Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
1105

كيا اسلام ميں مرد و عورت كے مابين مساوات ہيں ؟

كيا قرآن مجيد ميں مرد و عورت كے مابين مساوات كا ذكر كيا گيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

مساوات كى اصطلاح جس كا آج كل مشرق و مغرب ميں مفكرين حضرات بڑا راگ الاپ رہے ہيں، كہ زندگى كے متعدد شعبوں ميں مساوات ہونى چاہيے، يہ ايسى اصطلاح ہے جو صحيح نہيں اور قلت ادراك كى شكار ہے، خاص كر بات كرنے والے كا اسے قرآن مجيد يا دين حنيف كى طرف منسوب كرنا.

لوگ اپنے اس قول اور اسے سمجھنے ميں بھى غلط ہيں جب وہ يہ نعرہ لگاتے ہيں كہ دين اسلام مساوات كا دين ہے، حالانكہ صحيح تو يہ ہے كہ انہيں يہ كہنا چاہيے: دين اسلام عدل و انصاف كا دين ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہاں يہ جاننا ضرورى ہے كہ كچھ لوگ عدل كى بجائے مساوات كا لفظ استعمال كرتے ہيں جو كہ غلط ہے، مساوات نہيں كہا جائيگا كيونكہ مساوات كا تقاضا ہے كہ ان دونوں كے مابين فرق نہ كيا جائے، اور اس ظالمانہ مساوات كى دعوت اور نعرے كى بنا پر وہ كہنے لگے ہيں كہ:

مرد و عورت كے مابين كونسا فرق ہے ؟ انہوں نے مرد و عورت كو برابر كر ديا ہے، حتى كہ كيمونسٹ تو يہاں تك كہتے ہيں كہ: حاكم اور محكوم كے مابين كونسا فرق ہے ؟ يہ ممكن ہى نہيں كہ كوئى ايك دوسرے پر سلطہ ركھے، اور حكمرانى كرے، حتى كہ والد اور بيٹا بھى، والد كو اپنے بيٹے پر بھى سلطہ اور طاقت نہيں ہے، اسى طرح آگے.

ليكن جب ہم عدل كا لفظ بولينگے اور عدل كا معنى ہے كہ ہر مستحق كو اس كا حق دينا جس كا وہ مستحق ہے، تو يہ ممانعت زائل اور ختم ہو جائيگى، اور عبارت صحيح ہو جائيگى اسى ليے قرآن مجيد ميں كبھى يہ لفظ نہيں آئے كہ اللہ تعالى تمہيں مساوات يعنى برابرى كرنے كا حكم ديتا ہے، بلكہ اللہ تعالى نے قرآن ميں يہ كہا ہے:

{ اللہ تعالى تمہيں عدل و انصاف كا حكم ديا ہے } النحل ( 91 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اور جب تم لوگوں ميں كے درميان فيصلہ كرو تو عدل و انصاف كے ساتھ فيصلہ كرو }النساء ( 58 ).

جو كوئى بھى يہ كہتا ہے كہ دين اسلام مساوات كا دين ہے وہ اسلام پر جھوٹ بول رہا ہے، بلكہ دين اسلام تو دين عدل ہے جو كہ متساوى كو جمع اور متفرقين كو جدا كرنا ہے، اور يہ كہنا كہ يہ دين مساوات ہے جو دين اسلام كو جانتا اور اس كى معرفت ركھتا ہے وہ ايسا قول نہيں كہہ سكتا.

بلكہ اس قاعدہ اور اصول كے بطلان پر يہ دلالت كرتا ہے كہ قرآن مجيد ميں اكثر مساوات كى نفى ہوئى ہے.

ارشاد بارى تعالى ہے:

{ كہہ ديجئے كيا وہ لوگ جو جانتے ہيں اور جو لوگ نہيں جانتے برابر ہيں }الزمر ( 9 ).

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{ كہہ ديجئے كيا اندھا اور ديكھنے والا برابر ہو سكتے ہيں، يا كيا اندھيرے اور روشنى برابر ہو سكتے ہيں }الرعد ( 16 ).

اور ايك مقام پر فرمان ہے:

{ تم ميں سے جس نے فتح سے پہلے خرچ كيا اور جھاد كيا برابر نہيں، يہ ان لوگوں سے زيادہ درجے والے ہيں جنہوں نے اس كے بعد خرچ كيا اور جہاد كيا }الحديد ( 10 ).

اور ايك مقام پر رب ذوالجلال كا فرمان اس طرح ہے:

{ اپنى جانوں اور مالوں سے اللہ كى راہ ميں جہاد كرنے والے مومن اور بغير عذر كے بيٹھ رہنے والے مومن برابر نہيں ہو سكتے اپنے مالوں اور اپنى جانوں سے جہاد كرنے والوں كو بيٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالى نے درجوں ميں بہت فضيلت دے ركھى ہے }النساء ( 95 ).

قرآن مجيد ميں كوئى ايك حرف بھى ايسا نہيں جو مساوات كا حكم ديتا ہو، بلكہ عدل و انصاف كا حكم ديتا ہے، اور لوگوں كے بھى كلمہ " عدل " مقبول ہے، ميں محسوس كرتا ہوں كہ مجھے اس شخص پر علم يا مال يا ورع و تقوى يا نيكى كرنے ميں درجہ اور فضيلت حاصل ہے، پھر ميں اس پر كبھى راضى نہيں كہ وہ ميرے برابر ہو، ہر انسان جانتا ہے كہ جب ہم يہ كہيں مرد و عورت ميں برابرى ہے تو اس ميں حرج پايا جاتا ہے.

ديكھيں: شرح العقيدۃ الواسطيۃ ( 1 / 180 - 181 ).

اس بنا پر اسلام ان امور ميں مرد و عورت كے مابين مساوات اور برابرى نہيں كرتا جن ميں اگر مساوات و برابرى كى جائے تو ان ميں ايك پر ظلم ہو؛ كيونكہ بغير جگہ كے مساوات شديد قسم كا ظلم كہلاتا ہے.

چنانچہ قرآن مجيد نے عورت كو وہ اشياء پہننے اور زيب تن كرنے كا حكم ديا ہے جو مرد كے علاوہ ہيں، كيونكہ دونوں جنس كے فتنہ ميں فرق ہے، چنانچہ مرد كے ساتھ عورت كے مقابلہ ميں كم ہے، اس ليے عورت كا لباس مرد كے لباس كے علاوہ ہے اور پھر يہ حكمت نہيں كہ عورت كو اپنا بدن ننگا كرنے كا حكم ديا جو مرد اپنے جسم سے ننگا كر سكتا ہے، كيونكہ عورت اور مرد كے بدن كا فتنہ بھى مختلف ہے، جيسا كہ ہم آگے چل كر بيان بھى كرينگے.

دوم:

شريعت اسلاميہ ميں كچھ امور ايسے ہيں جن ميں عورت مرد سے مختلف ہے:

1 - القوامہ: يعنى حكمرانى:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں }النساء ( 34 ).

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قولہ تعالى: { مرد عورتوں پر حكمران ہيں }.

يعنى مرد عورت كا قيم ہے، دوسرے معنوں ميں مرد عورت كا حكمران اور رئيس اور اس كا بڑا اور اس پر حاكم ہے، اور جب وہ ٹيڑھى ہو جائے تو اسے سيدھا كرنے اور ادب سكھانے والا ہے.

{ اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى }.

يعنى: اس ليے كہ مرد عورتوں سے افضل ہے، اور مرد عورت سے بہتر ہے، اسى ليے نبوت مرد كے ساتھ خاص ہے، اور اسى طرح حكمرانى بھى، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" وہ قوم ہرگز كبھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے امور كا ذمہ دار عورت كو بنا ليا "

اسے امام بخارى رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن ابى بكرۃ رضى اللہ تعالى سے بيان كيا وہ اپنے والد ابى بكرۃ رضى اللہ تعالى سے بيان كرتے ہيں، اور اسى طرح قضاء وغيرہ كا منصب بھى مرد كے ساتھ خاص ہے.

{ اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں }.

يعنى: حق مہر اور نان و نفقہ اور عورتوں كے وہ اخراجات جو اللہ تعالى نے اپنى كتاب اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى سنت ميں مرد پر واجب كيے ہيں، چنانچہ مرد فى نفسہ عورت سے افضل ہے، اور اسے اس عورت پر فضيلت حاصل ہے، اس ليے مناسب ہوا كہ وہ اس كا قيم اور نگران اور حاكم ہو جيسا كہ اللہ تعالى نے فرمايا ہے:

{ اور مردوں كو ان پر فضيلت و درجہ حاصل ہے }الآيۃ.

اور على بن ابى طلحہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ:

{ مرد عورتوں پر حاكم ہيں }.

يعنى ان پر حكمران اور امير ہيں، يعنى عورت ان كى ان معاملات ميں اطاعت كريگى جن ميں اللہ تعالى نے اس كى اطاعت كرنےكا حكم ديا ہے، اور اس كى اطاعت يہ ہے كہ عورت اس كے اہل كے ليے محسنہ ہو اور اس كے مال كى حفاظت كرنے والى ہو.

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 1 / 490 ).

2 - گواہى: قرآن مجيد نے مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر قرار دى ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم اپنے مردوں ميں سے دو مرد گواہ بنا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ايك مرد اور دو عورتيں جنہيں تمہيں گواہ بنانا پسند كرتے ہو، اس ليے كہ اگر ايك عورت بھول جائے تو دوسرى اس كو ياد دلا دے }البقرۃ ( 282 ).

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" دو عورتيں ايك مرد كے قائم مقام اس ليے بنائى گئى ہيں كہ عورت كى عقل ناقص ہے جيسا كہ صحيح مسلم ميں وارد ہے...

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اے عورتوں كى جماعت صدقہ كيا كرو، اور استغفار كثرت سے كرتى رہا كرو، كيونكہ ميں نے ديكھا ہے كہ تمہارى كثرت آگ ميں ہے.

ايك عقل اور رائے والى عورت نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہميں كيا ہے كہ زيادہ آگ ميں ہيں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم لعن طعن بہت كثرت سے كرتى ہو، اور خاوند كى ناشكر بہت كرتى ہو، ميں نے تم سے ناقص دين اور ناقص عقل والياں نہيں ديكھى جو عقلمند شخص پر غالب آ جاتى ہوں "

وہ عورت كہنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم عقل اور دين ميں نقصان كس طرح ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" عورت كى عقصل ميں نقص يہ ہے كہ دو عورتوں كى گواہى ايك مرد كے برابر ہے، يہ اس كى عقل كا نقصان ہے، اور كئى راتيں وہ نماز اور رمضان كے روزوں كى ادائيگى نہيں كرتى جو كہ اس كے دين كا نقصان ہے "

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 1 / 336 ).

ہو سكتا ہے بعض عورتيں كچھ مردوں سے زيادہ عقلمند بھى ہوں ليكن يہ اصل نہيں، اور نہ ہى اكثر ہے، اور شريعت نے اغلب اور عام پربنا كى ہے.

اور پھر عورت كے ناقص العقل ہونے كا مطلب يہ نہيں كہ وہ مجنون اور پاگل ہے، بلكہ اس كا معنى يہ ہے كہ اكثر اوقات اس كى عقل پر اس كى عاطفت و نرمى و رحمدلى غالب آ جاتى ہے، اور اس كے ليے يہ حالت مرد كے مقابلہ ميں اكثر پيدا ہوتى ہے جسكا انكار صرف تكبر والا اور منكر شخص ہى كرتا ہے.

3 - عورت مرد كے مقابلہ ميں نصف كى وارث ہوتى ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اللہ تعالى تمہيں تمہارى اولاد كے متعلق وصيت كرتا ہے كہ لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ملے گا }النساء ( 11 ).

قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اس ليے كہ اللہ تعالى ان سے زيادہ ان كى مصحلتوں اور ضروريات كا علم ركھتا ہے، اس ليے اس نے تقسيم ميں ان كے درميان جو اس نے مصحلت سمجھى اس كے حساب سے فرق ركھا ہے "

ديكھيں: تفسير قرطبى ( 5 / 164 ).

اور اس ليے بھى كہ مرد كے ذمہ عورت كے مقابلہ ميں اخراجات اور نفقات زيادہ ہيں، اس ليے مناسب يہى ہے كہ اسے وراثت ميں عورت سے زيادہ ديا جائے.

4 - لباس:

عورت كا پورا بدن ہى ستر ہے، اس كے متعلق جو كم از كہا گيا ہے وہ يہى ہے كہ وہ صرف اپنا چہرہ اور ہاتھ ننگے ركھ سكتى ہے اس ميں بھى اختلاف ہے كيونكہ صحيح قول يہى ہے كہ وہ كچھ بھى ننگا نہيں ركھ سكتى.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ اپنى اوڑھنياں اپنے اوپر لٹكا كر ركھا كريں، اس سے بہت جلد ان كى شناخت ہو جايا كريگى، اور انہيں اذيت نہ دى جائے گى، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے }الاحزاب ( 59 ).

اور مرد كا ستر اس كى ناف سے ليكر گھٹنے تك ہے.

عبد اللہ بن جعفر بن بى طالب سے كہا گيا كہ ہميں وہ سناؤ جو تم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سنا اور جو ان سے ديكھا ہے، اور ہميں وہ نہ سنانا جو ان كے علاوہ كسى اور سے ہو چاہے وہ ثقہ ہى كيوں نہ ہو، تو انہوں نے كہا:

ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" ناف اور گھٹنے كے درميان ستر ہے "

اسے حاكم نے مستدرك حديث نمبر ( 6418 ) ميں روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 5583 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

يہ مثاليں صرف وضاحت كى ليے بيان ہوئى ہيں بطور حصر نہيں كہ اس كے علاوہ اور مثاليں نہيں بلكہ مثاليں تو بہت پائى جاتى ہيں.

اس كے علاوہ بھى مرد و عورت كے مابين بہت سارے فرق پائے جاتے ہيں جو يہ ہيں:

ـ مرد چار عورتوں سے شادى كر سكتا ہے، ليكن عورت ايسا نہيں كر سكتى وہ صرف ايك ہى خاوند ركھ سكتى ہے.

ـ مرد كو طلاق دينے كا حق حاصل ہے، اور سے طلاق صحيح ہے، ليكن عورت سے طلاق صحيح نہيں، اور نہ ہى عورت طلاق كى مالك ہے.

ـ مرد كتابى عورت سے شادى كر سكتا ہے، ليكن مسلمان عورت صرف مسلمان شخص سے ہى شادى كر سكتى ہے.

ـ مرد بيوى يا كسى محرم كے بغير سفر كر سكتا ہے، ليكن عورت محرم كے بغير سفر نہيں كر سكتى.

ـ مردوں كے ليے مسجد ميں نماز ادا كرنا حتمى ہے، ليكن عورتوں پر ايسا نہيں، بلكہ عورت كا گھر ميں نماز ادا كرنا افضل و بہتر ہے.

ـ عورت ريشم اور سونا پہن سكتى ہے، ليكن مرد يہ دونوں چيزيں نہيں پہن سكتا.

ـ جو كچھ بيان ہوا ہے ان ميں عورت مرد كے خلاف ہے؛ كيونكہ لڑكا لڑكى كى طرح نہيں، اور اللہ تعالى كا بھى فرمان ہے:

{ اور لڑكا لڑكى كى طرح نہيں ہے }آل عمران ( 36 ).

لہذا لڑكا لڑكى سے كئى امور ميں فرق ركھتا لڑكا قوت اور بدن اور سختى ميں لڑكى سے مختلف ہے، اور لڑكى ميں نرمى و رقت اور رحمدلى پائى جاتى ہے.

مرد عورت سے عقل ميں مختلف ہے، جبكہ مرد كى قوت ادراك اور اس كى ياداشت عورت كےمقابلہ ميں زيادہ معروف ہے اور عورت مرد كے مقابلہ ميں ياداشت ميں كمزور ہے، اور مرد سے زيادہ بھول جاتى ہے، اور اس كا مشاہدہ بھى موجود ہے، كيونكہ دنيا ميں اكثر علماء اور موجد مرد ہى ہيں، ہاں بعض عورتيں بھى مردوں سے زيادہ ذہين اور قوت ذاكرہ اور ياداشت ركھتى ہيں ليكن يہ اصل اور اكثر كو ختم نہيں كرتى جيسا اوپر بيان ہو چكا ہے.

عورت كے مقابلہ ميں مرد غصہ اور فرحت كى حالت ميں اپنے احساسات اور عواطف كا مالك ہے اور اس پر كنٹرول ركھتا ہے، ليكن عورت قليل سے سبب سے بھى متاثر ہو جاتى ہے اور اس كے آنسو كسى چھوٹے سے حادثہ پر بھى امڈ آتے ہيں.

ـ مردوں پر جہاد فرض ہے، ليكن عورتوں پر جہاد و قتال نہيں، يہ اللہ تعالى كا عورتوں پر فضل اور اس كى رحمت، اور ان كے حال كا خيال ركھا ہے.

تو حتمى طور پر ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ مردوں كے احكام عورتوں كے احكا جيسے نہيں.

سوم:

شريعت اسلاميہ نے مرد و عورت كے درميان بہت سارى عبادات اور معاملات ميں برابرى كى ہے:

ـ عورت بھى مرد كى طرح ہى وضوء كرتى ہے، اور مرد كى طرح غسل كرتى اور مرد كى طرح نماز كى ادائيگى كرتى ہے، اور اس كے روزہ كى طرح روزہ ركھتى ہے، صرف حيض اور نفاس كى حالت ميں نہيں، اور جس طرح مرد زكاۃ ادا كرتا ہے عورت بھى زكاۃ ادا كرتى ہے، اور مرد كى طرح حج كرتى ہے ـ حج ميں تھوڑے سے احكام ميں عورت مرد كے مختلف ہے ـ عورت كى خريد و فروخت صحيح ہے اور قبول ہو گى، اور اسى طرح اگر عورت صدقہ كرتى ہے تو اس كا صدقہ جائز ہو گا، اور عورت كے ليے اپنے غلام آزاد كرنا جائز ہے، اس كے علاوہ بہت سارے امور كيونكہ عورتيں مردوں كى شقائق ہيں جس طرح كہ حديث ميں وارد ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جو كپڑا گيلا پائے ليكن اسے احتلام ياد نہ ہو، آيا وہ غسل كرے ؟

تو آپ نے فرمايا وہ غسل كرے.

اور ايك ايسا شخص جو خواب ديكھے كہ اسے احتلام ہوا ہے ليكن كپڑے گيلے نہيں پاتا تو كيا غسل كرے ؟

تو آپ نے فرمايا: اس پر غسل نہيں ہے"

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: كيا اگر عورت ايسا ديكھے تو اس پر بھى غسل ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جى ہاں كيونكہ عورتيں مردوں جيسى ہى ہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 113 ) مسند احمد حديث نمبر ( 25663 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 98 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

خلاصہ يہ ہوا كہ:

عورت كچھ معاملات و امور ميں مرد كى طرح ہى ہے، اور كچھ امور و معاملات ميں مرد سے عورت كا فرق ہے، اور اكثر شريعت اسلاميہ كے احكا مرد و عورت پر برابر لاگو ہوتے ہيں اور جہاں دونوں جنسوں ميں فرق آيا ہے اسے مسلمان اللہ تعالى اپنى مخلوق پر رحمت اور اس كا علم سمجھتا ہے، اور كافر اسے ايك تكبرانہ نظر سے ديكھتا ہوا اسے ظلم سمجھتا ہے، ظلم پر سوار ہو دونوں جنسوں كے مابين مساوات كا گمان ركھتا ہے.

ہميں يہ بتائے كہ ايك مرد بچے كا حمل كيسا اٹھا سكتا ہے اور كس طرح وہ بچے كو دودھ پلا سكتا ہے، وہ پھر بھى ظلم پر سوار ہوتا ہے حالانكہ وہ عورت كى كمزورى كو بھى ديكھتا ہے كہ ہر ماہ اس كو ماہوارى آتى ہے، وہ اسى طرح اس ظلم كے پيچھے بھاگتا ہے حتى كہ چٹان سے جا ٹكراتا ہے، ليكن اس كے مقابلہ ميں ايك مسلمان شخص ايمان پر مطئمن ہے اور اللہ سبحانہ و تعالى كے امر كے سامنے سر تسليم خم كيے ركھتا ہے فرمان بارى تعالى ہے:

{ كيا وہى نہ جانے جس نے پيدا كيا پھر وہ باريك بين اور باخير بھى ہو }الملك ( 14 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments