12000: تعويذ لكھنے والے كے پيچھے نماز ادا كرنا


كيا لوگوں كو تعويذ لكھ كر دينے والے امام كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز ہے؟
پھر اگر قحط سالى پڑ جائے تو يہ امام ايك مينڈھا يا گائے خريد كر ذبح كرنے اور اسے بچوں كو كھانے كا حكم دے تا كہ بارش نازل ہو، اور كيا جو شخص غير اللہ كے ليے نذر و نياز دے اس كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

شرعى دعاؤں اور قرآنى تعويذ لكھنے والے شخص كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز ہے، ليكن اسے يہ لكھنے نہيں چاہيے كيونكہ تعويذ باندھنے جائز نہيں.

ليكن اگر تعويذ شركيہ امور پر مشتمل ہوں تو ان تعويذوں كے لكھنے والے كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز نہيں، اس كے ليے يہ بيان كرنا واجب ہے كہ يہ شرك ہے، جس شخص كو اس كا علم ہو كہ يہ شركيہ تعويذ ہيں اس كے ليے اسے بيان كرنا واجب ہے.

غير اللہ كے ليے نذر و نياز شرك ہے، اور غير اللہ كے ذبح كرنا بھى شرك ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جو كچھ بھى تم خرچ كرتے ہو يا نذر مانتے ہو اللہ تعالى اسے جانتا ہے﴾.

اور ايك مقام پر اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ كہہ ديجيے كہ يقينا ميرى نماز اور ميرى قربانى اور ميرى زندگى اور ميرى موت اللہ رب اللہ العالمين كے ليے ہى ہے، اس كا كوئى شريك نہيں ﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"جس نے غير اللہ كے ليے ذبح كيا اس پر اللہ تعالى كى لعنت ہے "

اور نذر اللہ تعالى كے فرمان " نسكى " ميرى قربانى ميں داخل ہے.

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ ثابت نہيں كہ قحط سالى كے وقت آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے مينڈھا يا گائے ذبح كر كے بچوں كو كھانے كا حكم ديا ہو تا كہ بارش كا نزول ہو.

بلكہ قحط سالى كے وقت تو نماز استسقاء ادا كرنى اور اللہ تعالى سے استغفار اور فقراء پر صدقہ و خيرات كرنا مشروع ہے.

بلكہ يہ كام تو بدعت ہے جس كى شريعت ميں كوئى اساس نہيں ملتى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" جس نے بھى ايسا كوئى عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہ ہو وہ مردود ہے"

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتوں كا نزول فرمائے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 3 / 65 ).
Create Comments