116641: بيوى دعوى كرے كہ خاوند نے اسے طلاق دے دى اور خاوند اس سے انكار كرے يا بھول گيا ہو


ميں نے اپنى بيوى كو پہلى طلاق دى اور اس سے رجوع بھى كر ليا، مشكل يہ ہے كہ بيوى كہتى ہے كہ ميں نے اسے پہلے بھى طلاق دى تھى ليكن مجھے تو بالكل ياد نہيں كہ ميں نے اسے طلاق دى تھى، ليكن اسے ياد ہے اور اس نے كسى كو بتايا بھى نہيں، حتى كہ ميں نے اپنى والدہ سے بھى اس كے متعلق دريافت كيا ليكن انہيں بھى ياد نہيں، برائے مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟

الحمد للہ:

جب بيوى يہ دعوى كرے كہ خاوند نے اسے طلاق دے دى ہے اور خاوند اس سے انكار كرے تو خاوند كے قول كا اعتبار كيا جائيگا، حتى كہ بيوى طلاق واقع ہونے كى گواہى اور دليل پيش كرے، حكم اور قضاء كے اعتبار سے تو يہى ہے، اور اس كا معاملہ اللہ كے سپرد كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى اس كے دل كى بات كا علم ركھتا ہے.

مرد كے ليے زوجيت باقى ركھنے كا حكم ديا جائيگا، اور اگر بالفعل اس نے طلاق دے دى ہو اور وہ تيسرى طلاق ہو تو اس كے ليے بيوى حلال نہيں ہوگى يہ اللہ اور اس شخص كے مابين ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب بيوى دعوى كرے كہ اس كے خاوند نے اسے طلاق دے دى ہے اور خاوند اس سے انكار كرے تو خاوند كا قول معتبر ہوگا، كيونكہ اصل ميں نكاح باقى ہے اور طلاق نہيں ہوئى، الا يہ كہ اگر بيوى اپنے اس دعوى كى كوئى دليل پيش كرے اور اس ميں بھى دو عادل گواہوں كى گواہى ہى قبول كى جائيگى ...

اور اگر اس كے پاس دليل نہ ہو تو كيا قسم اٹھائے ؟

اس ميں دو روايتيں ہيں؛ ابو الخطاب سے منقول ہے كہ قسم اٹھوائى جائيگى اور صحيح بھى يہى ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ليكن مدعى عليہ پر قسم ہو گى "

اور ايك روايت ميں ہے:

" جو انكار كرے اس پر قسم ہے "

اس ليے اگر تين طلاق دے ديں اور بيوى نے سن ليا اور خاوند اس سے انكار كرے يا پھر بيوى كے نزديك دو عادل گواہوں كى بنا پر يہ ثابت ہو جائے تو پھر بيوى كے ليے حلال نہيں كہ وہ اسے اپنے نزديك آنے دے، اور عورت كو حسب استطاعت اس سے دور رہنا چاہيے اور جب بھى وہ اس كے پاس آنا چاہے تو وہ اس سے انكار كر دے، اگر اس كے پاس استطاعت ہو تو وہ فديہ دے كر آزاد ہو جائے.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس كے ليے خاوند كے ساتھ رہنا صحيح نہيں.

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

جتنى قدرت ركھتى ہو اسے فديہ دے كر اپنے آپ كو آزاد كرائے، اور اگر اسے مجبور كيا جائے تو وہ اس كے ليے زينت مت اختيار كرے اور نہ ہى اس كے قريب آئے بلكہ اگر استطاعت ركھتى ہو تو وہ بھاگ جائے.

اور اگر عورت كے پاس دو عادل شخص اس كى گواہى ديں تو وہ خاوند كے ساتھ مت رہے، اكثر اہل علم كا يہى قول ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 387 ).

اس بنا پر جب آپ كو يہ طلاق ياد نہيں تو يہ آپ پر شمار نہيں ہوگى، .. عدالت اور لوگوں كے سامنے تو آپ نے اپنى بيوى كو ايك ہى طلاق دى ہے.

ليكن ... جب بيوى كو يقين ہے كہ آپ نے اسے طلاق دى تھى تو وہ اس پر اعتماد كرے، اور جب كچھ ہو اور آپ اسے ايك اور طلاق دے ديں تو قضاء كے ہاں يہ دوسرى طلاق ہو گى اور آپ كى بيوى كے نزديك تيسرى طلاق ہو، اس ليے آپ كى بيوى پر واجب ہوگا كہ وہ حسب استطاعت آپ سے چھٹكارا پانے كے ليے فديہ دے، اور اس كے ليے آپ كے ساتھ رہنا حرام ہو جائيگا؛ جيسا كہ امام احمد رحمہ اللہ كى كلام بيان كى جا چكى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments