107785: جگر كے بى وائرس كى بيمارى ميں شكار شخص كى شادى


اگر كوئى شخص جگر كے وائرس بى كا شكار ہو ت واس كے ليے شادى كرنے كا شرعى حكم كيا ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ اللہ آپ كو محفوظ ركھے يہ بيمارى جماع اور خون كے ذريعہ منتقل ہوتى ہے، اور آخرى سرچ كے مطابق جس پر ڈاكٹر حضرات متفق نہيں ہو سكے يہ بيمارى لعاب كے ذريعہ بھى منتقل ہو جاتى ہے، يہ سوال ايسے شخص كے بارہ ميں ہے جس كا جگر تو سليم ہے ليكن يہ وائرس اس ميں پايا جاتا ہے، جس معنى يہ ہوا كہ وائرس چھپ كر بيٹھا ہے، ليكن زيادہ نہيں ہوا، ہو سكتا ہے زيادہ ہو جائے اور بيمارى لگ جائے.
جس عورت سے وہ شادى كرنا چاہتا ہے اس نے اس بيمارى كا نجيكشن بھى لگوايا ہے، تا كہ وائرس اس ميں منتقل نہ ہو سكے، ڈاكٹر كہتا ہے كہ اس حالت ميں عورت كو كوئى خطرہ نہيں، اب اللہ كو ہى علم ہے كہ اس حالت ميں شادى كرنا حلال ہے يا حرام.
برائے مہربانى آپ اسب يمارى كے شكار شخص كو كيا نصيحت كرتے ہيں كہ آيا منگنى كے وقت عورت كو بتايا جائے يا نہيں، عورت كواس كے بارہ ميں كب بتانا چاہيے اور كيا كہنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

جس ميں يہ وائرس پايا جائے، يا پھر جو اس بيمارى كا شكار ہو وہ صحيح اور سليم عورت سے شادى كر سكتا ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ عورت كو اس كا علم ہو اور وہ علم ہونے كے باوجود اس سے شادى كرنا قبول كر لے.

ايسے شخص كے ليے اس وقت تك شادى كرنا جائز نہيں جب تك وہ اپنى بيمارى كے بارہ ميں بتا نہ ديں، كيونكہ اسے چھپانا دھوكہ اور حرام ہے، اگر اسے چھپاتا ہے اور بعد ميں بيوى كو علم ہو جائے تو بيوى كو فسخ كا حق حاصل ہے.

ميڈيكلى طور پر يہ معلوم ہے كہ اكثر لوگ جن ميں جگر كا وائرس بى پايا جاتا ہے وہ اس كو تحمل اور برداشت كر سكتے ہيں اور اپنے جسم ميں نكال سكتے ہيں، ليكن پانچ يا دس فيصد ايسے ہيں جو اپنے جسم سے باہر نہيں نكال سكتے اس طرح وہ اس وائرس كا شكار رہتے ہيں.

اور بعض ميں تو يہ مرض بڑھ جاتا ہے اور تقريبا دس فيصد ميں يہ دائمى مريض بن جاتا ہے، اور وہ دوسروں ميں يہ بيمارى منتقل كرنے كا باعث بنتا ہے "

اس وائرس كے حامل افراد ميں عام طور پر كوئى علامت واضح نہيں ہوتى اسى طرح جگر كى حالت بھى نيچرل اور طبعى رہتى ہے ليكن كئى برس تك يا پھر سارى زندگى ہى وہ دوسروں ميں يہ وائرس منتقل كرنے پر قادر ہوتا ہے.

اس وائرس كے شكار اكثر لوگ جگر كى سوزش كے ساتھ كسى اور مشكل كا شكار نہيں ہوتے، باوجود اس كے وہ اچھى حالت ميں زندگى بسر كرتے ہيں، ليكن ان ميں سے بہت قليل تعداد دوسروں كى بنسبت اس بيمارى كا زيادہ شكار بن سكتے ہيں انہيں جگر كى ورم وغيرہ دوسرى بيمارياں لگ جاتى ہيں.

اس وائرس كو دوسروں ميں منتقل ہونے سے روكنے كے ليے درج ذيل امور پر عمل كرنا ضرورى ہے:

اول:

اس وقت تك مباشرت و جماع نہ كيا جائے جب تك دوسرے ميں قوت مدافعت ہو، يا پھر اس نے اس وائرس كے ليے انجيكش لگوايا ہو، وگرنہ اسے كنڈوم استعمال كرنا چاہيے.

دوم:

وہ خون نہ دے اور نہ ہى كوئى اور عضو دوسروں كو مت دے، يا پھر دوسروں كے بليڈ وغيرہ بھى استعمال مت كرے اور اسى طرح ٹوتھ برش اور ناخن تراش بھى استعمال نہ كيے جائيں.

سوم:

جسم ميں زخم ہونے كى صورت ميں سوئمنگ پول ميں تيراكى مت كرے.

چہارم:

گھرانہ كے افراد كا چيك اپ كيا جائے اور انہيں اس وائرس كے اينٹى بائٹك انجيكشن لگائے جائيں " انتہى

ديكھيں: امراض الكبد و زراعۃ الكبد تاليف ڈاكٹر ابراہم بن حمد بن طرف ماخواز:

" http://www.sehha.com/diseases/liver/hbv.htm "

رہا اس وائرس اور بيمارى كے بارہ ميں اپنى منگيتر ك وكس طرح بتايا جائے، تو گزارش يہ ہے كہ اسے منگنى كے وقت اس كے سامنے حقيقت حال ركھى جائے كہ وہ صحيح اور سليم ہے، ليكن رپورٹ سے يہ وائرس ثابت ہوا ہے، اور ڈاكٹر كے كہنے كے مطابق اس كا اسے كوئى نقصان اور ضرر نہيں، كيونكہ اس نے اس كے اينٹى بائٹك انجيكشن لگوائے ہيں، اگر تو وہ رشتہ قبول كر لے تو ٹھيك اور اگر انكار كر دے اور سلامتى كو ترجيح دے اور خطرہ ميں نہ پڑنا چاہے تو اس كا اسے حق حاصل ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments