Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
118175

بيوہ اور طلاق كى عدت اور كفارہ كے روزوں ميں مہينوں كے حساب كى كيفيت

ميرى والدہ بيوہ كى عدت گزار رہى ہيں، والد صاحب كے فوت ہونے كے بعد تين ماہ مسلسل انتيس يوم كے آئے، اور چوتھا مہينہ تيس يوم كا تھا... كيا اب دس يوم اور زيادہ كرے يا كہ چار ماہ دس دن مكمل كرنے كے ليے تيرہ يوم كا اضافہ كرنا ہو ہوگا تا كہ انتيس يوم كے تين ماہ كى بھى تكميل ہو سكے ؟

الحمد للہ:

بيوہ كى عدت چار ماہ دس دن رات ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم ميں سے جو لوگ فوت ہو جائيں اور اپنے پيچھے بيوياں چھوڑ جاتے ہيں وہ بيوياں چار ماہ دس دن عدت گزاريں }البقرۃ ( 234 ).

عدت كا يہ عرصہ خاوند كے فوت ہونے سے شروع ہوگا اور عدت كے ايام ختم ہونے پر عدت ختم ہو جائيگى.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اہل علم كا اجماع ہے كہ جس آزاد عورت كا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ نہ ہو تو اس كى عدت خاوند كى وفات سے چار ماہ دس دن ہوگى، چاہے عورت مدخولہ ہو يا غير مدخولہ ہو، اور چاہے بڑى عمر كى بالغ ہو يا چھوٹى عمر كى ابھى بالغ بھى نہ ہوئى ہو؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم ميں سے جو لوگ فوت ہو جائيں اور اپنے پيچھے بيوياں چھوڑ جائيں تو وہ بيوياں چار ماہ دس دن عدت گزاريں }.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو عورت بھى اللہ تعالى اور آخرت پر ايمان ركھتى ہے اس كے ليے حلال نہيں كہ وہ كسى ميت پر تين دن سے زيادہ سوگ نہيں كر سكتى، مگر خاوند پر چار ماہ دس يوم " متفق عليہ " انتہى

جمہور فقھاء كے قول كے مطابق عدت كے ايام ميں قمرى يعنى چاند كے اسلامى مہينوں كا حساب ہوگا، چاہے مہينہ انتيس يوم كا آئے يا تيس يوم كا، جب چار ماہ مكمل ہو جائيں تو ان پر دس يوم كا اضافہ كر كے عدت مكمل كر لى جائيگى تو اس طرح بيوہ كى عدت پورى ہوگى.

يہ اس صورت ميں ہے جب خاوند كى وفات مہينہ كے شروع ميں ہوئى ہو، ليكن اگر وفات مہينہ كے دوران ہوئى ہو تو پھر باقى مانندہ مہينہ گزار كر باقى تين ماہ قمرى چاہے انتيس كے ہوں يا تيس كے اور باقى مانندہ مہينہ كے ايام مكمل كرنے ميں اہل علم كے دو طريقے ہيں:

پہلا طريقہ:

اس مہينہ كے تيس يوم شمار كيے جائيں؛ چاہے مہينہ كے ايام انتيس ہوں يا تيس اسے مكمل تيس شمار كيا جائيگا.

دوسرا طريقہ:

جس ماہ ميں خاوند فوت ہوا اس كے باقى مانندہ ايام پانچويں مہينہ سے پورے كيے جائيں، اگر وہ مہينہ تيس يوم كا تھا تو تيس پورے كيے جائيں، اور اگر انتيس كا ہوا تو انتيس مكمل كيے جائيں.

مزيد تفصيل كے ليے آپ المغنى ( 8 / 85 ) اور كشاف القناع ( 5 / 418 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 29 / 315 ) كا مطالعہ كريں.

يہ دوسرا قول شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اختيار كيا ہے، اور معاصرين ميں سے شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے ہى راجح قرار ديا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ:

" اگر كسى شخص نے پندرہ جمادى الاولى كو دو ماہ كے مسلسل روزے ركھنا شروع كيے اور جمادى الاولى اور جمادى الثانى دونوں ماہ انتيس يوم كے ہوے تو پہلے مہينہ كے تيس يوم پورے كرنے كے قول كے مطابق اس كے روزے پندرہ رجب كا روزے ركھنے پر ختم ہو جائيں گے.

اور راجح قول كے مطابق دونوں مہينے چاند كے مطابق شمار ہونگے، اس طرح اس كے روزے چودہ رجب كا روزہ ركھنے سے پورے ہو جائيں گے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 413 ـ 414 ).

اسى طرح شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے كہ:

" ہم تعداد كے كہنے كى كوئى ضرورت نہيں؛ بلكہ ہم مہينہ كے ابتداء كے دن كو ديكھيں گے تو دوسرے مہينہ ميں اسى دن ختم ہوگا " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 25 / 144 ).

بيوہ كى عدت ميں اس كى مثال اس طرح ہوگى كہ: اگر كوئى شخص بارہ محرم كو فوت ہوا تو اس كى بيوى عدت اس طرح گزارى گى، بارہ جمادى الاولى تك چار ماہ ہونگے چاہے وہ انتيس كے ہوں يا تيس كے، اور اس كے بعد دس دن اور زيادہ كر كے عدت ختم كر لےگى، لہذا اس كى عدت بائيس جمادى الاولى اس وقت ختم ہوگى جس وقت اس كا خاوند فوت ہوا تھا.

اس بنا پر پر آپ كى والدہ صرف دس دن اور زيادہ كريگى اور اسے جو مہينہ انتيس كا تھا اسے تيس يوم كا پورا كرنے كى كوئى ضرورت نہيں.

بيوہ كى عدت كے بارہ ميں ہم نے جو تفصيل بيان كى ہے دو ماہ كے مسلسل روزے ركھنے ميں بھى اسى طرح حساب كيا جائيگا، اور طلاق كى عدت ميں بھى مہينوں كا حساب اسى طرح كيا جائيگا، ليكن شرط يہ ہے كہ اگر طلاق يافتہ لڑكى ابھى حيض كى عمر كو نہ پہنچى ہو، يا پھر جو عورت حيض سے نا اميد ہو چكى ہو اس كى عدت كا مہينوں كے مطابق حساب كيا جائيگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments