Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
11163

سگرٹ نوشى ترك كرنا چاہتا ہے كيا وہ قسم كھا لے

كيا سگرٹ نوشى كرنے والے انسان كے ليے قسم اٹھانا جائز ہے كہ وہ سگرٹ نوشى نہيں كرے گا، اور وہ كہے كہ: اگر ميں نے دوبارہ سگرٹ نوشى كى تو مجھ پر لعنت؟
كيونكہ وہ اپنے آپ كو تيار كرنے كے ليے اس وسيلہ كے علاوہ كوئى اور وسيلہ نہيں پاتا، يا كہ يہ كلام منكر اور برى ہے ؟

الحمد للہ :

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

وہ سگرٹ نوشى ترك كرنے پر قسم نہ اٹھائے، اور نہ ہى اپنے آپ پر لعنت كى دعا كرے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور انہوں نے اللہ كى پختہ قسميں كھائيں كہ اگر آپ انہيں حكم ديں تو وہ ضرور نكليں گے، كہہ ديجئے كہ تم قسميں نہ كھاؤ بہتر طريقہ سے اطاعت كرو، يقينا اللہ تعالى اس كى خبر ركھتا ہے جو تم عمل كرتے ہو ﴾.

سوال: ؟

ليكن شيخ صاحب يہ تو منافقوں كے متعلق ہے، اور ہمارا دوست تو اپنے سچے دل كے ساتھ چاہتا ہے ؟

جواب:

يہ عام ہے، ہر وہ انسان جو اللہ تعالى كى عبادت كرنا چاہتا ہے وہ قسم نہ اٹھائے، اسے اطاعت و فرمانبردارى سے وسعت كرنا چاہيے نہ كہ ناپسنديدگى كى حالت ميں.

سوال:؟

اگر وہ اس غلط طريقہ پر عمل كرتا ہے تو كيا وہ گنہگار ہوگا ؟

نہيں، اس پر انكار نہيں كيا جائےگا، كيونكہ وہ تو اس كے ساتھ تاكيد كرنا چاہتا ہے.

سوال: ؟

ليكن ہم يہ كہيں گے: كہ يہ عمل مشروع نہيں ؟

جى ہاں، اس ميں كوئى شك نہيں .

الشيخ محمد بن صالح العثيمين
Create Comments