Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
11492

كيا مقروض بھائى كى زكاۃ كے ساتھ مدد كر سكتا ہے

ميرا بھائى ملازم ہے، اور اسے تنخواہ بھى ملتى ہے، ليكن وہ بہت زيادہ مقروض ہے جس كى ادائيگى ضرورى ہے، تو كيا ميں اپنے مال كى زكاۃ بھائى كو دے سكتا ہوں ؟

الحمد للہ:

اگر آپ كا بھائى مقروض ہے، اور اس كى تنخواہ سے اس كى معاشى ضروريات پورى نہيں ہوتى اور وہ قرض ادا نہيں كر سكتا، اور وہ نمازى بھى ہے اور مال كو اللہ تعالى كى ناراضگى والے كاموں ميں صرف نہيں كرتا تو اسے زكاۃ دينے ميں كوئى حرج نہيں.

الشيخ سعد الحميد.

كيونكہ وہ مصارف زكاۃ ميں شامل ہے، جو اللہ تعالى نے بيان كرتے ہوئے فرمايا:

﴿ اور مقروض كا قرضہ ادا كرنے ميں ﴾.

اور اگر اس كا يہ قرضہ كسى حرام كام مثلا سود، يا جوا اور قمار بازى كے ارتكاب كے نتيجہ ميں ہے تو پھر يہ قرض اس وقت تك ادا نہيں كيا جا سكتا جب تك وہ اس سے توبہ نہيں كر ليتا.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments