112002: نافرمان حاملہ بيوى كا نفقہ خاوند پر لازم ہے يا نہيں ؟


ميرى بيوى گھر سے ميرى اجازت كے بغير ميكے چلى گئى ہے اور كچھ ماہ سے وہيں رہ رہى ہے، اور حاملہ بھى ہے، كيا ميرے ليے حمل كا نفقہ ادا كرنا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

خاوند كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جانا جائز نہيں اور اگر وہ بغير اجازت جاتى ہے تو نافرمان اور ناشز كہلائيگى اور خاوند كى اطاعت ميں واپس آنے تك اسے نان و نفقہ حاصل كرنے كا كوئى حق نہيں ہے.

ليكن اس طويل عرصہ ميكے رہنے كا سبب معلوم كرنا ضرورى ہے، كيونكہ ہو سكتا ہے وہ خاوند كے برے سلوك يا پھر مار دھاڑ يا ظلم و ستم كى بنا پر ميكے گئى ہو، تو اس طرح خاوند كى جانب سے ظلم و زيادتى اور كوتاہى ہوئى ہے بيوى كى جانب سے نہيں ہوئى.

دوم:

اور اگر حاملہ عورت خاوند كى اطاعت سے انكار كرے اور ناشز بن جائے تو كيا خاوند پر حمل كا نفقہ واجب ہے يا نہيں ؟

اس ميں فقھاء كرام ك اختلاف پايا جاتا ہے، اور يہ اختلاف حاملہ عورت كے نفقہ كے بارہ ميں اختلاف پر مبنى ہے كہ آيا حاملہ عورت كو نشوز كى حالت ميں حاصل ہونے والا نفقہ حمل كا ہے يا كہ حاملہ عورت كا ؟

جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ حاملہ ناشز عورت كو نفقہ ملےگا، ان ميں مالكيہ اور حنابلہ شامل ہيں، اور شافعيہ كا ايك قول بھى يہى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كيا حاملہ عورت كے ليے حمل كا نفقہ حمل كى بنا پر واجب ہوتا ہے يا كہ حمل كے ليے ؟

اس ميں دو روايتيں ہيں:

پہلى روايت:

نفقہ حمل كے ليے واجب ہوتا ہے، اسے ابو بكر نے اختيار كيا ہے؛ كيونكہ يہ نفقہ حمل كے وجود ہونے كى صورت ميں واجب ہوتا ہے، اور اگر حمل نہ ہو تو نفقہ بھى ساقط ہو جائيگا، اس سے يہ ثابت ہوا كہ يہ نفقہ بھى حمل كے ليے تھا.

دوسرى روايت:

يہ نفقہ حمل كى وجہ سے واجب ہوا ہے؛ كيونكہ يہ نفقہ تنگى و آسانى دونوں حالتوں ميں واجب ہوگا، اس ليے يہ نفقہ حمل كے ليے ہے جس طرح بيويوں كا نفقہ ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ وقت اور ايام گزرنے سے ساقط نہيں ہوتا، اس طرح يہ اس كى زندگى ميں بيوى كے نفقہ كے مشابہ ہوا.

امام شافعى رحمہ اللہ كے اس ميں دو قول دو روايتوں كى طرح ہيں، اور اس اختلاف كى بنا پر كئى ايك فروع بھى نكلتى ہيں جن ميں سے ايك يہ بھى ہے:

اگر كوئى عورت حمل كى حالت ميں كسى شخص كى نافرمانى كرتى ہے تو ہم كہيں گے: نفقہ حمل كے ليے ہے اور يہ نفقہ حاملہ عورت كے نفقہ كو ساقط نہيں كريگا؛ كيونكہ اس عورت كے بچے كا نفقہ ماں كى نافرمانى كى بنا پر ساقط نہيں ہوگا.

اور اگر ہم يہ كہيں كہ: نفقہ ماں كے ليے ہے تو پھر اسے نفقہ حاصل نہيں ہوگا كيونكہ وہ نافرمان اور ناشز ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 8 / 187 ).

مطالب اولى النھى ميں درج ہے:

" حاملہ عورت كا نفقہ حمل كى بنا پر ہے، نہ كہ حاملہ عورت كے ليے؛ كيونكہ يہ نفقہ تو حمل كى بنا پر واجب ہوگا، اور جب حمل نہ ہو تو يہ نفقہ ساقط ہو جائيگا؛ اس طرح حاملہ نافرمان عورت كا حمل كى بنا پر نفقہ واجب ہوگا؛ كيونكہ يہ نفقہ حمل كے ليے ہے، لہذا ماں كى نافرمانى كى بنا پر بچے كا نفقہ ساقط نہيں ہوگا " انتہى بتصرف

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 5 / 627 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" فقھاء كرام كے ہاں اس مسئلہ ميں اختلاف پايا جاتا ہے كچھ فقھاء كہتے ہيں كہ:

حاملہ عورت كو نفقہ حمل كى بنا پر حاصل ہوتا ہے.

اور كچھ كا كہنا ہے كہ: نفقہ حمل كے ليے ہے نا كہ حمل كى بنا پر حاملہ عورت كے ليے... اور يہ دوسرا قول زيادہ راجح ہے، ليكن جب حمل تك نفقہ پہنچانے كا طريقہ ہى ماں كو خوراك مہيا كرنا ہے تو پھر اس ماں پر خرچ كرنا حمل كى بنا پر ہى ہوا.

اس اختلاف پر يہ مسئلہ پيدا ہوتا ہے كہ آيا اگر حاملہ بيوى نافرمان اور ناشز ہو تو كيا اسے نفقہ حاصل ہوگا يا نہيں ؟

اگر ہم يہ كہيں كہ نفقہ حمل كے ليے " جيسا كہ اوپر بيان كيا گيا ہے يہى راجح ہے " تو حاملہ عورت كے ليے نفقہ واجب ہے، كيونكہ حمل تو نافرمان نہيں.

اور اگر ہم يہ كہيں كہ نفقہ حاملہ عورت كے ليے ہے تو ناشز اور نافرمان ہونے كى بنا پر اس كا نفقہ ساقط ہو جائيگا " انتہى مختصرا

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 470 ).

اس بنا پر حمل كا نفقہ بچے كے باپ پر واجب ہے چاہے بچے كى ماں نافرمان ہى كيوں نہ ہو.

اور اگر وہ اس نفقہ كى مقدار كے متعلق اختلاف كريں تو اس كے ليے قاضى سے رجوع كيا جائيگا تا كہ وہ اختلاف ختم كر كے عدل و انصاف كے ساتھ كوئى فيصلہ كر سكے.

اللہ سبحانہ و تعالى سب كو ايسے اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جنہيں اللہ تعالى پسند كرتا اور جن سے راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments