12470: روزہ افطار كرنے كا وقت


كيا غروب شمس كے بعد روزہ افطار كرنا افضل ہے يا كہ آسمان سے روشنى ختم ہونے كا انتظار كرنا ؟

الحمد للہ:

روزہ جلد افطار كرنا سنت ہے، وہ اس طرح كہ غروب شمس كے فورا بعد روزہ افطار كر لينا چاہيے، بلكہ ستارے نظر آنے تك روزہ افطار كرنے ميں تاخير كرنا تو يہوديوں كا فعل ہے، اور رافضى و غالى قسم كے شيعہ بھى انہيں كے پيچھے چلتے ہوئے تاخير سے افطارى كرتے ہيں، اس ليے عمدا جان بوجھ كر افطارى ميں تاخير نہيں كرنى چاہيے كہ اچھى طرح شام ہو جائے، اور نہ ہى اسے اذان كے آخر تك مؤخر كرنا چاہيے، كيونكہ يہ سب كچھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كے مخالف ہے.

سھل بن سعد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تك لوگ افطارى ميں جلدى كرتے رہينگى تو ان ميں خير و بھلائى رہے گى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1856 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1098 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اس حديث ميں غروب آفتاب كا ثبوت ملنے كے فورا بعد جلد افطارى كرنے پرابھارا گيا ہے، اور ا سكا معنى يہ ہے كہ: اس وقت تك امت كا معاملہ منظم رہے گا اور بہترى ہو گى جب تك وہ اس سنت پر عمل كرتے رہينگے، اور جب وہ افطارى ميں تاخير كرينگے تو يہ ان ميں فساد و خرابى پيدا ہونے كى علامت ہو گى.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 7 / 208 ).

اور ابن ابو عوفى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ سفر ميں تھا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے روزہ ركھا اور جب شام ہوئى تو آپ نے ايك شخص كو كہا:

اتر كر ميرے ليے ستو تيار كرو.

تو وہ كہنے لگا: اگر آپ تھوڑا انتظار كريں حتى كہ شام ہو جائے.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پھر فرمايا:

تر كر ميرے ليے ستو تيار كرو، جب تم ديكھو كہ اس طرف سے رات آ گئى ہے تو روزہ دار كا روزہ افطار ہو گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1857 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1101 ).

اور ابو عطيہ بيان كرتے ہيں كہ ميں اور مسروق عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس گئے اور عرض كيا:

اے ام المؤمنين محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ ميں سے دو شخص ہيں ايك تو افطارى بھى جلد كرتا ہے، اور نماز بھى جلد ادا كرتا ہے، اور دوسرا افطارى ميں تاخير كرتا ہے،اور نماز بھى تاخير سے ادا كرتا ہے.

تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں: كون ہے جو افطارى بھى جلد كرتا ہے اور نماز كى ادائيگى ميں بھى جلدى كرتا ہے ؟

تو ہم نے عرض كيا: عبد اللہ يعنى عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما، تو وہ فرمانے لگيں: رسول كريم صلى اللہ عليہ و سلم بھى ايسے ہى كيا كرتےتھے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1099 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

تنبيہ:

اس دور ميں جو غلط اور برى قسم كى بدعات ايجاد ہو چكى ہيں ان ميں يہ بھى ہے كہ رمضان المبارك ميں دوسرى اذان طلوع فجر سے تقريبا بيس منٹ قبل ہى كہہ دى جاتى ہے، اور كھانا پينا حرام ہونے كى علامت كے ليے جو چراغ لگائے گئے ہيں وہ بھى بند كر ديے جاتے، اور اسے ايجاد كرنے والےكا خيال يہ تھا كہ ايسا كرنے سے عباد ميں احتياط ہے، ا سكا علم چند ايك لوگوں كوہى ہوتا ہے.

اس فعل نے انہيں اس طرف لا كھڑا كيا ہے كہ وہ غروب آفتاب كے بعد تاخير سے اذان ديتے ہيں، اور افطارى ميں تاخير كرنے لگےہيں، اور سحرى ميں جلدى جو كہ سنت نبويہ كےمخالف ہے، اس بنا پر ان ميں خير و بھلائى كم اور شر زيادہ ہو گيا ہے، اللہ تعالى ہى مدد گار ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 4 / 199 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments