Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
108638

روزے كى حالت ميں چہرے پر شہد كا ليپ كيا تو وہ منہ ميں چلا گيا

كيا چہرے پر شہد كا ليپ كرنا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس كے ليے صرف ايك چمچ شہد كى ضرورت ہوتى ہے ميں نے يہ ليپ ايك فتوى پڑھنے كى بنا پر كيا كہ جلد پر كوئى بھى كريم يا مواد لگانا حلال ہے ليكن شرط يہ ہے كہ اسے نگلا مت جائے، كچھ شہد ميرے منہ ميں چلا گيا اور ميں نے اس كا ذائقہ بھى محسوس كيا ليكن اسے نگلا نہيں، كيا اس سے روزہ ٹوٹ گيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

چہرے سے خشكى ختم كرنے اور چہرہ نرم كرنے كے ليے شہد استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں؛ ليكن شرط يہ ہے كہ اس ميں اسراف و فضول خرچى نہ ہو.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميرى كچھ سہيلياں چہرے كے مہاسے اور چھائياں وغيرہ ختم كرنے كے ليے انڈے دودھ اور شہد استعمال كرتى ہيں كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ يہ اشياء كھانے كے ليے ہيں جو اللہ سبحانہ و تعالى نے بدن كى خوراك كے ليے پيدا كى ہيں، اس ليے جب انسان كو يہ اشياء بطور علاج كسى ايسى چيز ميں ڈال كر استعمال كرنا پڑيں جو نجس نہيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اللہ وہى ہے جس نے تمہارے ليے وہ كچھ پيدا كيا جو زمين ميں ہے }.

چنانچہ اللہ تعالى كا فرمان : تمہارے ليے " يہ عمومى فائدہ كو شامل ہے جب تك وہ كسى حرمت پر دلالت نہ كرتا ہو، اور ان اشياء كا خوبصورتى كے ليے استعمال كرنا، خوبصورتى كے ليے تو اس كے علاوہ اور بہت كچھ موجود ہے، اس ليے وہ اشياء استعمال كرنى بہتر ہيں.

اور يہ معلوم ہونا چاہيے كہ خوبصورتى حاصل كرنے ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اللہ سبحانہ و تعالى خوبصورت ہے اور خوبصورتى كو پسند فرماتا ہے، ليكن اس ميں اسراف و فضول خرچى كرنا كہ انسان اسى ميں لگا رہا اور اس كے علاوہ اسے كچھ ياد ہى نہ ہو، اور اپنى بہت سارى دينى اور دنياوى مصلحتوں كو ہى پس پشت ڈال دے، ايسا نہيں كرنا چاہيے كيونكہ يہ اسراف اور فضول خرچى ميں داخل ہوتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى كو اسراف و فضول پسند نہيں " انتہى

ماخوذ از: فتاوى المراۃ جمع و ترتيب محمد المسند ( 238 ).

دوم:

اگر شہد آپ كے منہ ميں چلا گيا ليكن آپ نے اسے نگلا نہيں تو آپ كے روزے كو كوئى نقصان نہيں، اور پھر روزے دار كے ليے ضرورت پڑنے پر كھانا چكھنا جائز ہے، ليكن وہ چكھ كر منہ سے نكال دے اسے نگلے نہيں.

مزيد آپ سوال نمبر ( 26837 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments