10778: دوران وضوء شك پيدا ہونا


بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ ميں بھول جاتا ہوں كہ سر كا مسح كيا ہے يا نہيں كيا، اور اس ميں مجھے كچھ راجح معلوم نہيں ہوتا تو ميں نئے سرے سے وضور كرتا ہوں, كيا ايسا كرنا صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اگر تو يہ شك وضوء مكمل كرنے كے بعد پيدا ہو تو يہ شك معتبر نہيں، اور نہ ہى اس كى طرف دھيان ديا جائيگا، اور اگر وضوء مكمل كرنے سے قبل پيدا ہو مثلا پاؤں دھوتے وقت يہ شك ہوا كہ آيا اس نے سر كا مسح كيا ہے يا نہيں ؟ تو وہ سر كا مسح كر كے پاؤں دھوئے، اور ايسا كرنے ميں كوئى زيادہ تكلف بھى نہيں.

يہ تو اس صورت ميں ہے اگر وہ زيادہ شك ميں مبتلا نہيں ہوتا، ليكن اگر اسے كثرت شكوك كى بيمارى لاحق ہے تو وہ اس كى طرف توجہ نہ دے بلكہ جس پر وہ اس وقت ہے اسى پر بنا كرتے ہوئے وضوء مكمل كرے، يعنى اگر وہ پاؤں دھو رہا ہے تو وہ اس كا يقين كر لے كہ اس نے سر كا مسح كيا ہے، اور اسى طرح بقيہ اعضاء ميں بھى.

اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر و ما يخص الملاحين الجويين تاليف: فضليۃالشيخ محمد بن صالح العثيمين صفحہ ( 12 ).
Create Comments