11931: مومن کےاہل وعیال کاجنت میں اس سےملنا


کیا جنتی جہنم والوں میں سےجس سےمحبت کرتےہوں گےوہ ان کےساتھ ملیں گے؟
کیامحبوب کوجہنم سےنکالناممکن ہوگا کیونکہ جنتیوں کاہرمطالبہ پوراہوگا(جب ہم یہ اعتبارکریں کہ وہ اپنےانجام کاعلم رکھتےہیں )؟
اورکیایہ ممکن ہےکہ جن غیرمحرموں سےدنیامیں ہم محبت کرتےہیں وہ اورہم جمع ہو جائیں ؟
کیاان میں وہ بھی شامل ہیں جن سےہم محبت توکرتےہیں لیکن ان سےہم شادی نہیں کرسکے ؟

الحمدللہ

اول :

سب سے پہلے آپ کے اس قول کاجواب ،، کیا ان میں وہ بھی شامل ہیں جن سے ہم محبت تو کرتے ہیں لیکن ان سے ہم شادی نہیں کرسکے ؟ ،،

جواب :

کسی مسلمان کے لئے یہ جائزنہیں کہ اجنبی عورتوں سےتعلقات رکھے اوراسی طرح کسی مسلمان عورت کے لئے بھی یہ جائزنہیں کہ وہ کسی مرد سے تعلقات رکھے اوراس کادل سوائے اپنے خاوند کے کسی اورسے معلق نہیں ہوناچاہئے ۔

اس کے لئے آپ سوال نمبر ۔(9465) اور (5445) اور (1200) کامراجعہ کریں ۔

دوم :

آپ کایہ قول کہ : کیاجنتی جہنم والوں میں سےجس سےمحبت کرتے ہوں گے وہ ان کےساتھ ملیں گے ؟

جی ہاں اگروہ جہنم والے جن سے جنتی لوگ محبت کرتے ہوں اہل توحیدہوں گے تووہ جنتیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور وہ اس طرح کہ جنتی ان کے لئے سفارش کریں گے کہ انہیں جہنم سے نکال کرجنت میں داخل کردیاجائے ۔

اس کی دلیل امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی یہ حدیث ہےجسےامام صاحب نے کتاب التوحیدمیں نقل فرمایا ہے ۔

ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نےکہااےاللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کیاہم قیامت کےدن اپنےرب کودیکھیں گے ؟

تورسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب مطلع صاف ہوتو کیاتمہیں سورج اورچاندکودیکھنےمیں کوئی مشکل پیش آتی ہے ؟ ہم نےکہانہیں ،

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : بیشک تمہیں اپنےرب کودیکھنےمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئےگی جس طرح کہ تمہیں سورج اور چاند کودیکھنےمیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ۔

پھرفرمایا : پل صراط کولاکر جہنم کے او پررکھ دیاجائےگاتوہم نےکہااےاللہ تعالی کےرسول وہ پل کیساہوگا۔

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : وہ پھسلادینےوالاہے جس سےبندہ پھسل جائے گااس پرکنڈےاورکنڈیاں ہوں گی اورچوڑے سے پھالے پرزہریلےکانٹےلگےہوں گےجوکہ نجدمیں پائےجاتے اوراسےسعدان کہا جاتاہے (کانٹےدارگھاس ہے جسےبکریاں کھا کرمرجاتی ہیں ) اس پرسےمومن کو‎ئی توبجلی کی تیزی سے اورکوئی آندھی کی تیزی اورکوئی تیز رفتارگھوڑے کی طرح اورکوئی اس سےکم رفتارکے ساتھ گزرےگا ۔

توکوئی مسلمان صحیح سالم نجات پاجائےگااورکوئی زخمی ہوکرنجات پائےگااورکو ئی جہنم کی آگ میں گرتاپڑتانجات پائےگاحتی کہ ان میں سےآخری کھنچتاہواجائےگاتوتم مجھ سےزیادہ حق کوتلاش کرنےوالےنہیں تمہارےلئےاس دن اللہ جبارکے لئےمومن جب وہ یہ دیکھیں گےکہ انہیں نجات مل گئی ہے تووہ اپنے بھائیوں کےمتعلق کہیں گے ۔

اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارےساتھ نماز یں پڑھتےاورہمارے ساتھ روزے رکھتے اورہمارے ساتھ عمل کرتے تھے ، تواللہ تعالی انہیں فرمائےگا: جاؤجس کےدل میں تمہیں دینارکے وزن برابر بھی ایمان ملےاسےجہنم سےنکال لواوراللہ تعالی آگ پران کی صورتوں کوحرام کردےگا، جب وہ ان کے پاس آئیں گےتوان میں سے بعض قدموں تک اوربعض نصف پنڈلیوں تک آگ میں غائب ہوچکے ہوں گے۔ جنہیں وہ جانتے ہوں گےانہیں وہ آگ سے نکال کرلےآئیں گے ۔

تواللہ تعالی انہیں فرمائےگاجاؤجس کےدل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے اسے بھی جہنم سےنکال لاؤتوجنہیں وہ جانتے ہوں گےانہیں نکال لائیں گے ۔

ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں اگرنہیں مانتے تواللہ تعالی کایہ فرمان پڑھ لو:

{ بیشک اللہ تعالی ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتااگرایک نیکی بھی ہوگی تواللہ تعالی اسےزیادہ کردےگا }۔

توانبیاء اورفرشتےاورمومن سفارش کریں گےتواللہ تعالی فرمائےگامیری شفاعت باقی ہے تواللہ تعالی ایک مٹھی بھرکرلوگوں کوآگ سےنکالےگاتوایسی قوم نکلےگی جن کی کھال جل چکی ہوگی انہیں جنت کے سامنےایک نہرمیں ڈالاجائےگاجسےآب حیات کہاجاتاہے تووہ نہرکےکنارے ایسےاگ آئیں گےجس طرح کہ سیلاب کےاوپردانےاگ آتےہیں ۔۔۔حديث ۔

لیکن جومشرک ہوں گےانہیں سفارش کوئی فائدہ نہیں دےگی ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ بیشک اللہ تعالی قطعی طورپرنہیں بخشےگا کہ اس کےساتھ شریک مقررکیاجائے اووشرک کےعلاوہ باقی گناہ جسےچاہے بخش دے } النساء ۔/(116)

اورآپ کویہ علم چاہئےکہ شفاعت اورسفارش کی دوقسمیں ہیں :

پہلی قسم :

وہ سفارش جوصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ خاص ہے اس کی انواع واقسام ہیں ان میں سےسب سےعظیم شفاعت شفاعت عظمی ہے :

شفاعت عظمی :

یہ وہ مقام محمود ہے جس کاوعدہ اللہ تعالی نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےاس فرمان میں کیا ہے :

{ رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کارب آپ کومقام محمود میں کھڑا کرےگا } الاسراء ۔/(79)

یہ وہ سفارش ہے جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کےدن اہل موقف کےکرب وتکلیف میں کمی کےلئےکریں گے ۔

دوسری قسم :

عام شفاعت وسفارش : یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورسب مومنوں کےلئےہوگی اوراس کی کئی انواع ہیں :

پہلی قسم : ان کےمتعلق شفاعت جوآگ میں جانےکےمستحق نہیں ہوں گےاس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےاس فرمان سےدلیل لی جاسکتی ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ( کوئی مسلمان مرےتواس کےجنازہ میں شرک نہ کرنےوالےآدمی شریک ہوں تواللہ تعالی اس کےمتعلق ان کی شفاعت وسفارش قبول کرتاہے)۔

صحیح مسلم ( 2 /655 )

دوسری قسم : ان کےمتعلق جوکہ آگ میں داخل ہوچکےہوں انہیں نکالنےکی شفاعت ۔

ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے تم میں سےکوئی بھی مومنوں سے زیادہ اپنےان بھائیوں کےمتعلق جوکہ آگ میں ہوں گےقیامت کےدن اللہ تعالی سےحق طلب کرنےوالانہیں ، اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارےساتھ نمازیں پڑھتےاورہمارے ساتھ روزے رکھتے اورہمارے ساتھ حج کرتے تھے ، تواللہ تعالی انہیں فرمائےگا: جاؤجنہیں تم جانتے ہونکال لاؤ توان کی صورتیں آگ پرحرام کردیں جائیں گی تووہ بہت سی خلقت کونکال لائیں گے جس کےگھٹنوں اورپنڈلیوں تک آگ پہنچ چکی ہوگی۔) صحیح مسلم حدیث نمبر۔( 269 )

تیسری قسم : مومنوں کےدرجات بلندکرنےکی شفاعت وسفارش ، تویہ مومنوں کی ایک دوسرےکےمتعلق دعاسےلی جائےگی جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کوفرمان ہے :

( اےاللہ ابوطلحہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کوبخش دے اوراس کےدرجات بلندکرکےاسے مہدیین میں کردےاوران کی قبرمیں وسعت اورنوربھردےاوراس کےبعداس کاخلیفہ بن )۔

اوردعاکرناشفاعت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :

( کوئی مسلمان مرےتواس کےجنازہ میں شرک نہ کرنےوالے آدمی شریک ہوں تواللہ تعالی تواس کےمتعلق ان کی شفاعت وسفارش قبول کرتا ہے )۔

دیکھیں کتاب : القول المفیدجلدنمبر۔( 1 ۔صفحہ نمبر۔332)

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments