118856: خاوند اور بيوى كے آباء و اجداد يا اولاد كا نكاح ميں گواہ بننا


كيا عورت كے نانا يا دادے كے ليے عقد نكاح ميں گواہى دينا جائز ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

جمہور علماء كے ہاں عقد نكاح صحيح ہونے كے ليے دو عادل مسلمان گواہ ہونے كى شرط ہے، اور راجح قول يہى ہے كہ عورت كا دادا اور نانا گواہ بن سكتا ہے.

ليكن بعض فقھاء نے خاوند اور بيوى كے آباء و اجداد يا عورت كے ولى يا ان كى اولاد كو گواہ بننے سے منع كيا ہے.

كشاف القناع ہيں درج ہے:

" قريبى رشتہ دار مثلا خاوند اور بيوى كے بيٹے يا دونوں ميں سے كسى ايك كے بيٹے وغيرہ مثلا ان كے باپ اور ايك كا بيٹا اور دوسرے كا باپ گواہى دے تو نكاح نہيں ہوگا، كيونہ يہ متہم ہے يعنى تہمت كا خدشہ ہے " انتہى

يعنى وہ اس گواہى ميں تہمت والا ہے كيونكہ وہ يا تو اپنے باپ كے ليے يا پھر اپنے بيٹے كے ليے گواہى دے رہا ہے.

ديكھيں: كشاف القناع ( 5 / 66 ).

اور شرح المتھى ميں درج ہے:

" بيوى كے باپ يا دادا كى گوہى صحيح نہيں ( يعنى عقد نكاح ميں اسكى گواہى صحيح نہيں ) اور نہ ہى اس كے بيٹے اور اس كے پوتے كى، اسى طرح خاوند كے باپ اور دادے اور اس كے بيٹے اور پوتے كى گواہى بھى تہمت كى بنا پر صحيح نہيں، اور اس طرح ولى كے باپ اور اس كے بيٹے كى " انتہى

ديكھيں: شرح المنتھى ( 2 / 648 ).

الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ميں نكاح كے گواہوں كى شروط ميں درج ہے:

" گواہ خاوند اور بيوى كے بيٹے نہ ہوں:

حنابلہ نے بيان كيا ہے ـ ان كے ہاں مذہب ميں يہى ہے جيسا كہ مرداوى كا كہنا ہے ـ كہ نكاح كے گواہوں ميں شرط ہے كہ وہ خاوند اور بيوى ميں سے كسى ايك بيٹا نہ ہو، ان كے ہاں خاوند اور بيوى كے بيٹوں يا كسى ايك كے بيٹے كى گواہى سے نكاح منعقد نہيں ہوگا.

اور احناف اور مالكيہ كے عمومى قول سے بھى يہى اخذ كياگيا ہے كہ باپ كى بيٹے كے ليے اور بيٹے كى باپ كے ليے گواہى قبول نہيں ہوگى.

اور شافعيہ كے ہاں اس مسئلہ ميں كئى ايك وجہيں ہيں ليكن صحيح يہى ہے كہ عقد نكاح ہو جائيگا. انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ( 41 / 300 ).

اور امام احمد رحمہ اللہ سے اصل اور فرع يعنى آباء و اجداد اور اولاد كى گواہى صحيح ہے، امام احمد كے اصحاب كى ايك جماعت نے يہ قول اختيار كيا ہے "

ديكھيں: الانصاف ( 8 / 105 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں دوسرا قول:

دونوں يا ايك گواہ اصل يا فرع ( يعنى آباء و اجداد يا اولاد ) ميں سے ہونا صحيح ہے، اور بلاشك و شبہ يہى قول صحيح ہے؛ كيونكہ اصل اور فرع كى گواہى تو وہاں ممنوع ہے جہاں انسان كے ليے گواہى ہو؛ كيونكہ تہمت كا خدشہ ہوتا ہے ليكن اس پر يا اس كے ليے گواہى جيسا كہ عقد نكاح ميں ہوتا ہے تو يہ ممنوع نہيں...

چنانچہ نكاح حقيقت ميں نہ تو خاوند كا حق ہے اور نہ ہى بيوى كا، اور نہ ہى اس كے خلاف، بلكہ يہ تو اس كے ليے اور اس پر ہے؛ كيونكہ يہ عقد نكاح كرنے والے كے ليے حقوق واجب كرتا ہے اور اس پر حقوق واجب كر رہا ہے، چنانچ صحيح يہ ہے كہ اس سے عقد نكاح صحيح ہوگا، امام احمد سے يہ ايك روايت ہے جسے اكثر اصحاب نے اختيار كيا ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 99 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments