1248: کیا چاند کے مطلع میں اختلاف کا مسئلہ اور مسلمان کمیونٹی کا موقف معتبر ہے


ہم مسلم طلباء امریکہ اور کینیڈا میں رہائش پزیر ہیں جہاں پر ہمیں ہر سال رمضان کے شروع میں مشکل پیش آتی ہے جس کی بنا پر مسلمان تین گروپوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں ۔
1- ایک گروپ تو وہ ہے جو کہ جہاں رہتا ہے وہاں چاند دیکھ کر روزہ رکھتا ہے ۔
2- ایک گروپ وہ ہے جو کہ سعودیہ میں رمضان کے شروع ہوتے ہی روزہ رکھتا ہے ۔
3- ایک گروپ وہ ہے جو کہ کینیڈا اور امریکی طلبہ کی جمعیت کے اعلان کے بعد روزہ رکھتا ہے اور یہ جمعیت امریکہ اور کینیڈا میں مختلف مقامات پر چاند دیکھنے کا انتظام کرتی ہے ۔
تو جیسے ہی کسی بھی علاقے میں چاند نظر آنے کی اطلاع آتی ہے تو عمومی طور پر پورے امریکہ میں سب مسلمان ایک ہی دن میں روزہ رکھتے ہیں باوجود اس کے کہ ان مختلف شہروں کے درمیان بہت ہی فاصلہ پایا جاتا ہے ۔
تو ان میں سے کس کی خبر اور رؤیت کا اعتبار کیا جائے اور بات مان کر اتباع کی جائے ؟ اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم سے نوازے ہمیں اس کے متعلق فتوی دیں ۔

الحمدللہ

اول :

چاند کے مطلع میں اختلاف ایک ایسی چیز ہے جو کہ حسی اور عقلی طور پر معلوم ہونا ضروری ہے اور اس میں کسی بھی عالم کا اختلاف نہیں مسلمان علماء کا اختلاف تو اس بات میں ہے کہ مطلع میں اختلاف معتبر ہے یا کہ نہیں ؟

دوم :

مطلع میں اختلاف اور اس کا عدم اعتبار نظریاتی مسائل میں سے ہے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے اہل علم اور علمائے دین کے ہاں اس میں اختلاف پایا جاتاہے اور یہ وہ اختلاف ہے جس میں صحیح اجتہاد کرنے والے کو ڈبل ایک تو اجتہاد اور دوسرا اس میں صحیح ہونے کا اور غلطی کرنے والے کو صرف ایک ہی اس کے اجتہاد کا اجر ملتا ہے ۔

اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف دو اقوال پر مشتمل ہے :

کچھ تو مطلع میں اختلاف کا اعتبار کرتے ہیں اور کچھ اس کا اعتبار نہیں کرتے اور ہر ایک کے پاس اس کے قول کی کتاب وسنت سے دلیل موجود ہے اور یہ بھی ہے کہ ایک ہی دلیل سے دونوں فریقوں کا استدلال ہو ۔

مثلا وہ اس دلیل سے استدلال میں مشترک ہیں :

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

( لوگ آپ سے چاند کے بارہ میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجۓ کہ یہ لوگوں ( کی عبادت ) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لۓ ہے ) البقرہ / 189

اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( روزے چاند دیکھ کر رکھو اور ان کا اختتام بھی چاند دیکھ کر کرو ) الحدیث

تو یہ اختلاف ان میں سے ہر ایک کا نص کو سمجھنے میں اختلاف اور استدلال میں اپنے اپنے طریقے پر عمل کی وجہ سے ہے ۔

علماء کی مجلس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ آیا چاند علم نجوم کے حساب سے ثابت ہو جائے گا یا یہ نہیں اور چاند کے ثبوت کے متعلق قرآن وسنت میں جو دلائل موجود ہیں ان پر بھی بحث اور اس کے متعلق اہل علم کے اقوال کو دیکھنے کے بعد مجلس میں بالاجماع یہ فیصلہ ہوا کہ :

شرعی مسائل میں علم نجوم کے حساب سے چاند ثابت نہیں ہو گا ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( روزے چاند دیکھ کر رکھو اور ان کا اختتام بھی چاند دیکھ کر کرو ) الحدیث

اور دوسری حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( چاند کے دیکھنے سے پہلے روزہ نہ رکھو اور نہ ہی اس کے دیکھے بغیر روزوں کا اختتام کرو ) الحدیث

اور اسی جیسے دوسرے دلائل جن میں اس کی وضاحت موجود ہے ۔

اس مسئلہ کے متعلق مستقل فتوی اور علمی ریسرچ کمیٹی کا خیال اور نظریہ یہ ہے کہ غیر اسلامی ملکوں میں اسلامی طلبہ کمیٹی ( یا اس طرح کی کوئی اور کیمونٹی کی مجلس ) ان غیر اسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لۓ چاند دیکھنے کے مسئلہ میں اسلامی حکومت کے قائم مقام ہے ۔

جو کچھ مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے اس کی بنا پر اسلامی طلبہ اتحاد کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو وہ مطلع میں اختلاف کو معتبر جانے اور یا اس کا اعتبار نہ کرے پھر اس کے بعد جس ملک میں وہ رہتے ہیں اپنے اس قول کو جسے اس نے اپنایا ہو سب مسلمانوں پر نافذ کرے ۔

اور مسلمانوں پر بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اس کمیٹی یا اتحاد نے جو ان پر لاگو کیا ہے اسے اپنائیں تا کہ ان کی وحدت کا شیرازہ نہ بکھرے اور رمضان کے روزوں کو شروع کیا اور اختلاف اور اضطراب سے نکلا جا سکے ۔

لھذا جو بھی ان ملکوں میں رہائش پذیر ہے اسے اپنے ملک میں چاند پر بھروسہ کرنا چاہۓ اور اگر ان میں کوئی ایک ثقہ آدمی یا ایک سے زیادہ چاند کو دیکھتے ہیں تو روزے رکھیں اور اتحاد کمیٹی کو بھی اس کی اطلاع دیں تا کہ وہ اسے سب پر لاگو کرے یہ تو مہینہ کے شروع اور ابتدا کے لۓ ہے ۔

اور رمضان ختم ہونے اور شوال شروع ہونے کے لۓ ضروری ہے کہ جو بھی چاند دیکھے وہ دو عادل گواہ پیش کرے یا پھر رمضان کے تیس دن مکمل کۓ جائیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( تم چاند کو دیکھو تو روزے رکھو اور جب چاند دیکھو تو اختتام کرو اگر ( آسمان) تم پر ابر آلود ہو جائے تو تیس دن پورے کرو )

واللہ تعالی اعلم .

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 109
Create Comments