Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
12403

شادی کاارادہ ہولیکن اس کی طاقت نہ پانےوالے کونصیحت

ہمارے ہاں مسجد میں ایک پروگرام کا اہتمام ہوا جس میں مسلمان نوجوانوں نے اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ شادی کے متعلق احادیث کے بارہ میں مناقشہ کیا اور یہ کہ انہیں چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی شادی کے معاملات میں آسانی پیدا کریں ۔
تواس موضوع نے کئ اورموضوع بھی بحث کے لیے کھول دیے ، والدین زوجین کی حالت اوران کی رفاہ کا اھتمام کرتے ہیں اور پھرخاص طور پربچے کی پیدائش کے موقع پر ۔
دور حاضرمیں طالب علم گریجویشن کی تعلیم 21 برس کی عمرمیں یا میڈیکل کی تعلیم 23 برس کی عمر میں مکمل کرتے ہیں اور وہ شادی کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے ، توان کے لیے آپ کون سی عملی نصحیت فرمائيں گے ، یورپ میں بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو اپنے آدھے دین ( شادی ) کومکمل کرنا چاہتے ہیں ؟

الحمد للہ
اول :

آدمی کا امورشرعیہ میں مناقشہ کرنا اوراس میں وقت گذارنا اس کے لیے سب سے نفع مند کام ہے ، اس لیے کہ طلب علم فرض اور عبادت کا درجہ رکھتا ہے اوراس کام میں مصروف ہے جواسے اوردوسروں کے لیے بھی نفع مند ہے ۔

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب مناقشہ میں کسی مسئلہ میں مشکل پیش آۓ توانہیں چاہیے کہ وہ اس کوعلماء کرام سے پوچھ لیں ۔

دوم :

فسق وکفر والے ممالک میں رہنے والوں کے لیے نصحیت ہے کہ وہ مسلم ممالک کی طرف ھجرت کریں جہاں پردنیاوی فتنے نہیں پاۓ جاتے ، اوراسے وہاں بھی شادی کے لیے عورتیں مل جائيں گی اور یہ عورتیں ایک دوسرے سے بڑھ کرہیں لیکن ان میں اختیاروہ کرنی چاہیے جو( دینی ناحیہ سے ) اچھی ہو ۔

اورہم اسے یہ نصیحت کریں گے کہ وہ ایسا ماحول ترک کردے جہاں پر اس کے قدم پھسلنے کا خطرہ ہے ، چاہے وہ رہائشی یا کام کرنے اور یا پھر پڑھائ کا ماحول ہو ۔

اور ہم اسے یہ بھی نصیحت کریں گے کہ وہ جتنی جلدی ہوسکے شادی کرلے اور ایسی صالحہ لڑکی اختیارکرے جواسے مھراور دوسری فرمائشوں سے تنگ نہ کرتی رہے ۔

یہ بھی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر وہ شادی کی طاقت نہیں رکھتا تو اللہ تعالی کا تقوی اختیارکرتے ہوۓ حرام کردہ اشیاء کی طرف نہ دیکھے اور نہ ہی حرام کردہ اشیاء سنے اور حرام کی طرف جانے اوراسے چھونے سے بھی باز رہے ، اوراس کے لیے روزے اورنماز اوردعاء اور صالح قسم کے دوست واحباب سے تعاون حاصل کرے ، اور اپنے وقت کوگزارنے کے لیے طلب علم اور حفظ قرآن اور دعوت الی اللہ میں مصروف رہے اس لیے کہ اگر نفس کواللہ تعالی کی اطاعت میں مصروف نہ رکھا جاۓ تووہ اللہ تعالی کی معصیت میں مشغول ہوجاۓ گا ۔

سوم :

ولی الامر اور نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کوہماری نصیحت ہے کہ وہ شادی کے لیے تکمیل تعلیم کا بہانہ نہ بنائيں اور اسے رکاوٹ نہ بنائيں ۔

تحصیل علم میں شادی رکاوٹ کب بنی تھی ؟ بلکہ تجربہ اور واقع تواس کے برعکس اور اس پرشاھد ہے کہ شادی توتحصیل علم میں ممد اورمعاون ثابت ہوتی ہے ، اس لیے کہ ذھن ہرقسم کے غلط خیالات سے صاف شفاف ہوجاتا اور سوچ وفکر میں راحت آجاتی ہے ، بلکہ اس سے بڑھ کریہ ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نوجوانوں کوشادی والے حکم کی تعمیل کرنے میں جلدی ہے ۔

اورنوجوانوں کے اولیاء کے ذمہ بھی ہے کہ وہ نوجوانوں کوایسی فرمائشیں کرکے جن میں اسراف اور زیادتی ہو تنگ نہ کریں ، اور صرف وہ چیز ہی طلب کریں گھراور عورت کی ضرورت ہو ، اور انہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ شادی طلب رزق کے اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اورتم میں سے جومردوعورت شادی شدہ نہ ہوں ان کا نکاح کردواور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی اگروہ مفلس بھی ہوں گے تواللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا ، اللہ تعالی کشادگی والا اور علم والا ہے } النور ( 32 ) ۔

واللہ تعالی اعلم  .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments