Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
11681

كيا بيوى سے طويل عرصہ تك دور رہنا طلاق شمار ہوتا ہے

ميں ايك ہندوستانى شخص كى دوسرى بيوى ہوں اور كچھ عرصہ قبل ہى مسلمان ہوئى ہوں ميرے تين بيٹے بھى ہيں سوال يہ ہے كہ:
ميرے خاوند كى پہلى بيوى انڈيا ميں ہے اور تقريبا ايك سال دو ماہ سے ميرا خاوند اسے اس كا حصہ نہيں دے رہا، اور اب وہ تنگ ہو چكى ہے، مجھے يہ علم ہوا ہے كہ جو خاوند اپنى بيوى سے چار ماہ تك دور رہے ت واسے خود بخود ہى طلاق ہو جاتى ہے، كيا يہ بات صحيح ہے ؟
ميرا خاوند اپنى بيٹيوں كى بنا پر اس عورت سے شادى ركھنا چاہتا ہے، ميرا خيال ہے كہ اس كا يہ عمل غلط ہے كہ وہ اس سے صرف رابطہ ركھے اور ميرے خيال كے مطابق اس بيوى كو يہ علم نہيں كہ وہ امريكا ميں رہنے كى پلاننگ كر رہا ہے اور تھوڑى دير كے ليے انڈيا جايا كريگا.

الحمد للہ:

جب خاوند نے بيوى كو طلاق نہيں دى، اور بيوى نے طلاق طلب كرنے كے ليے عدالت سے رجوع نہيں كيا، اور طلاق نہيں ہوئى تو اس كى بيوى كو خود بخود طلاق نہيں ہوگى.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

عورت كب مطلقہ شمار كى جائيگى ؟

تو شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" عورت مطلقہ اس وقت شمار كى جائيگى جب خاوند اسے طلاق دےگا، اور طلاق بھى عقل كى حالت ميں ہو، اور اختيار ركھتا ہو، اور طلاق كے موانع ميں سے كوئى مانع نہ پايا جائے مثلا پاگل پن اور مجنون ہونا، اور نشہ ميں ہونا.

اور پھر عورت كو جب طلاق دى گئى ہو تو وہ پاك صاف ہو يعنى طہر كى حالت ميں ہو اور اس طہر ميں بيوى سے جماع نہ كيا گيا ہو، يا پھر وہ حاملہ ہو، يا حيض سے نااميد ہو چكى ہو " اھـ

ديكھيں: فتاوى الطلاق ( 1 / 35 ).

اس خاوند كے ليے حرام ہے كہ وہ اپنى پہلى بيوى كو چھوڑے ركھے، اور اس كے ساتھ عدل و انصاف نہ كرے، اور اگر ايسا كرتا ہے تو وہ درج ذيل حديث ميں وارد وعيد كا شكار ہو رہا ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كى دو بيوياں ہوں اور وہ ان ميں سے كسى ايك كى طرف مائل ہو اور ايك كو دوسرى پر ترجيح ديتا ہو تو روز قيامت آئيگا اور اس كى ايك طرف گرى ہوئى ہو گى "

سنن ابن ماجہ كتاب النكاح حديث نمبر ( 1959 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1603 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اگر پہلى بيوى اس سے ضرر ميں ہے تو اسے حق حاصل ہے كہ وہ اپنا معاملہ عدالت ميں اٹھائے، تا كہ اس كے خاوند كو يا تو طلاق لازم كى جائے يا پھر نكاح فسخ كيا جائے.

كيونكہ علماء كرام بيوى كو ضرر اور نقصان دينے كے ليے بيغير كسى قسم كے وطئ نہ كرنے والے شخص كو ايلاء كرنے والا شمار كرتے ہيں، اور اس حالت ميں اگر وہ اپنى بيوى كے پاس واپس نہيں جاتا، اور طلاق دينے سے بھى انكار كرتا ہے تو قاضى اور حاكم اس پر فسخ نكاح كا حكم لگائيگا، يا پھر خود نكاح فسخ كر ديگا "

واللہ اعلم.

ديكھيں: اللخص الفقھى للفوزان ( 2 / 321 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 9021 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments