Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
12406

اسلام قبول كرنے كے بعد كفر كى بنا پر قتل كرنا

مرتد كى سزا قتل ہے، اس ميں اتنى شدت اور سختى كيوں ہے ؟

الحمد للہ:

دين اسلام سے مرتد ہونے والے شخص كى سزا قتل ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم ميں سے جو كوئى بھى اپنے دين سے پھر جائے اور مرتد ہو جائے اور وہ كفر كى حالت ميں ہى مر جائے تو يہى وہ لوگ ہيں جن كے سارے اعمال دنيا و آخرت ميں تباہ ہو گئے، اور يہى جہنم والے ہيں اس ميں ہميشہ رہينگے ﴾البقرۃ ( 217 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص اپنا دين بدل لے اسے قتل كر دو "

اسے امام بخارى رحمہ اللہ نے صحيح بخارى ميں روايت كيا ہے.

حديث كا معنى يہ ہے كہ: جو شخص بھى دين اسلام چھوڑ كر كسى اور دين ميں چلا جائے اور اس پر قائم رہے اور توبہ نہ كرے تو اسے قتل كر ديا جائيگا.

اور صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان بھى ثابت ہے كہ:

" جو مسلمان بھى اس بات كى گواہى ديتا ہے كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور الہ نہيں، اور ميں اللہ كا رسول ہوں، اس كا خون كرنا حلال نہيں، ليكن تين وجہ سے اسے قتل كيا جا سكتا ہے، جان كے بدلے جان، اور شادى شدہ زانى كو، اور دين سے نكل جانے اور جماعت كو ترك كرنے والے كو "

اسے بخارى و مسلم نے روايت كيا ہے.

مرتد كى سزا ميں تشديد كئى ايك امور كى بنا پر ہے جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

1 - يہ سزا دكھلاوے يا بطور نفاق اسلام قبول كرنے سے روكنا ہے، اور اس كے ليے اسلام پر كاربند رہنے كا باعث ہے، تو اسے علم و بصيرت كے ساتھ اسلام قبول كرنے كا اقدام كرنا ہو گا، اور اسے علم ہو كہ دنيا و آخرت ميں اس كا انجام كيا ہے.

كيونكہ اسلام قبول كرنے كا اعلان كرنے والا اسلام كے سارے احكام و قوانين پر راضى و خوشى اوراپنے اختيار سے پابندى كے ساتھ عمل كرنے كى موافقت كر رہا ہے، اس بنا پر اگر وہ دين اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے ہے تو اسے قتل كى سزا دى جائيگى.

2 - جس نے اسلام قبول كرنے كا اعلان كيا وہ مسلمانوں كى جماعت ميں شامل ہو چكا ہے، اور جو شخص مسلمانوں كى جماعت ميں شامل ہو گيا اس سے جماعت كى مكمل ولاء و دوستى اور مدد و نصرت مطلوب ہے اور ہر وہ چيز جو جماعت ميں فتنہ و فساد كا باعث ہو يا جماعت كو گرانے يا اس كى وحدت كى تفريق و پھوٹ كا باعث ہو اسے ختم كرنے كا پابند ہے.

اور دين اسلام سے ارتداد مسلمانوں كى جماعت اور اس كے نظام الہى سے خارج ہونا، اور اس ميں نقصان دہ اثرات لانے كا باعث ہے، اور اس جرم كے ارتكاب سے لوگوں كو روكنے كے ليے قتل كى سزا ہى سب سے بڑا ڈراوہ اور دھمكى ہے.

3 - كمزور ايمان كے مالك مسلمان اور اسلام كے مخالف دوسرے لوگ مرتد كے بارہ ميں يہ خيال كرينگے كہ اس نے اسلام كى حقيقت اور اس كى تفصيلات ديكھ كر ہى اسلام كو ترك كيا ہے، اگر وہ حق ہوتا تو وہ دين اسلام سے نہ پھرتا، تو اس وقت وہ مرتد كى جانب سے اسلام كے نور كو ختم كرنے كے بارہ ميں ہر قسم كے شكوك و شبہات، اور كذب و افتراء اور خرافات كو قبول كرينگے، اور اس سے دلوں ميں نفرت پيدا ہوگى، اس ليے اس وقت مرتد كو قتل كرنا واجب اور ضرورى ہے؛ تا كہ دين حق كو جھوٹے اور افترا پردازوں كى حفاظت ہو سكے، اور اسلام كى طرف منسوب لوگوں كے ايمان بھى محفوظ رہيں، اور دين اسلام ميں داخل ہونے والوں كى راہ سے گندگى بھى صاف ہو.

4 - اور ہم يہ بھى كہينگے كہ: جب موجودہ دور ميں بشرى قوانين كى حفاظت كے ليے اور معاشرے كو تباہ كرنے والے جرائم مثلا نشہ آور اشياء وغيرہ سے روكنے كے ليے قتل كى سزا ركھى گئى ہے، تو جب بشرى قوانين كو محفوظ ركھنے كے ليے ايسا ہے تو پھر اللہ كے دين حق جس كے سامنے اور نہ ہى پيچھے باطل آ سكتا ہے، اور جو سارے كا سارا دنيا و آخرت كى خير و بھلائى پر مشتمل ہے، اس بات كا زيادہ حق ركھتا ہے كہ اپنے ارتدا كو جائز قرار دينے، اور اپنى گمراہى ميں پڑنے كى بنا اس دين كے خلاف سازش اور زيادتى كرنے اور اس كا نور مٹانے كى كوشش كرنے والے، اور اس كى شہرت كو خراب كرنے والے، اور اس كے خلاف جھوٹ و افترا پردازى كرنے والے كو سخت ترين سزا دى جائے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 21 / 231 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments