Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
10778

دوران وضوء شك پيدا ہونا

بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ ميں بھول جاتا ہوں كہ سر كا مسح كيا ہے يا نہيں كيا، اور اس ميں مجھے كچھ راجح معلوم نہيں ہوتا تو ميں نئے سرے سے وضور كرتا ہوں, كيا ايسا كرنا صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اگر تو يہ شك وضوء مكمل كرنے كے بعد پيدا ہو تو يہ شك معتبر نہيں، اور نہ ہى اس كى طرف دھيان ديا جائيگا، اور اگر وضوء مكمل كرنے سے قبل پيدا ہو مثلا پاؤں دھوتے وقت يہ شك ہوا كہ آيا اس نے سر كا مسح كيا ہے يا نہيں ؟ تو وہ سر كا مسح كر كے پاؤں دھوئے، اور ايسا كرنے ميں كوئى زيادہ تكلف بھى نہيں.

يہ تو اس صورت ميں ہے اگر وہ زيادہ شك ميں مبتلا نہيں ہوتا، ليكن اگر اسے كثرت شكوك كى بيمارى لاحق ہے تو وہ اس كى طرف توجہ نہ دے بلكہ جس پر وہ اس وقت ہے اسى پر بنا كرتے ہوئے وضوء مكمل كرے، يعنى اگر وہ پاؤں دھو رہا ہے تو وہ اس كا يقين كر لے كہ اس نے سر كا مسح كيا ہے، اور اسى طرح بقيہ اعضاء ميں بھى.

اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر و ما يخص الملاحين الجويين تاليف: فضليۃالشيخ محمد بن صالح العثيمين صفحہ ( 12 ).
Create Comments