Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
114534

دونوں میں سے کس کو مقدم کیا جائےعمرہ کی ادائیگی یا قرض؟

میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں، اس لئے کہ میں نے نیت کی تھی یا نذر مانی تھی کہ اگر میری تنخواہ زیادہ ہوگئی تو میں عمرہ کرونگا، لیکن مجھ پر قرض بھی ہے جسے میں نے اتارنا ہے، تو کیا اس حالت میں میرا عمرہ درست ہوگا؟یا میں قرض کی ادائیگی تک انتظار کروں؟

الحمد للہ:

حقوق العباد حج و عمرہ کی ادائیگی سے مقدم ہیں، چنانچہ کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ حج یا عمرہ کرنے نکل پڑے اور قرض خواہ اس سے اپنے مال کا مطالبہ کر رہے ہوں، شریعت اسلامیہ نے یہ حکم لوگوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے دیا ہے، تا کہ پیار محبت کی فضا معاشرے میں قائم رہے، اور کوئی کسی کا مال ہڑپ نہ کرے، اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے مندرجہ ذیل سوال پوچھا گیا:

میں متعدد افراد کا مقروض ہوں، تو کیا میں اپنی اولاد کے ساتھ مکہ میں روزے رکھنے کیلئے چلا جاؤں؟ وہاں پر رہائش کا کرایہ میں اور میرے بچے آپس میں تقسیم کر لیں گے۔

آپ رحمہ اللہ نے اسکے جواب میں کہا:

"میں ایک سوال پوچھتا ہوں: صدقہ افضل ہے یا فرض زکاۃ؟ ۔۔۔فرض زکاۃ

نفل عبادت افضل ہے یا فرض عبادت؟ ۔۔۔فرض عبادت

عقل کس چیز کا تقاضا کرتی ہے، کہ پہلے واجب کو شروع کیا جائے یا نفل کو؟ عقل تقاضا کرتی ہے کہ نفل سے پہلے فرض کو شروع کیا جائے، اس لئے کسی انسان کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ مکہ نفل عمرہ کرنے چلا جائے اور اس پر قرض بھی ہو، قرض کی ادائیگی واجب ہے، اور کیا نفل عمرہ کرنا اس پر واجب ہے؟! ۔۔۔نہیں واجب نہیں، بلکہ فرض بھی قرض کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔

میرے بھائیو! قرض کی ادائیگی محض جذبات نہیں ہے، اللہ تعالی نے اپنے بندے پر حج اور عمرہ فرض کیا ہے لیکن اگر انسان مقروض ہوتو یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے، اور اس فرض کی عدم ادائیگی پر اللہ سے جب ملاقات ہوگی تو اسکا گناہ اسکے سر نہیں ہوگا، ،، ہم کہتے ہیں"ایک انسان مقروض ہو اور اس نے فریضہ حج ادا نہیں کیا " لفظ "فریضہ حج ادا نہیں کیا" درست نہیں ہے، کیوں غلط ہے؟ اس لئے کہ حج اس پر فرض ہی نہیں ہے، ابھی تک اس پر فرض نہیں ہے، حج اُسی پر فرض ہوگا جو قرض سے محفوظ ہوگا۔

اس لئے ہم اس بھائی سے کہیں گے: اطمینان رکھو، اپنی رقم کو بچاؤ، اپنے شہر ہی میں رہو، اور جتنا ہوسکے قرض کی ادائیگی کیلئے بچت کرو، آپ اسکی طرح مت ہوجاؤ جس نے ایک محل بناتے بناتے پورا شہر ہی تباہ کردیا۔

اس لئے اس بھائی کیلئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ : اس پر اپنے شہر ہی میں رہنا واجب ہے۔

ہاں فرض کرو کہ کسی شخص نے اسکے سارے خرچے کی ذمہ داری اٹھا لی اورکہا: "مجھے ایک پیسہ بھی نہ دینا" یہاں ہم یہ کہیں گے کہ :اب اگر عمرے پر جانے سے قرض چکانے کیلئے آمدن کے ذرائع متاثر نہیں ہوتے،تو وہ چلا جائے؛ اس لئے کہ اس حالت میں قرض خواہ کو کوئی نقصان ہوگا یا نہیں؟ نہیں ہوگا۔

ایسے ہی اسے کسی نے کہا: میں جانتا ہوں کہ تم نے دس ہزار ریال قرض دینا ہے، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ نفل عبادت پر قرض کو فوقیت حاصل ہے، لیکن پھر بھی آپ اور آپ کے اہل خانہ میرے ساتھ چل پڑو میں آپ کو آنے جانے کی مفت سروس مہیا کرتا ہوں، تو کیا اسے جانا چاہئے؟یہاں ہم کہیں گے: اگر تو اسکا کاروبار ہے ، اور کام سے چھٹی کی بنا پر اسکی آمدن پر اثر پڑے گا تو وہ مت جائے، اور اگر اسکا کوئی کاروبار نہیں ہے، اور اسکے جانے سے اسکی آمدن پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا، تو اسکے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

یہاں قرض میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا کہ اسکی ادائیگی فوری کرنی ہے یا تاخیر سے، ہاں اگر قرض کی ادائیگی مؤخر ہو اسے یقین ہو کہ وقت آنے میں ادائیگی کر سکتا ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے ایک آدمی ملازمت پیشہ ہے، اور اس نے قرض کی ادائیگی دو ماہ کے بعد کرنی ہے، اور اسے پتہ ہے کہ قرض کی ادائیگی وقت آنے پر آسانی سے کرسکتا ہے، تو ہم کہیں گے : تم چلے جاؤ؛ اس لئے کہ اگر وہ اپنے شہر میں بھی رہتا ہے تو قرض خواہ کو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا" انتہی

"اللقاء الشهری" (رقم/33، سؤال رقم/4)

اس سے پہلے ہماری ویب سائٹ پر سوال نمبر (11771) ، (36868) ، (36852)پر بھی اسکا جواب گزر چکا ہے۔

اس لئے آپ پر واجب ہے کہ مکمل طور پر قرض کی ادائیگی تک انتظار کریں۔

پھر اگر آپ نے نذر مانی تھی تو اسکی ادائیگی واجب ہے؛ اس لئےکہ نیک کام کی نذر کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اور اگر صرف اللہ کا شکر ادا کرنے کیلئے آپ نے عمرے کا ارادہ کیا تھا نذر کے الفاظ نہیں کہے؛ تو مستحب یہ ہی ہے کہ آپ عمرہ ادا کر کے اپنی نذر پوری کریں، اس لئے عمرہ کرنا ایک بہت بڑی عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔

و اللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments