Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
113422

اگر مجھے ملازمت مل گئى تو ميں جا كر طلاق دے دونگا كچھ دير خاموش رہنے كے بعد كہا كمپنى كو

ميں اور ميرا ايك دوست ايك كمپنى ميں كام كرتے ہيں ايك دن ہم بيٹھ كر كام چھوڑنے كے بارہ ميں باتيں كرنے لگے كيونكہ تنخواہ بہت كم تھى، ميں نے اپنے دوست سے كہا: اگر مجھے ملازمت مل گئى تو ميں جا كر طلاق دے دونگا، اور كچھ سيكنڈ خاموش رہنے كے بعد كہا كمپنى كو ( باوجود اس كے كہ نيت ميں كمپنى كا مقصد تھا ) اس ليے كہ شادى سے بہت پہلے ہم بطور مذاق كہا كرتے تھے ہمارى شادى كمپنى كے ساتھ ہوئى ہے، يہاں كلمہ طلاق كا حكم كيا ہے اور اگر صحيح ہے تو اس كا حل كيا ہے ؟

الحمد للہ:

آپ نے جو قول بيان كيا كہ: جب مجھے ملازمت مل گئى تو ميں جا كر طلاق پر سائن كر دوں گا اور اس سے آپ كا مقصد كمپنى چھوڑنا تھا پھر آپ نے كچھ دير خاموش رہنے كے بعد جملہ پورا كر ديا، اس سے طلاق واقع نہيں ہوتى؛ كيونكہ اس كلام سے بيوى كو طلاق دينے كا ارادہ نہ تھا.

اور اس لفظ " جب مجھے ملازمت مل گئى تو ميں جا كر طلاق پر سائن كر دونگا " سے بيوى پر طلاق واقع نہيں ہوتى اگر آپ اس سے بيوى كو طلاق دينے كا مقصد بھى ظاہر كريں، بلكہ يہ تو صرف اپنے عزم اور ارادہ كى خبر ہے كہ مستقبل ميں آپ يہ كرينگے، اور يہ طلاق واقع ہونا نہيں ہے.

بيوى يا كسى اور سے بطور مذاق اور حقيقت دونوں حالتوں ميں طلاق كے الفاظ استعمال كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے كيونكہ يہى زيادہ بہتر ہے.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments