110059: نفلى روزہ كى حالت ميں بيوى سے جماع كر ليا


بيوى شوال كے چھ روزے ركھ رہى ہو اور خاوند نے روزہ نہ ركھا ہو تو بيوى سے جماع كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

نفلى روزہ ركھنے والا شخص اپنے آپ كا امير ہے، اسے حق حاصل ہے كہ وہ روزہ مكمل كرے يا پھر توڑ دے، ليكن روزہ مكمل كرنا بہتر اور افضل ہے.

امام احمد رحمہ اللہ نے ام ھانئ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس گھر آئے اور انہوں نے پانى منگوا كر پيا، اور پھر انہيں يعنى ام ھانئ كو ديا تو انہوں نے بھى نوش كيا اور عرض كرنےلگيں:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں تو روزے سے تھى.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: نفلى روزہ ركھنے والا شخص اپنے آپ كا امير ہے، اگر چاہے تو روزے ركھے اور اگر چاہے تو روزہ توڑ دے "

مسند احمد حديث نمبر ( 26353 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 3854 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 49610 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس ليے جس نے بھى شوال كے چھ روزوں ميں سے روزہ ركھا اور روزہ توڑنا چاہے تو وہ ايسا كر سكتا ہے، چاہے وہ كھانا كھا كر روزہ توڑے يا پھر جماع وغيرہ كے ساتھ.

اس عورت نے اگر تو اپنے خاوند كى اجازت كے بغير روزہ ركھا تھا تو خاوند كو حق حاصل ہے كہ وہ اسے جماع كى دعوت دے اور بيوى كو قبول كرنا ہوگى.

اور اگر بيوى نے خاوند كى اجازت سے روزہ ركھا تھا تو خاوند كو يہ حق نہيں كہ وہ بيوى كا روزہ خراب كرے، ليكن اگر وہ ايسا كرنا چاہے تو بيوى كے ليے افضل ہے كہ وہ خاوند كى بات مان لے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب بيوى خاوند كى اجازت سے روزہ ركھے تو خاوند كے ليے حلال نہيں كہ وہ بيوى كا روزہ خراب كرے؛ كيونكہ اس نے خود ہى اسے اجازت دى ہے، ليكن اس حالت ميں يعنى خاوند نے بيوى كو نفلى روزہ ركھنے كى اجازت دى اور بيوى نے روزہ ركھ ليا اور پھر خاوند اسے جماع كے ليے بلاتا ہے تو كيا بيوى روزہ جارى ركھے اور خاوند كى بات نہ مانے يا كہ وہ خاوند كى بات مان لے اس ميں افضل كيا ہے ؟

دوسرى بات افضل ہے كہ وہ خاوند كى بات مانتے ہوئے خاوند كا مطالبہ پورا كرے؛ كيونكہ اصل ميں خاوند كى بات ماننا واجبات ميں شامل ہوتى ہے، اور نفلى روزہ مستحبات ميں شامل ہوتا ہے.

اوراس ليے بھى كہ اگر خاوند كى شديد رغبت كے باوجود بيوى جماع سے انكار كرتى ہے تو ہو سكتا ہے خاوند كے دل ميں كچھ پيدا ہو جائے جس كى بنا پر سوء معاشرت پيدا ہو جائے "

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 174 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments