى، اور يہ ممكن ہى نہيں كہ جو گواہى مسلمانوں كى اطاعت اور عبادت كے متعلق ہو اس اعرابى كى يہ گواہى باطل پر ہى ٹكى رہے اور وحى كے ذريعہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو علم نہ ہو.

اور اس ليے كہ يہ حديث ضعيف ہے اللہ نے ہميں اس كى تاويل كرنے سے غنى كر ديا ہے.

والحمد للہ رب العالمين.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments