116439: والد نے ايك مرد سے شادى نہ كرنے دى تو لڑكى اس سے زنا كر بيٹھى!


ميں ايك تركى لڑكى ہوں اور ايك برس سے بہت مشكل كا شكار ہوں، ميرى عمر اكيس برس ہے اور جرمنى ميں رہائش پذير ہوں، ميرا خاندان دين پر عمل نہيں كرتا ليكن اس كے باوجود ـ الحمد للہ ـ ميں اسلامى تعليمات پر عمل پيرا ہوں، اس كے ساتھ مجھے اپنے خاندان كے ساتھ بہت سارى مشكلات كا سامنا ہے، كيونكہ وہ ميرے دينى امور پر عمل كرنے كو تسليم نہيں كرتے اور كہتے ہيں اسے چھوڑ دو، مثلا حجاب وغيرہ، ميں ايك افغانى شخص سے شادى كرنا چاہتى ہوں، وہ شخص بھى دين پر عمل كرتا ہے اور ميں نے اپنے والد كو بھى اس كے متعلق بتايا ہے، ليكن ميرے والد صاحب ميں وطنيت بھرى ہوئى ہے اور وہ اس ميں تعصب كا شكار ہيں، وہ اس شادى سے انكارى ہيں اور اس بنا پر مجھے زدكوب بھى كر چكے ہيں، ميں اس كى متحمل نہيں اور نہ ہى ميرى والدہ ميرا تعاون كر سكتى ہيں؛ كيونكہ وہ ميرے والد سے بہت زيادہ ڈرتى ہيں، اور ہم ايك برس سے انتظار كر رہے ہيں اور والد صاحب اس شادى پر راضى نہيں، اس دوران ہم سے زنا جيسا جرم بھى ہو چكا ہے، ہم نہيں جانتے كہ ہميں كيا كرنا چاہيےہم اندورنى طور پر بالكل ٹوٹ پھوٹ كا شكار ہيں، ہم شادى كرنا چاہتے ہيں، ليكن يہ والد كى موافقت كے بغير نہيں ہو، اس ليے مجھے سمجھ نہيں آ رہا كہ ميں كيا كروں، كيا لڑكى شادى والد كى موافقت كے بغير جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

ہميں آپ پر تعجب ہوتا ہے كہ جب آپ يہ كہتى ہيں ميں اسلامى تعليمات پر عمل پيرا ہونے كى كوشش كرتى ہوں، پھر ہم اسى دوران ديكھتے ہيں كہ آپ اس چيز ميں كوتاہى اور زيادتى كا شكار ہو جاتى ہيں جو لڑكى كے پاس دين كے بعد سب سے قيمتى چيز ہے، وہ اس كى عفت و عصمت اور اس كا شرف ہے، جو آپ كھو بيٹھى ہيں!

آپ اپنے ليے اس برائى اور غلط كام پر كس طرح راضى ہو گئيں؟! اور آپ نے اپنى عزت و عصمت كو ايك اجنبى شخص كے سپرد كيسے كر ديا كہ وہ آپ كى عزت لوٹ لے؟! كيا آپ كے گھر والوں كا اس شادى پر موافق نہ ہونا آپ كے ليے زنا كرنے اور اس كبيرہ گناہ كے ارتكاب كو مباح كر ديتا ہے؟!

پھر يہ بھى بہت تعجب والى بات ہے كہ دوسرے دين والےشخص جس نے آپ كو اس گناہ ميں ڈالا، يا آپ كے ساتھ وہ اس گندگى ميں گھر گيا؛ ہميں تو يہ معلوم نہيں ہو رہا كہ آپ لوگوں كے نزديك دين پر عمل پيرا ہونا كيا ہے ؟!

اب آپ پر يہ واجب ہوتا ہے كہ آپ اپنے اس گناہ سے سچى اور پكى توبہ كريں، اور اس كے لازم ہے كہ آپ اپنے كيے پر نادم ہوں، اور آئندہ اس طرح كى معصيت كے نزديك بھى نہ جائيں، اور اس گنہگار اور فاجر شخص سے بالكل تعلق ختم كر ديں، اور آپ كے ليے اس سے بات چيت كرنا بھى حلال نہيں، اور نہ ہى خط و كتاب كرنا جائز ہے، چہ جائيكہ اس سے ملنا اور ملاقات كرنا.

سچى اور پكى توبہ كا تقاضا يہى ہے جس كا اللہ سبحانہ و تعالى نے گنہگاروں كو درج ذيل فرمان ميں ديا ہے:

{ اے ايمان والو! اللہ تعالى كى طرف سچى اور پكى توبہ كرو، قريب ہے تمہارا رب تمہارے گناہ دور كر دے اور ايسى جنتوں ميں داخل كرے جن كے نيچے سے نہريں جارى ہيں }التحريم ( 8 ).

دوم:

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ آپ كا يہ فعل آپ دونوں كى شادى كو حرام كر ديتا ہے، چاہے آپ كا والد اس پر موافق بھى ہو؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے زانى مرد اور زانى عورت كا نكاح اس وقت تك حلال نہيں كيا جب تك وہ توبہ نہ كر ليں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور جب عورت زنا كرے اور كسى كو علم ہو جائے تو اس عورت سے نكاح دو شرطوں كے بغير حلال نہيں:

پہلى شرط:

اس كى عدت ختم ہو جائے، اور اگر وہ زنا سے حاملہ ہو جائے تو اس كى عدت وضع حمل ہے، وضع حمل سے قبل اس كے ساتھ نكاح كرنا حلال نہيں.

دوسرى شرط:

وہ زنا سے توبہ كرے.

اور ان كا كہنا ہے:

جب دونوں شرطيں پائى جائيں تو اكثر اہل علم جن ميں ابو بكر اور عمر، ابن عمر، ابن عباس، جابر رضى اللہ تعالى عنہم اور سيد بن مسيب اور جابر بن زيد، عطاء، حسن، عكرمہ، زہرى، ثورى، شافعى، ابن منذر، اور اصحاب الرائ شامل ہيں كے ہاں زانى وغيرہ كا اس عورت سے نكاح جائز ہے.

ديكھيں: المغنى ( 7 / 108 - 109 ).

اس مسئلہ كا حكم ہم درج ذيل سوالات كے جوابات ميں بھى بيان كر چكے ہيں:

سوال نمبر ( 11195 ) اور ( 85335 ) اور ( 96460 ) اور ( 87894 ) اور ( 14381 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

اور پھر جب اللہ سبحانہ و تعالى آپ پر انعام اور احسان كرتے ہوئے اس كبيرہ گناہ اور گندے فعل سے پكى اور سچى توبہ كرنے كى توفيق بخشے، تو پھر آپ كے ليے اس شخص سے اس وقت شادى كرنا ممكن ہے جب آپ اس كى جانب سے بھى سچى اور پكى توبہ ديكھيں، اور آپ كے ليے اپنے والد كو مطمئن كرنا ممكن ہے، يا پھر اس شخص كے ممكن ہے وہ آپ كے والد كو موافقت پر مائل كرے، اور اگر ايسا ممكن نہ ہو سكے تو پھر اميد ہے اللہ تعالى آپ كو اس كا نعم البدل دے گا.

سوم:

عمومى طور پر ولي اور سربراہ اور ذمہ داران كو ہمارى وصيت ہے كہ وہ اپنى ذمہ ميں لڑكيوں كے متعلق اللہ كا ڈر اور تقوى اختيار كريں، اور كوئى ايسا فعل نہ كريں جس كى وجہ سے انہيں سارى عمر كے ليے ندامت كا سامنا كرنا پڑے، اور اس وقت ندامت كا كوئى فائدہ بھى نہ ہو.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب تمہارے پاس كوئى ايسا شخص آئے جس كے دين اور اخلاق كو تم پسند كرتے ہو تو اس كى شادى كر دو "

آپ كے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وصيت تو يہ ہے، اگر تم اس پر عمل نہيں كرو گے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسى حديث ميں فرمايا:

" اگر تم ايسا نہيں كرو گے تو زمين ميں بہت بڑا فساد اور فتنہ پھيل جائيگا "

اس ليے جو شخص تمہارى بيٹيوں يا بہنوں كى رغبت ركھتے ہوئے تمہارے پاس آئے تو پھر اس كى شادى كرنے ميں برادرى اور وطن كو سامنے مت ركھو، اور نہ ہى زبان اور رنگ و جنس اور قبيلے كو دين پر ترجيح دو، اور شيطان كے موقع اور فرصت مت چھوڑو، كيونكہ شيطان تمہارى ذمہ دارى ميں موجود لڑكيوں كو غلط كاموں ميں لگا ديگا اس ليے شيطان سے بچو كہ وہ ان لڑكيوں كو كہيں ان دو خطرناك اور غلط كاموں ميں نہ لگا دے، اور انہيں سبز باغ دكھائے، وہ دو كام زنا يا پھر شادى كے ليے آنے والے شخص كے ساتھ شادى سے انكار كى بنا پر بغير ولى كے ( كورٹ ميرج ) شادى كرنا، جو نكاح كو فاسد كر ديتا ہے، جيسے عمل پر آمادہ كر ديگا.

ديكھيں آپ اس وقت ايك ايسے قصہ كے سامنے ہيں جو واقع ہوا اور سوال ميں اس كو بيان كيا گيا ہے، ديكھيں كہ وہ لڑكى اس شخص كے ساتھ زنا كا ارتكاب كر بيٹھى جو اس سے شادى كرنا چاہتا تھا، اور اب وہ ولى كى اجازت كے بغير اسكے ساتھ شادى كرنے كے متعلق دريافت كر رہى ہے حالانكہ يہ اس كے ليے كوئى عذر نہيں.

اور يہ بتائيں كہ جب اللہ جو تمہارا مالك ہے وہ تمہارا اس امانت كے متعلق جو اس نے حفاظت كے ليے تمہارے سپرد كى تھى كے بارہ ميں تم سے حساب كريگا تو آپ كا عذر اور جواب كيا ہو گا ؟

اور كيا جب تم صاحب دين جو تمہارى لڑكى يا بہن سے كتاب و سنت كے مطابق شادى كرنا چاہتا ہو اسے واپس كر دو اور اس كى رغبت كو رد كر دو تو تمہارے پاس اللہ كے ہاں كيا عذر اور جواب ہو گا ؟!

ہم اس لڑكى كے ليے كوئى عذر نہيں تلاش كر رہے وہ بہت عظيم اور كبيرہ گناہ كا ارتكاب كر چكى ہے، اور اگر وہ ولى كى اجازت كے بغير شادى كر بھى لے تو اس كا نكاح فاسد ہے، ليكن ہم اس وقت ان اولياء اور ذمہ داران كو بھى ملامت كرتے ہيں جو اللہ كا تقوى اور ڈر اختيار نہيں كرتے اور اپنے پاس ركھى گئى امانت ميں كوتاہى برتتے ہيں.

اور ہم لڑكى كو بھى كہتے ہيں كہ: ہو سكتا ہے آپ كے گھر والے جسے رد كرتے ہوں اور اس كے ساتھ آپ كى شادى سے انكارى ہوں اس ميں آپ كى بہترى ہو، اگر وہ اس ميں كوئى مصلحت ديكھتے ہوں تو رد كرتے ہونگے، جس ميں آپ كے دين اور دنيا كى مصلحت ہو، اس ليے كسى معين شخص سے شادى پر اصرار نہيں كرنا چاہيے.

اور وہ اولياء اور ذمہ داران جو اپنى ذمہ ميں لڑكيوں كى شادى كرنے سے بالكل انكارى ہيں وہ گنہگار ہيں، اور ايسى عورت كو حق حاصل ہے كہ وہ اپنا معاملہ شرعى قاضى يا اس كے قائم مقام كے سامنے پيش كرے، تا كہ وہ ان كى ولايت كو شادى سے انكار كرنے والے ولى كى بجائے كسى اور كى طرف منتقل كر دے.

اور اگر اس كے علاوہ كوئى اور ولى بننے كا مستحق نہ ہو اور نہ مل سكے تو پھر شرعى قاضى يا اس كا قائم مقام ولى كے حكم ميں ہو گا، اور وہ خود اس كى شادى كريگا، ليكن عورت خود ہى بغير ولى كے نكاح كرے تو اس كا نكاح فاسد ہو گا.

اس سب كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 7193 ) اور ( 10196 ) اور ( 36209 ) اور ( 2127 ) اور ( 7989 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

ان جوابات ميں ولى كى موافقت كے بغير نكاح فاسد ہونے كے دلائل بيان ہوئے ہيں، اور اگر ولى اس كى شادى نہ كرے تو عورت كو كيا كرنا چاہيے اور دوسرے فوائد بيان ہوئے ہيں.

مزيد آپ سوال نمبر ( 20162 ) كے جواب كا مطالعہ كريں تا كہ آپ كو ايسى عورتوں كے واقعات كا علم ہو سكے جنہوں نے اپنے خاندان اور گھر والوں كى رائے كى مخالفت كر كے اپنى پسند كى شادى كى تھى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments