Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
111880

ڈرائيور ميقات سے تجاوز كر گيا اور گاڑى ميقات پر واپس لے جانے سے انكار كر ديا

ہم بس كے ذريعہ عمرہ پر گئے ليكن بس كے ڈرائيور كو ميقات كا پتہ نہ چل سكا، سو كلو ميٹر كے بعد جا كر علم ہوا ليكن اس نے وہاں سے واپس ميقات پر جانے سے انكار كرديا اور جدہ پہنچ گيا، برائے مہربانى ہميں اس حالت ميں كيا كرنا ہو گا ؟

الحمد للہ:

" ڈرائيور كو ميقات پر ركنا چاہيے تھا تاكہ لوگ احرام باندھ ليتے، اور اگر وہ بھول گيا اور اسے ايك سو كلو ميٹر كے بعد ياد آيا تو جيسا كہ سائل كا كہنا كہ اسے واپس ميقات پر آنا چاہيے تھا تا كہ لوگ ميقات سے احرام باندھتے؛ ڈرائيور كو علم تھا كہ لوگ عمرہ يا حج پر جا رہے ہيں.

اگر ڈرائيور واپس نہيں آيا اور لوگوں نے وہيں يعنى ميقات تجاوز كرنے كے سو كيلو ميٹر بعد احرام باندھا تو ہر شخص كو فديہ ميں ايك بكرا ذبح كر كے مكہ كے فقراء و مساكين كو تقسيم كرنا ہوگا؛ كيونكہ انہوں نے حج يا عمرہ كا ايك واجب ترك كيا ہے.

اور اگر يہ لوگ شرعى عدالت ميں جا كر ڈرائيور كے خلاف شكايت كرتے تو عدالت اس ڈرائيور پر سب لوگوں كا فديہ ادا كرنے كا جرمانہ ڈالتى، كيونكہ ڈرائيور كے سبب سے ہى انہيں فديہ دينا پڑا، اور يہ قاضى كى رائے پر منحصر ہے كيونكہ قاضى كے ليے ڈرائيور كو سب لوگوں كا فديہ ادا كرنے كا حكم دينا ممكن ہے، اس ليے كہ ڈرائيور نے ہى كوتاہى كى اور پھر احرام كے ليے ميقات پر واپس جانے كے حق سے بھى انہيں روك ديا " انتہى

فضيلۃ الشيخ محمد ين صاحل العثيمين رحمہ اللہ.

ديكھيں: فتاوى علماء البلد الحرام ( 218 ).
Create Comments