110860: حيض سے غسل ميں شك كى حالت ميں روزہ ركھا جائے تو كيا اس كى قضاء ہو گى ؟


ميں عبادات ميں بہت زيادہ وسوسے كا شكار رہتى ہوں اور خاس كر طہارت كے معاملات ميں كہ جب مجھے ماہوارى آتى ہے تو ميں طہر آنے كى انتظار نہيں كرتى بلكہ خون خشك ہونے كے فورا بعد غسل كر ليتى ہوں كيونكہ مجھے نماز نہ ادا كرنے كے گناہ كا احساس سا رہتا ہے، اور ميں دو يا اس سے بھى زيادہ بار غسل كرتى ہوں.
ميں نے رمضان سے دو روز قبل حيض كا غسل كيا اور چوبيس گھنٹوں كے بعد ميں نے گدلے سے رنگ كا سرخى مائل پانى ديكھا اور ميں نے ٹشو پيپر كے ساتھ اسے چيك كيا اور رات كے وقت غسل كر ليا تا كہ رمضان كا پہلا روزہ ركھ سكوں.
ميں نے يكم اور دو رمضان كا روزہ ركھا، اور رمضان كے دوسرے دن عصر كے وقت ميں نے زرد رنگ كا پانى سا ديكھا ليكن دوبارہ غسل نہيں كيا بلكہ سارے رمضان كے روزے ركھے.
اب رمضان المبارك كے بعد ميں گناہ سا محسوس كرتى ہوں كہ ميرا روزہ صحيح نہيں تھا، اور دوبارہ غسل نہ كرنے كى وجہ سے مجھے اس روزے كى قضاء كرنى چاہيے، اس ليے برائے مہربانى مجھے يہ بتائيں كہ آيا يہ روزہ صحيح ہے يا كہ مجھے قضاء ميں روزہ ركھنا ہوگا ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے آپ اس سلسلہ ميں مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

وسوسے دو آسان طريقوں سے علاج كيا جا سكتا ہے:

پہلا:

اللہ سبحانہ و تعالى كا كثرت سے ذكر اور اس كى اطاعت و فرمانبردارى كى جائے، كيونكہ اس سے دل كو سكون و راحت اور اطمنان حاصل ہوتا ہے، اور شيطانى وسوسہ اور تكليف و اذيت دور بھاگتى ہے.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ وہ لوگ جو ايمان لائے ہيں ان كے دل اللہ كے ذكر سے مطمئن ہوتے ہيں، خبردار يقينا اللہ كے ذكر سے ہى دلوں كو اطمنان حاصل ہوتا ہے }الرعد ( 28 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ جس كسى نے بھى نيك و صالح اعمال كيے چاہے وہ مرد ہو يا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے اچھى زندگى ديں گے اور انہيں ان اعمال كا جو وہ كرتے رہے ہيں بہتر اور اچھا بدلہ ديں گے }

{ پس جب آپ قرآن مجيد كى تلاوت كريں تو شيطان مردود سے پناہ طلب كريں ( اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم پڑھ ليا كريں ) يقينا جو لوگ ايمان لائے ہيں اور اپنے پروردگار پر توكل اور بھروسہ كرتے ہيں ان پر شيطان كو كوئى راہ حاصل نہيں }النحل ( 97 - 99 ).

اور اللہ رب العزت كا يہ بھى فرمان ہے:

{ كہہ ديجئے ميں لوگوں كے رب كى پناہ ميں آتا ہوں، جو لوگوں كا بادشاہ ہے، جو لوگوں كا معبود ہے، ہر اس خناس كے وسوسوں سے جو لوگوں كے سينوں ميں وسوسے ڈالتا ہے چاہے وہ جنوں سے ہو يا انسانوں سے }سورۃ الناس.

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" سعيد بن جبير رحمہ اللہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ:

" لوگوں كے سينوں ميں وسوسے ڈالنے والے خناس سے "

اس سے وہ شيطان مراد ہے جو ابن آدم كے دل پر گھات لگائے بيٹھا ہے، جب كوئى انسان بھول جائے اور غافل ہو جائے تو وہ فورا وسوسہ پيدا كر ديتا ہے، اور جب وہ انسان اللہ كا ذكر كرتا ہے تو وہ شيطان وسوسہ ڈالنے سے رك جاتا ہے، مجاہد اور قتادہ رحمہم اللہ كا قول بھى يہى ہے.

اور متعتمر بن سليمان اپنے باپ سے بيان كرتے ہيں كہ:

مجھے بتايا گيا كہ شيطان يا وسوسہ ڈالنے والا خناس ابن آدم كے دل ميں پريشانى اور خوشى كے وقت وسوسہ ڈالتا ہے، اور جب وہ اللہ كا ذكر كرے تو وسوسہ ڈالنے سے باز آ جاتا ہے " انتہى

دوسرا:

وسوسہ پر توجہ ہى نہيں دينا اور اس كى طرف التفات نہ كرنا، اور اس كے علاوہ كسى دوسرے معاملہ ميں مشغول ہو جانا اور وسوسے كو تسليم نہ كرنا، كيونكہ يہ چيز اسے ختم كر دےگى اور وسوسے سے انسان عافيت و سلامتى ميں رہے گا.

يہ علاج اگرچہ ابتدائى طور پر تو مشكل ہے ليكن بعد ميں آسان ہو جاتا ہے، آپ كو چاہيےكہ آپ اس ميں كوشش و جدوجھد كريں، اور اللہ سبحانہ و تعالى سے مدد و معاونت طلب كريں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ جن لوگوں نے ہمارى راہ ميں جدوجھد كى ہم انہيں يقينا اپنى راہ دكھاتے ہيں، اور يقينا اللہ سبحانہ و تعالى احسان كرنے والوں كے ساتھ ہے }العنكبوت ( 69 ).

ابن حجر مكى رحمہ اللہ سے وسوسہ كى بيمارى كے علاج كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" اس كى ايك بہت ہى مفيد دوائى يہ ہے كہ اس وسوسہ سے اعراض كرتے ہوئے اس كى طرف توجہ اور التفات ہى نہ كيا جائے، اگرچہ دل ميں تردد بھى ہو تو جب وہ اس كى طرف التفات نہيں كريگا تو يہ ثابت ہى نہيں ہوگا، بلكہ كچھ ہى دير بعد وسوسہ جاتا رہےگا، يہ علاج اور دوائى مجرب ہے.

ليكن اگر اس كى طرف دھيان ديا جائے اور التفات كرے اور اس كے مطابق عمل كرنا شروع كر دے تو پھر وہ ہميشہ تردد ميں پڑا رہيگا حتى كہ وہ اسے پاگلوں كى صف ميں پہچا كر چھوڑےگا.

بلكہ اس سے بھى قبيح اور برى چيز تك لے جائيگا جيسا كہ ہم نے بہت سارے وسوسے كے شكار افراد كو جنہوں نے وسوسہ پر عمل كرنا شروع كيا ديكھا اور مشاہدہ كيا ہے " انتہى

ماخوذ از: الفتاوى الفقھيۃ الكبرى ( 1 / 149 ).

دوم:

حيض سے پاكى كى دو علامتيں ہيں ان ميں سے ايك بھى پائى جائے تو پاكى ہو جائيگى:

پہلى علامت:

خون بالكل خشك ہو جانا، مثلا اگر كوئى عورت روئى وغيرہ ركھے تو وہ بالكل صاف نكل آئے اور اس پر زردى يا مٹيالے رنگ كا كوئى دھبہ وغيرہ نہ ہو اور نہ ہى خون.

دوسرى علامت:

سفيد رنگ كا مادہ آنا، اور يہ سفيد رنگ كا پانى ہوتا ہے جسے عورتيں پہچانتى ہيں.

حيض سے غسل كرنے ميں جلد بازى سے كام نہيں لينا چاہيے جب تك كہ طہر اور پاكى كا يقين نہ ہو جائے.

امام بخارى رحمہاللہ صحيح بخارى ميں رقمطراز ہيں:

" حيض آنے اور ختم ہنے كے بارہ ميں باب، عورتيں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس اپنى تھيلى بھيجا كرتى جس ميں روئى ہوتى اور اس روئى پر زرد رنگ كے نشانات ہوتے تو عائشہ رضى اللہ تعالى انہيں فرماتيں:

جلد بازى مت كرو حتى كہ تم سفيد رنگ كا پانى نہ ديكھ لو.

اس سے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہ كى مراد حيض سے پاكى اور طہر تھا "

اسے امام مالك رحمہ اللہ نے موطا حديث نمبر ( 130 ) ميں روايت كيا ہے.

الدرجۃ: اس برتن يا صندوقچى كو كہتے ہيں جس ميں عورت اپنى خاص اشياء يعنى خوشبو اور روئى وغيرہ ركھا كرتى ہے، اور الصفرۃ سے مراد زرد رنگ كا پانى ہے.

سوم:

جب آپ بالكل خشكى محسوس كريں اور غسل كر ليں اور بعد ميں پھر دوبارہ مٹيالے رنگ يا زرد رنگ كا پانى آنا شروع ہو جائے تو اس سے كوئى نقصان نہيں؛ كيونكہ طہر اور پاكى آ جانے كے بعد مٹيالے يا زرد رنگ كا پانى آنا حيض نہيں ہے؛ اس كى دليل درد ذيل حديث ہے:

ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ہم طہر اور پاكى كے بعد ميٹالے اور زرد رنگ كے پانى كو كچھ شمار نہيں كيا كرتى تھيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 307 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اگر كوئى شخص پاكى اور طہر كا يقين حاصل كرنے كے ليے غسل اور نماز ميں تاخير كرتا ہے تو وہ گنہگار نہيں، بلكہ يہ تو اس كے ليے ضرورى اور واجب ہے؛ كيونكہ حيض كى حالت ميں نماز ادا كرنا حرام ہے.

چہارم:

فرض كيا كہ آپ نے صحيح طہر اور پاكى سے قبل ہى غسل كر ليا اور پھر بعد ميں آپ نے غسل نہيں كيا تو آپ كا پہلے اور دوسرے دن كا روزہ صحيح نہيں ہوگا، كيونكہ آپ حالت حيض ميں تھيں.

ليكن اس كے بعد كے روزے صحيح ہيں كيونكہ روزے كے ليے حيض اور جنابت سے غسل كرنا شرط نہيں ہے.

اس بنا پر اگر آپ نے خشكى ديكھى يعنى خون بالكل خشك ہو چكا تھا تو آپ كا غسل بھى صحيح ہے اور روزے بھى صحيح ہيں.

اور اگر آپ نے خسك ہونے سے قبل غسل كرنے ميں جلد بازى سے كام ليا اور روزے ركھ ليے تو آپ كو چاہيے كہ آپ پہلے اور دوسرے دن كے روزے كى قضاء كريں، ليكن باقى ايام كے روزے صحيح ہونگے، اس ميں آپ پر كچھ لازم نہيں آتا.

ہمارى آپ كو يہى نصيحت ہے كہ آپ وسوسے كا علاج اس طريقہ سے كريں جو ہم اوپر كى سطور ميں بيان كر چكے ہيں اور وسوسہ كى طرف توجہ اور دھيان مت ديں.

اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو سيدھى راہ كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments