Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
1171

عورتوں كے ليے مصنوعى بال اور وگ لگانے كا حكم

كيا عورت اپنے خاوند كے ليے بطور بناؤ سنگھار وگ لگا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

خاوند اور بيوى ميں سے ہر كوئى ايك دوسرے كے ليے بناؤ سنگھار كر سكتا ہے، بلكہ كرنا چاہيے جس سے ان ميں محبت كا تعلق قوى ہوتا ہے، ليكن يہ سب كچھ شرعى حدود كے اندر رہتے ہوئے كرنا ہوگا، اسلام نے جو كچھ مباح كيا وہ استعمال كيا جائے، اور حرام كردہ اشياء سے اجتناب كيا جائے.

وگ نامى بالوں كا استعمال غير مسلم عورتوں ميں شروع ہوا وہ وگ لگا كر خوبصورتى حاصل كرتى ہيں، حتى كہ يہ چيز ان كى علامت بن چكى ہے، اس ليے مسلمان عورت كے ليے بطور خوبصورتى وگ لگانا جائز نہيں، چاہے خاوند كو دكھانے كے ليے ہى ہو، كيونكہ اس ميں كفار عورتوں كے ساتھ مشابہت پائى جاتى ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے مشابہت اختيار كرنے سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ ا نہى ميں سے ہے "

اور اس ليے بھى كہ يہ بالوں كے ساتھ اور بال ملانے ميں شامل ہوتا ہے، بلكہ يہ اس سے بھى شديد ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع كيا اور اس پر لعنت فرمائى ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 191 ).

اور حميد بن عبد الرحمن بن عوف بيان كرتے ہيں كہ جس برس معاويہ بن ابو سفيان رضى اللہ تعالى عنہما نے حج كيا اور وہ منبر پر بيٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے ايك خادم كے ہاتھ سے بال پكڑے ( وگ ) اور فرمانے لگے:

" تمہارے علماء كہاں ہيں، ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سنا كہ آپ اس سے منع فرمايا كرتے تھے، اور وہ كہتے تھے: جب بنو اسرائيل كى عورتوں نے يہ لگانے شروع كيے تو وہ ہلاك ہو گئے "

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى بال لگانے اور بال لگوانے، اور جسم گدوانے اور گودنے والى پر لعنت فرمائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5477 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments