ar

112455: كيا مادہ منويہ ميں موجود خون كا اپنى منگيتر كو بتانا ضرورى ہے


ميں اٹھائيس برس كا جوان ہوں، ميں ايك مشكل كا شكار ہوں ميرے مادہ منويہ ميں كئى برس سے خون كى مقدار پائى جاتى ہے، ميں ڈاكٹر كے پاس گيا اور كئى ايك ٹيسٹ كرائے اور ڈاكٹر نے ميرے ليے دوائى تجويز كى ليكن ابھى تك مادہ منويہ سے خون كى مقدار كم نہيں ہوئى.
ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميں جس لڑكى سے منگنى كرنا چاہتا ہوں كيا اسے منگنى سے قبل اس بيمارى كے متعلق بتانا ضرورى ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس كا بيوى پر كوئى اثر نہيں ہے كيونكہ مادہ منويہ ميں ميكروب كا وجود نہيں، اور يہ عمومى نيچرل تناسب كے مطابق ہے ( مادہ منويہ كے جرثوموں ميں كچھ كمزورى پائى جاتى ہے ).

الحمد للہ:

مادہ منويہ ميں خون كى موجودگى ايسا عيب شمار نہيں ہوتا جس كى بنا پر خاوند اور بيوى ميں سے كسى ايك كو اختيار كا حق حاصل ہو جاتا ہے، بلكہ يہ ايك بيمارى ہے جو مرد كو بعض وجوہات كى بنا پر لاحق ہوتى ہے اور اس كا علاج اور شفايابى ممكن ہے.

اسى طرح يہ ان عيوب ميں بھى شامل نہيں ہوتا جو بيوى كے ليے خاوند سے نفرت كا باعث بنے، اس ليے منگيتر كے ليے ضرورى نہيں كہ وہ اس علت كے متعلق اپنى منگيتر كو بتائے، بلكہ اللہ سبحانہ و تعالى سے شفايابى كى دعا كرے.

ليكن اگر يہ بيمارى بانجھ پن كا باعث بنے، يا پھر اولاد پيدا كرنے ميں شديد كمزورى كا باعث ہو، تو اس صورت ميں اپنى منگيتر كو بتانا ضرورى ہے، كيونكہ اولاد كا حصول خاوند اور بيوى دونوں كا حق ہے، اور نكاح كے اہم ترين مقاصد شامل ہوتا ہے، اس ليے عيب كو چھپانا جائز نہيں كہ كہيں اس مقصد ميں مخل نہ ہو.

امير المومنين عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے ايك بانجھ شخص كو كہا تھا كہ شادى سے قبل عورت كو بتا دو كہ وہ بانجھ ہے اور اولاد پيدا نہيں كر سكتا " انتہى

ماخوذ از: زاد المعاد ( 5 / 183 ).

ابو يعقوت الكوسج كى روايت سے مسائل امام احمد بن حنبل نمبر ( 1282 ) ميں درج ہے:

" ميں نے عرض كيا: كيا بانجھ شخص كسى عورت سے شادى كر سكتا ہے ؟

امام احمد رحمہ اللہ نے فرمايا:

مجھے يہ بات پسند ہے كہ جب اسے اپنے متعلق علم ہو تو وہ واضح كر دے ہو سكتا ہے عورت اولاد چاہتى ہو.

اسحاق رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جيسے انہوں نے كہا ہے؛ كيونكہ وہ اسے دھوكہ نہيں دے سكتا " انتہى

اسے ابن قدامہ رحمہ اللہ نے بھى المغنى ( 6 / 653 ) ميں نقل كيا ہے، اور اسى طرح شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اور ابن قيم رحمہ اللہ نے بھى بانجھ پن كو فسخ موجب كرنے والے عيوب ميں شمار كيا ہے، ليكن جمہور اہل علم اس كے خلاف ہيں.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 30 / 268 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21592 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ميں بانجھ ہوں اور ميرى اولاد نہيں ہے، ليكن ميرى بيوى كو اس كا علم نہيں، كيونكہ ميں نے ڈاكٹر سے كہا كہ وہ ميرى بيوى كو مت بتائے كيونكہ مجھے خدشہ تھا كہ بيوى مجھے چھوڑ كر چلى جائيگى، كيا ميں نےايسا كر كے گناہ كا ارتكاب تو نہيں كيا؛ كيونكہ شادى سے قبل ہى مجھے علم تھا كہ ميں بانجھ ہوں، ليكن اس كے باوجود ميں نے اسے نہيں بتايا ؟

كميٹى كےعلماء كرام كا جواب تھا:

" جو كچھ ہو چكا اور آپ علم ركھنے كے باوجود اپنے بانجھ ہونے كو بيوى سے چھپايا اس پر آپ توبہ كريں؛ كيونكہ آپ نے بيوى كو دھوكہ ديا، اب آپ اس سے معافى مانگى اور اسے راضى كريں ہو سكتا ہے وہ آپ كے ساتھ زندگى بسر كرنے پر راضى ہو جائے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 19 / 13 ).

كميٹى كے علماء سے يہ بھى دريافت كيا گيا كہ:

كيا خاوند كے بانجھ ہونے كے باعث بيوى كو طلاق طلب كرنے كا حق حاصل ہے ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اس غرض كى بنا پر عورت كو طلاق طلب كرنے كا حق حاصل ہے؛ كيونكہ نسل پيدا كرنا مقاصد نكاح ميں شامل ہوتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 19 / 396 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جس شخص ميں كوئى عيب ہو اسے وہ عيب رشتہ دينے والوں كو بتانا چاہيے، خاص كر يہ عظيم بانجھ پن كا عيب تو ضرور بتايا جائے؛ كيونكہ عورت كو بھى حصول اولاد كا حق حاصل ہے، اسى ليےعلماء كرام كا كہنا ہے كہ:

" آزاد عورت سے اس كى اجازت كے بغير عزل كرنا حرام ہے.

اس ليے اسے ضرور بتانا چاہيے كہ وہ بانجھ ہے، تا كہ شادى بصيرت و علم پر كى جائے، پھر فرض كريں اگر وہ انہيں بتاتا اور بعد ميں اس عيب كا علم ہو تو فسخ نكاح كا حق حاصل ہے اس سے نكاح فسخ ہو جائيگا " انتہى

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح لقاء نمبر ( 7 ) سوال نمبر ( 26 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے يہ بھى دريافت كيا گيا:

ايك عورت نے سات برس قبل شادى كى ميڈيكل رپورٹ سے ثابت ہو گيا ہے كہ اس كا خاوند اولاد پيدا نہيں كر سكتا تو كيا عورت اپنے بانجھ خاوند سے طلاق طلب كر سكتى ہے يا آپ اسے كيا نصيحت كرتے ہيں ؟

شيخ كا جواب تھا:

جى ہاں وہ طلاق طلب كر سكتى ہے؛ كيونكہ اسے بھى حصول اولاد كا حق حاصل ہے، جب يہ ثابت ہو جائے كہ اس كا خاوند بانجھ ہے اور اولاد پيدا نہيں كر سكتا تو وہ نكاح فسخ كر سكتى ہے.

ليكن يہاں يہ ديكھنا باقى ہے كہ: كيا طلاق طلب كرنا اولى اور بہتر ہے يا كہ خاوند كے ساتھ رہنا بہتر ہے ؟

ديكھا جائيگا كہ اگر مرد صاحب خير و بھلائى اور دين و اخلاق كا مالك ہے تو اس كے ساتھ رہنے ميں كوئى حرج نہيں وگرنہ اس كے ليے افضل ہے كہ وہ طلاق لے كر كوئى ايسا خاوند تلاش كرے جو اولاد پيدا كر سكتا ہو.

اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم زيادہ محبت كرنے اور زيادہ اولاد پيدا كرنے والى عورت سے شادى كرو " انتہى

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح نمبر ( 37 ) سوال نمبر ( 10 ).

حاصل يہ ہوا كہ: آپ ڈاكٹر سے اولاد پيدا كرنے كے بارہ ميں دريافت كريں، اگر تو وہ بتاتا ہے كہ اولاد پيدا كرنے كا احتمال بہت ہى شديد كمزور ہے، تو آپ اپنى منگيتر كو اس كے متعلق ضرور بتائيں، ليكن اگر كمزورى قليل سى ہے تو پھر آپ كسى كو مت بتائيں.

اللہ سبحانہ و تعالى سے اپنے ليے توفيق نجات كى دعا كريں اور آپ صرف مناسب دوائى اور علاج پر انحصار مت كريں بلكہ دعا كا بھى ضرور سہارا ليں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments