Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
11093

اختلاف اور فتنوں کے دور میں کیا کرنا چاہۓ

جب صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا کہ جب فتنے کثرت سے ہوں تو میں کیا کروں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے جواب میں یہ فرمایا ( لوگوں سے علیحدگی اختیار کرو اور اپنے گھر میں بیٹھ رہو ) تو کیا یہ وہ دور اور زمانہ ہے ؟
اور صحیح (بخاری ) کتاب الفتن کے باب جب خلیفہ نہ ہو میں ہے حدیث کا معنی یہ ہے :
< نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فتنوں کے ظہور کے وقت اعتزال اور علیحدگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : اور اگر تمہیں درخت کی جڑہیں کھانی پڑیں ) ہم اس حدیث کی وضاحت اور علماء کے اقوال معلوم کرنا چاہتے ہیں ؟

الحمدللہ

صحیح بخاری اور مسلم وغیرہ میں ابو ادریس خولانی سے حدیث موجود ہے بخاری کے لفظ یہ ہیں :

ابو ادریس خولانی نے حذیفہ بن یمان کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر اور بھلائی کے متعلق سوال کرتے اور میں ان سے شر کے متعلق سوال کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں میں اس میں واقع نہ ہو جاؤں تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ تعالی نے ہمیں یہ خیر اور بھلائی دی تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اور اس میں فساد ہو گا میں نے کہا یہ دخن کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی قوم آۓ گی جو میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا اختیا کریں گے جسے تو جانے اور انکار کرے گا تو میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں کی دعوت دینے والے ہوں گے جس نے ان کی مان لی وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کے اوصاف بتائیں تو آپ نے فرمایا وہ ہم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے میں نے کہا کہ اگر میں نے یہ دور پا لیا تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑ میں نے کہا کہ اگر امام اور جماعت نہ ہوئی تو ؟ تو آپ نے فرمایا : تو ان سب فرقوں سے علیحدگی اختیار کر اگرچہ تجھے درخت کی جڑ ہی کیوں نہ کھانی پڑے حتی کہ تجھے اس حالت میں موت آجائے ۔

تو یہ دور اور زمانہ اس دور کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور اور زمانے میں اور جگہ پر عام ہے عہد صحابہ سے لے کر جب عثمان رضی اللہ عنہ پر خروج اور فتنہ شروع ہوا ۔

اور فتنہ کے دور میں لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں امام طبری سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا : جب بھی لوگوں کا امام نہ ہو اور لوگوں میں اختلاف اور جماعتیں ہوں تو شر میں پڑنے کے ڈر سے اگر طاقت رکھو تو فرقوں میں کسی کی پیروی نہ کرو اور سب سے علیحدگی اختیار کرو، تو جب بھی کوئی ایسی جماعت ملے جو حق پر ہو اس میں ملنا چاہۓ اور ان کے تعداد میں اضافہ اور حق پر ان کا تعاون کرنا چاہۓ کیونکہ یہ جو ذکر کیا گیا ہے وہ اس شخص اور وقت اور مسلمانوں کی جماعت کا ہے ۔

اور اللہ ہی توفیق بخشنے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور صحابہ پر اللہ تعالی رحمتیں نازل فرمائے ۔ .

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 95
Create Comments