111827: كيا " مينا " پرندہ كھانا مباح ہے


كيا مينا كھانى حلال ہے ؟
اس كے كئى نام ہيں ليكن مشہور مينا ہے، اسے مينا كوا اور مينا بھى كہتے ہيں، يہ بھورے رنگ كى ہوتى ہے اور اس كى چونچ زرد اور آنكھوں كے ارد گرد زرد دائرہ ہوتا ہے.

الحمد للہ:

مينا كے كئى ايك نام ہيں، اور يہ پرندہ چڑيا سے زرا بڑا ہوا ہے، اور برصغير ميں پايا جاتا ہے، اس پرندے كى خوراك كيڑے مكوڑے اور نباتات ہيں.

ديكھيں: الموسوعۃ العربيہ العالميۃ.

يہ پرندہ كھانا حلال ہے، كيونكہ اس كى حرمت كى متقاضى كوئى دليل نہيں پائى جاتى، اس ليے كہ سب پرندوں ميں اصل حلت ہے، اس كى دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ہے:

{ آپ كہہ ديجئے كہ جو احكام بذريعہ وحى ميرے پاس آئے ہيں ان ميں تو ميں كوئى حرام نہيں پاتا كسى كھانے والے كے ليے جو اس كو كھائے، مگر يہ كہ وہ مردار ہو يا كہ بہتا ہوا خون ہو يا خنزير كا گوشت ہو، كيونكہ وہ بالكل ناپاك ہے يا جو شرك كا ذريعہ ہو كہ غير اللہ كے ليے نامزد كر ديا گيا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطيكہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ ہى حد سے تجاوز كرنے والا تو واقعى آپ كا رب غفور الرحيم ہے }الانعام ( 145 ).

اس سے وہى استثنا كيا جائيگا جس كى حرمت پر دليل مل جائے، اور اس كى حرمت والى چار اشياء ہيں:

پہلى:

جس پرندے كى مخلب ہو جس سے وہ شكار كرے؛ اس كى دليل صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہر كچلى والا چير پھاڑ كرنے والا وحشى جانور، اور ہر مخلب والا پرندہ كھانے سے منع فرمايا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1934 ).

زاد المستقنع ميں ہے:

" اور جس كے مخلب ہوں جس سے وہ شكار كرتا ہو "

يعنى پنجے سے شكار كر كے كھائے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مخلب سے مراد وہ ناخن نہيں جو مرغ كى ٹانگ ميں پنجے سے اوپر ہوتا ہے، يہ مخلب تو ہے ليكن وہ اس سے شكار نہيں كرتا " انتہى.

ديكھيں: شرح الممتع ( 15 / 20 ).

دوسرى:

وہ پرندہ جو مردار كھائے، مثلا گدھ، اور سياہ كوا.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" احناف، شافعى اور حنابلہ اس پر متفق ہيں كہ بڑا سياہ كوا اور غراب الابقع، ... يہ دونوں كوے غالب طور پر مردار ہى كھاتے ہيں، اس ليے سليم الطبع افراد كے ہاں انہيں خبيث و پليد اور گندا جانا جاتا ہے، اور اس گدھ بھى اسى قسم ميں شامل ہوتا ہے، كيونكہ وہ مردار كے گوشت كے علاوہ كچھ نہيں كھاتا، اور چاہے اس كا پنجہ اور مخلب شكار والا نہيں ہے "

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ( 5 / 135 ).

تيسرى:

گندى اور پليد: مثلا چمگادڑ.

خبيث اور گندى چيز كيا ہے اس كے ضابطے اور اصول ميں علماء كرام كے ہاں اختلاف پايا جاتا ہے، يہاں اسے ذكر كرنے كى مجال نہيں.

چوتھى:

جس كو قتل كرنے سے منع كيا گيا ہے: مثلا ہدہد؛ اس كى دليل سنن ابن داود اور ابن ماجہ كى درج ذيل حديث ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چار جانور قتل كرنے سے منع فرمايا: چيونٹى، اور شہد كى مكھى، اور ہدہد اور لٹورا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 5267 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3224 ).

اس كے علاوہ جو بھى ہے وہ اپنے اصل پر مباح ہے.

اور اس پرندے " مينا " كو كوے كا نام دينا اس پر اثر انداز نہيں ہوتا، بہت سارے فقھاء كرام نے كھيت كے كوے كو مباح قرار ديا ہے، اور اس كى علت يہ بيان كى ہے كہ كھيت كا كوا مردار نہيں كھاتا.

المجموع ميں ہے:

" كھيت كے كوے، اور بڑے كوے كے متعلق ہم اپنا مذہب بيان كر چكے ہيں، اور امام مالك اور ابو حنيفہ اور امام احمد رحمہم اللہ نے بھى ان دونوں كى اباحت بيان كى ہے " انتہى

ديكھيں: المجموع ( 9 / 26 ).

اور المرداوى رحمہ اللہ " الانصاف " ميں رقمطراز ہيں:

" قولہ: ( والزاغ اور غراب الزرع ) يعنى: يہ دونوں ( كوا اور كھيت كا كوا ) دونوں مباح ہيں، مذہب يہى ہے، اور اصحاب بھى اسى پر ہيں "

تنبيہ:

كھيت كے كوے كى چونچ اور ٹاگيں سرخ ہوتى ہيں، اور ايك قول يہ ہے: كھيت كا كوا اور الزاغ دونوں ايك ہى چيز ہيں، اور ايك قول يہ ہے: كھيت كا كوا سياہ اور بڑا ہوتا ہے " انتہى.

ديكھيں: الانصاف ( 9 / 364 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ اس مسئلہ ميں ايك ضابطہ اور اصول كى طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے:

" اور ہر وہ جو اپنے پنجوں سے شكار نہ كرے اور نہ ہى مردار كھاتا ہو، اور نہ ہى گندہ سمجھا جاتا ہو تو وہ حلال ہے " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 9 / 329 ).

تو اس سے يہ واضح ہوا كہ مينا كھانى مباح ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments