Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
12329

رمضان المبارک میں دن کے وقت جماع کے چھ مسائل

یہ توکسی سے بھی مخفی نہيں کہ رمضان میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع کرنے والے کا کفارہ یہ ہے کہ یا تو غلام آزاد کرے ، یا پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے ۔
سوال یہ ہے کہ :
1 - جب کوئي اپنی بیوی سے مختلف دنوں میں ایک بار سے زيادہ جماع کرے تو کیا وہ ہر دن کے بدلے میں مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے گا ، یا کہ اسے ان ایام کے بدلے میں صرف دوماہ کے روزے ہی کافی ہونگے ؟
2 - جب کسی کویہ علم نہ ہوکہ رمضان میں روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع کی سزا مندرجہ بالا ہے بلکہ اس کا اعتقاد یہ ہو کہ ہر دن کے بدلے میں ایک ہی روزہ قضا ہے اس کا حکم کیا ہوگا ؟
3 - کیا خاوند کی طرح بیوی پر بھی کفارہ ہوگا ؟
4 - کیا کھانے کے بدلے میں پیسے ادا کیے جاسکتے ہیں ؟
5 - کیا خاوند اوربیوی کی جانب سے ایک ہی مسکین کو کھلانا جائز ہے ؟
6 - اگر کوئي مسکین نہ ملے تو کیا کسی خیراتی تنظیم کو پیسے ادا کیے جاسکتے ہيں مثلا جمعۃ البر ریاض ، یا اورکوئي اورتنظیم ؟

الحمد للہ
روزے کس پر فرض ہیں :

اول :

جب کوئي رمضان میں دن کو روزے کی حالت میں ایک ہی دن میں ایک یا کئي ایک باراپنی بیوی سے جماع کرے تواس پر ایک ہی کفارہ ہوگا ، اورجب رمضان کے مختلف ایام میں بیوی سے جماع کرے تواس پر ایام کے حساب سے کفارہ ہوگا ۔

دوم :

جماع کی وجہ سے کفارہ لازم ہے چاہے وہ اس کےحکم سے جاہل ہی کیوں نہ ہو کہ جماع سےکفارہ لازم آتا ہے ۔

سوم :

اگر بیوی جماع پر راضي ہوتواس پر بھی جماع کا کفارہ ہوگا ، لیکن اگر وہ مکرہہ یعنی اسے مجبور کیا گيا ہو تو پھر کفارہ نہيں ہوگا ۔

چہارم :

کھانے کے بدلے میں پیسوں کی ادائیگي کفائت نہيں کرے گی ۔

پنچم :

اپنی اوربیوی کی جانب سے ایک ہی مسکین کو نصف اپنا اورنصف بیوی کی جانب سے پورا ایک صاع کھانا دینا جائز ہے ، جوکہ ایک مسکین شمار ہوگا ۔

ششم :

ساٹھ مسکینوں کا کھانا ایک ہی یا پھر کسی تنظیم کودینا جائز نہيں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں میں تقسیم نہ کرے ، لھذا مؤمن پر واجب ہے کہ کفارہ اوردوسرے واجبات ادا کرنے سے بری الذمہ ہو ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ، اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آل اورصحابہ کرام پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ .

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 320 ) ۔
Create Comments