Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
114855

سيپى ميں موجود سنكھا كھانے كا حكم

سيپى ميں پايا جانے والا سنكھ ( كيڑا ) كھانے كا حكم كيا ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ اس كى ڈش تيار كرنے كے ليے اسے زندہ پكانا پڑتا ہے!.
اور كيا ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں سيپى والا كيڑا سنكھ كھايا جاتا تھا ؟

الحمد للہ:

اول:

سيپى دو قسم كى ہوتى ہے، ايك تو سمندرى ہے اور دوسرى خشكى پر پائى جاتى ہے، خشكى پر پائى جانے والى سيپى ان حشرات الارض ميں شمار ہوتى ہے جس كا بہنے والا خون نہيں، ليكن سمندرى آبى حيوانات ميں شامل ہوتا ہے.

الموسوعۃ العربيہ العالميۃ ميں درج ہے:

" سمندرى سنكھ ( سيپى كا كيڑا ) نرم ہوتا ہے اور يہ آبى كيڑوں كى نوع ميں سے ہے، اكثر آبى كيڑے سيپى كے اندر ہوتے ہيں، ليكن كچھ سنكھ كى جلد كے اوپر يا نيچے سيپى ہوتى ہے، ليكن اكثر كى سيپى نہيں ہوتى.

اور خشكى كا سنكھ ( سيپى كا كيڑا ) دو سينگھ سے ركھتا ہے جس سے وہ شعور حاصل كرتا ہے، اور ان پر آنكھيں بھى ہوتى ہيں، اور بھورے رنگھ كا بڑا سنكھ موذى حشرات ميں شمار كيا جاتا ہے؛ كيونكہ اسے نباتات كھانے كى چاہت ہوتى ہے، اور اس كا لمبائى دس سينٹى ميٹر ہوتى ہے " انتہى.

دوم:

رہا سيپى كا كيڑا ( سنكھ ) كھانے كے متعلق:

برى يعنى خشكى پر رہنے والى سيپى حشرات كھانے كے حكم ميں آتى ہے، اور جمہور علماء كرام اس كى حرمت كے قائل ہيں.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

حشرات الارض ميں علماء كرام كا مسلك.... ہمارا مذہب يہ ہے كہ يہ حرام ہے، ابو حنيفہ، اور امام احمد اور داود رحمہ اللہ كا بھى يہى قول ہے.

اور امام مالك اسے حلال كہتے ہيں " انتہى.

ديكھيں: المجموع ( 9 / 16 ).

اور ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" خشكى كا سنكھ ( سيپى والا كيڑا ) كھانا حلال نہيں اور نہ ہى حشرات الارض مثلا چھپكلى، اور چيونٹى، اور لال بيگ اور شہد كى مكھى، اور مكھى، اور سب كيڑے مكوڑے، چاہے وہ اڑنے والے ہوں يا اڑنے والے نہ ہوں، اور جوؤيں، اور بھڑ اور مچھر اور اس كى ہر قسم؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم پر مردار حرام كيا گيا ہے }.

اور فرمان بارى تعالى ہے:

{ مگر جسے تم ذبح كر لو}.

اور صحيح دليل سے ثابت ہے كہ ذبح كے ذريعہ پاك كرنا كے ليے يا تو اسے حلق ميں يا پھر سينے ميں چھرى چلا كر ذبح كيا جاتا ہے، اور جسے پاك كرنے كى استطاعت نہ ہو تو اسے نہيں كھايا جائيگا، اور وہ حرام ہے؛ كيونكہ غير ذبح كردہ اور مردار كھانا ممنوع ہے" انتہى.

ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 6 / 76 - 77 ).

اور مالكى حضرات ايسے جانور ميں ذبح كى شرط نہيں لگاتے جس ميں بہنے والا خون نہ ہو، بلكہ انہوں نے اسے مكڑى والا حكم ديا ہے، اور اس كى پاكيزگى اور ذبح پر وغيرہ اتارنے يا پھر بھوننے يا پھر اس ميں كانٹا يا سوئى لگا دينا حتى كہ مر جائے، اور بسم اللہ بھى پڑھنا ہو گى.

المدونۃ ميں درج ہے:

" امام مالك رحمہ اللہ سے مغرب ميں پائى جانے چيز جسے سيپى كے نام سے موسوم كيا جاتا تھا كے متعلق دريافت كيا گيا يہ صحراء ميں پائى جاتى ہے اور درختوں سے چمٹ كر رہتى ہے، كيا اسے كھايا جا سكتا ہے ؟

امام مالك رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" ميرے خيال ميں يہ مكڑى كى طرح ہى ہے، اگر اسے زندہ پكڑا جائے تو اس كے پر وغيرہ اتار كر يا بھون ليا جائے تو ميرے خيال ميں اسے كھانےميں كوئى حرج نہيں.

اور جو مردہ حالت ميں پكڑى جائے اسے نہ كھايا جائے " انتہى.

ديكھيں: المدونۃ ( 1 / 542 ).

اور موطا كى شرح " المنتقى " ميں ابو وليد باجى لكھتےہيں:

" جب يہ ثابت ہو گيا تو سيپى كا حكم مكڑى والا ہے امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس كا ذبح يہى ہے كہ اس كے پر وغيرہ اتار ليے جائيں يا پھر اس ميں كانٹا يا سوئى چبھوئى جائے حتى كہ مر جائے، اور ايسا كرتے وقت بسم اللہ پڑھى جائے، جس طرح مكڑى كا سر اتارتے وقت پڑھى جاتى ہے " انتہى.

ديكھيں: المنتقى شرح الموطا ( 3 / 110 ).

ب ـ اور سمندرى سيپى حلال ہے؛ كيونكہ عمومى طور پر سمندر كا شكار اور اسے كھانا حلال ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تمہارے ليے سمند كا شكار كرنا اور اسے كھانا حلال كيا گيا ہے، تمہارے فائدہ كے ليے اور مسافر كے ليے }المآئدۃ ( 96 ).

اور صحيح بخارى ميں عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ سے ان كا يہ قول مروى ہے:

" سمندر كا شكار وہ ہے جو شكار كيا جائے، اور اس كا طعام اور كھانا وہ ہے جو وہ پھينك دے "

اور صحيح بخارى ميں صحابى رسول شريح رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ كہتے ہيں:

" سمندر ميں پائى جانے والى ہر چيز مذبوح ہے "

ليكن ہميں كوئى ايسى حديث نہيں ملى جس ميں بيان ہوا ہو كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سيپى كا كيڑا سنكھ كھايا ہو.

خلاصہ يہ ہوا كہ:

سمندرى اور خشكى والى دونوں سيپيوں كا كيڑا كھانا جائز ہے، چاہے اسے زندہ ہى پكا ليا جائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ خشكى والى سيپى ميں بہنے والا خون نہيں پايا جاتا كہ اسے ذبح كرنے كى ضرورت پيش آئے اور اس سے خون نكالنا واجب ہو؛ اور اس ليے كہ سمندرى سيپى سمندر كے شكار اور اس كےكھانے كے عموم ميں داخل ہوتى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments