Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
111816

ماں نے ايك بيوى كے حقوق ميں كوتاہى پر مجبور كر ديا

اگر كسى شخص كى دو بيوياں ہوں، اور اس شخص كى ماں نے اسے ايك بيوى كے حقوق ميں كوتاہى پر مجبور كر ديا تو خاوند نے اس بيوى كو اس كوتاہى ميں ہى اپنے ساتھ رہنے يا پھر عليحدگى اختيار كرنے كا كہہ ديا اور بيوى اس كے ساتھ رہنا اختيار كر لے تو كيا ايسا جائز ہو گا ؟

الحمد للہ:

" اگر خاوند اپنى بيوى كو اپنے ساتھ رہنے يا عليحدگى كا اختيار دے اور بيوى اس كے ساتھ رہنا اختيار كرے تو خاوند پر كوئى گناہ نہيں؛ بلكہ گناہ اور حرج تو اس كى ماں پر ہے جس نے اسے اس حال پر مجبور كيا ہے.

اگر خاوند اپنى والدہ كو خود نصيحت كرنے كى استطاعت ركھتا تو خود نصيحت كرے، يا پھر كسى واسطہ سے جس كى بات تسليم كرتى ہو اس كے ذريعہ نصيحت كرائے كہ اس كے ليے ايسا كرنا حلال نہيں.

خدشہ ہے كہ كہيں اسے دنيوى اور اخروى عذاب اور سزا كا شكار نہ ہونا پڑ جائے، يہ نصيحت كرنا لازمى ہے، وگرنہ اگر استطاعت نہ ہو تو پھر اللہ تعالى كسى كو بھى اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد الرحمن السعدى رحمہ اللہ.

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 2 / 656 ) جمع و ترتيب اشرف بن عبد المقصود.
Create Comments