Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
10823

اگر كسى كے پاس اراضى اور املاك ہو تو كيا اس ميں زكاۃ واجب ہے

ايك شخص كے پاس اراضى اور املاك ہے، جس پر كوئى آمدنى نہيں كيا اس پر زكاۃ ہو گى ؟

الحمد للہ :

اس اراضى اور املاك پر زكاۃ نہيں ہے، ليكن اگر اس نے يہ سب كچھ فروخت اور تجارت كے ليے ركھا ہو تو پھر زكاۃ ہو گى.

اور اس كى زكاۃ كا حساب اس طرح ہو گا: سال مكمل ہونے پر اس اراضى اور املاك كى ماركيٹ ويليو كے مطابق قيمت لگا كر اس ميں سے دس كا چوتھائى حصہ يعنى اڑھائى فيصد زكاۃ ادا كى جائے گى.

ليكن اگر يہ املاك آدمى كے استعمال اور خدمت يا پھر اس نے اپنے كام ميں استعمال كے ليے ركھى ہو مثلا اسے كرايہ پر دے ركھا ہو، يا اس طرح كسى اور كام ميں اور وہ اس املاك كى بعينہ تجارت نہ كرتا ہو تو اس حالت ميں اس پر زكاۃ نہيں ہو گى.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ـ تجارتى سامان كى زكاۃ ميں تفصيل بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

العروض: عرض راء پر زبر يا عرض راء پر سكون كى جمع ہے، اور يہ وہ مال اور سامان ہے جو تجارت كے ليے تيار كيا گيا ہو، اور اسے يہ نام اس ليے ديا گيا ہے كيونكہ يہ مستقر نہيں رہتا، پيش كيا جاتا ہے، اور پھر زائل ہو جاتا ہے كيونكہ تجارت كرنے والا بعينہ يہ سامان نہيں چاہتا، بلكہ وہ تو اس كا منافع حاصل كرنا چاہتا ہے، اس ليے ہم نے اس كى قيمت ميں زكاۃ واجب كى ہے، نہ كہ بعينہ اس چيز ميں.

لہذا عروض يعنى تجارتى سامان اس وقت ہر وہ چيز ہو گى جو تجارت كے ليے تيار ہوئى ہو، چاہے وہ كسى بھى نوع اور قسم سے تعلق ركھے، اور يہ زكاۃ كے اموال كو عام اور شامل ہے؛ كيونكہ يہ جائداد ميں بھى داخل ہے، اور كپڑے ميں بھى، اور برتنوں ميں بھى، اور حيوانات ميں، بلكہ ہر چيز ميں.

اور تجارتى سامان ميں زكاۃ واجب ہے، اس كى دليل يہ ہے كہ:

اول:

مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كے عموم ميں داخل ہونا:

﴿اور ان كے مالوں ميں سائل اور محروم كا حق ہے ﴾الذاريات ( 19 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ كو يمن روانہ كيا تو انہيں فرمايا:

" انہيں بتانا كہ اللہ تعالى نے ان كے مالوں ميں ان پر صدقہ فرض كيا ہے جو ان كے مالدار لوگوں سے حاصل كر كے ان كے فقرا كو واپس كيا جائے گا"

اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ تجارتى سامان مال ہے.

اور اگر كوئى قائل يہ كہے كہ: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو يہ فرمايا ہے: مسلمان پر اس كے غلام اور گھوڑے ميں صدقہ نہيں ہے"

ہم كہيں گے: جى ہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے، ليكن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ نہيں كہا: اس سامان جو بعينہ نہ چاہا گيا ہو اس ميں نہيں، بلكہ اس كى قيمت چاہى گئى ہو اس ميں زكاۃ نہيں ہے.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان: " اس كے غلام اور گھوڑے " يہ كلمہ انسان كى طرف بطور اختصاص مضاف ہے، يعنى جس نے اسے خاص كر ليا، اور وہ اسےاستعمال كرے اور اس سے نفع حاصل كرے، جيسا كہ گھوڑا اور غلام اور كپڑا، اور گھر جس ميں رہتا ہے، اور استعمال كے ليے گاڑى چاہے وہ اجرت كے ليے ہى ہو، ان سب ميں زكاۃ نہيں ہے؛ كيونكہ انسان نے يہ اپنے ليے ركھى ہيں، نہ كہ وہ اس سے تجارت كرتا ہے، ايك دن خريد لے اور پھر دوسرے دن اسے فروخت كردے.

تو اس بنا پر جس نے بھى اس حديث سے سامان ميں زكاۃ نہ ہونے پر استدلال كيا وہ بہت دور نكل گيا.

دوم:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر آدمى كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى "

اگر ہم تاجر كو پوچھيں كہ وہ ان اموال سے كيا چاہتا ہے ؟ تو وہ جواب دے گا ميں سونا اور چاندى چاہتا ہوں، ميں دونوں نقدياں چاہتا ہوں.

جب ميں نے آج سامان خريدا اور وہ مجھے نفع دے يا ايك دن بعد تو ميں اسے فروخت كر دونگا، ميرا اس ميں كى ذات مطلقا ارادہ نہيں ہے، تو اس بنا پر ہم كہتے ہيں: نص اور قياس كى بنا پر سامان كى زكاۃ واجب ہے، اگرچہ نص خاص نہيں بلكہ عام ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 141 - 142 ).

پھر شيخ رحمہ اللہ تعالى اس كى مثال بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

ايك شخص نے منافع حاصل كرنے كے ليے گاڑى خريدى ( يعنى وہ اسے فروخت كر كے منافع حاصل كرے گا ) تو يہ تجارتى سامان ہے، جب اس كى قيمت نصاب كو پہنچ جائے اور اس نے خريدتے وقت اس كى نيت كى لى.

اور اگر كوئى شخص استعمال كے ليے گاڑى خريدتا ہے، اور پھر بعد ميں وہ اسے فروخت كرنے كى نيت كر لے تو اس پر زكاۃ نہيں كيونكہ اس نے خريدتے وقت تجارت كى نيت نہيں كى تھى، اس ليے اسے ملكيت ميں ليتے وقت تجارت كى نيت ضرورى ہے، اور اگر كوئى چيز تجارت كے ليے خريدے اور اس كى قيمت نصاب كو نہ پہنچتى ہو، اور نہ ہى اس كے پاس اتنى رقم ہے جو اس كے ساتھ ملائى جاسكے، تو اس پر زكاۃ نہيں، كيونكہ زكاۃ واجب ہونے كى شروط ميں نصاب تك پہنچنا ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 142 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

تجارت كے ليے لى گئى اراضى ميں زكاۃ واجب ہوتى ہے، اس كى دليل وہ مشہور حديث ہے جو سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں اس كا صدقہ دينے كا حكم ديا جو ہم فروخت كرنے كے ليے تيار كرتے " انتہى

اس حديث ميں صدقہ سے مراد زكاۃ ہے.

ليكن اگر زمين اپنے ليے خاص ہو نہ كہ فروخت كرنے كے ليے، چاہے اس نے كاشت كارى كے مقصد سے حاصل كى ہو يا رہائش يا اجرت پر دينے كے ليے تو اس ميں زكاۃ نہيں ہو گى، كيونكہ وہ فروخت كے ليے نہيں ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى ہى زيادہ علم ركھنے والا ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ للشيخ ابن باز ( 14 / 160 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments