1150: جدید مسلمان کے ختنے کرنا اورنام رکھنا


میرا تعلق ڈنمارک سے ہے اورمیں نوجوان ہوں کچھ مدت سے دین اسلام کا اہتمام کررہا ہوں اب اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہوں کہ اب مجھے یقینا مسلمان ہوجانا چاہيۓ اس سلسلہ میں میرے کچھ سوالات ہیں :
کیا مجھ پرمسلمان ہونے کے لیے ختنہ کرانا واجب ہے ( میں ختنہ خوشی سے کرا‎ؤں گا ) اورختنہ کس طرح ہوگا کیا وہ ڈاکٹر کرے گا یا کہ امام یا میں خود ہی کرسکتا ہوں ؟ ۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہونے کے بعدنام بدلنا بہت بڑی خوشی کا باعث ہوگا لیکن ميں یہ پسندکرتا ہوں کہ مندرجہ ذیل ناموں میں سے ایک مناسب نام کا علم ہوجاۓ جواسلام قبول کرنے کےبعدمیری پہچان بن سکے : قاسم ، عاصم ، تیم اللہ ، سعید ، آپ کے جواب پرمجھے بہت خوشی ہوگی ؟

الحمد للہ
اس اللہ تبارک وتعالی کی حمدوثنا ہے جس نے آپ کواس کی ھدایت دی اگراللہ تعالی آپ کوھدایت نہ دیتا توآپ ھدایت پرنہیں آسکتے تھے ، آج رات ہميں اس خبرنے بہت ہی خوشی دی ہے کہ آپ ہمارے دین میں شامل ہونا چاہتے ہيں ہم اللہ تعالی سے دعاکرتے ہیں کہ وہ آپ کوحق کی توفیق سے نوازے اور دین اسلام پر ثابت قدم رکھے ۔

آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر ختنےکرانے سے آپ کوکسی نقصان کا خدشہ نہیں توآپ کسی ماہراورتجربہ کارجراحی کرنے والے ڈاکٹر سے ختنہ کروالیں ، اوراگر آپ کوختنہ کرانا سے کوئ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے تو پھر آپ رہنے دیں اوراس سے ان شاءاللہ آپ کے اسلام کوکو‏ئ ضرر نہیں ہوگا ۔

اورنام بدلنے کے متعلق ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ اللہ تعالی کے ہاں سب سےمحبوب اورپسندیدہ نام عبداللہ اورعبدالرحمن ہے اوراس کا ثبوت صحیح مسلم حدیث نمبر ( 3975 ) میں پایا جاتا ہے ۔

اوراگرآپ صرف ان ناموں میں سے اپنا نام رکھنا چاہتے ہيں جوآپ نے سوال میں ذکر کیا ہے توہم یہ کہیں گے کہ آپ اپنا نام عاصم رکھیں جس کا معنی حفاظت کرنے والا ، بچانے والا ، ہے ۔

ہم اللہ تعالی سے آپ کے لیے عظیم دین اسلام کے تحت رہتے ہوۓاچھی اورسعادت مندی کی زندگی کا سوال کرتے ہیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments